Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابو عبداللہعَامِربن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ عطیات وجاگیرسے بے رغبت تھے،   غزوۂ بدر میں   شریک ہوئے ۔  مسجد وں   اور دیگرکئی مقامات کواللہ عَزَّوَجَلَّ  کے ذکر سے آباد کیا ۔  نہایت سمجھداری ومہارت سے فتنوں   وآزمائشوں   والے امور میں   پڑنے سے بچتے تھے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عزت و کرامت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی اوربالآخر سلامتی کے ساتھ اپنے خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ سے جا ملے ۔

 ( 576 ) …  حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سَعِیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدفرماتے ہیں : میں   نے سنا کہ فتنوں   کے زمانے میں   ایک رات حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز اداکر کے سوئے توکسی نے خواب میں   ان سے کہا:  ’’ اُٹھو اوراس فتنے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگوں   جس سے اس کے نیک بندے پناہ طلب کرتے ہیں   ۔  ‘‘  چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اٹھے ،   نماز پڑھی اوراس قدربیمارہوئے کہ گھرسے نہ نکل پائے یہاں   تک کہ انتقال فرماگئے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 577 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ جب لوگوں   نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر اعتراضات کرنے شروع کئے تو میرے والد حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے رات اٹھ کر نماز پڑھی اوریہ دعاکی :  ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّّ  ! مجھے اس فتنے سے محفوظ فرما جس سے تونے اپنے نیک بندوں   کومحفوظ رکھا ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں :  ’’ اس کے بعدآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کبھی گھر سے باہر نہ نکلے یہاں   تک کہ انتقال فرماگئے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 578 ) … حضرت سیِّدُنا طاؤس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں   فتنے نے سراُٹھایا تو ایک شخص نے اپنے گھر والوں   سے کہا :  ’’  مجھے زنجیروں   سے باندھ دو !  میں   پاگل ہوں   ۔  ‘‘ جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوشہید کر دیا گیاتو اس نے کہا :   ’’ میری زنجیریں   کھول دو !  تمام تعریفیں   اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے مجھے جنون سے شفا بخشی اور امیرالمؤمنین  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے قتل جیسے عظیم جرم سے مجھے بچائے رکھا  ۔  ‘‘    ( [3] )

            یہ روایتمَعْمَرکے علاوہ دیگرلوگوں   نے بھی ابن طاؤس سے بیان کی ہے اور انہوں   نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ واقعہ حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاہے  ۔

 ( 579 ) … حضرت سیِّدُناعَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک عربی ان کے پاس آیا توانہوں   نے اس کا اکرام کیا اور اسے بہترین جگہ ٹھہرایا ۔ پھر اس کی ضروریات کے متعلق رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   عرض کی  ۔  پھرایک اور شخص نے ان کے پاس آکر کہا :  ’’ میں   نے حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   عرب کی بہترین زمین سے ایک حصہ پیش کیا ہے اورایسی ہی زمین کا ایک ٹکڑاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی پیش کرنا چاہتا ہوں  جو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  اور آپ کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد کو کام آئے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناعَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے تیری زمین کی کچھ حاجت نہیں   کیونکہ آج قرآنِ مجید کی ایسی آیت نازل ہوئی ہے جس نے ہمیں   دنیا سے غافل و بے پرواکر دیا ہے ( وہ یہ ہے ):

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) ( پ۱۷،  الا نبیاء :  ۱ )

ترجمۂ کنزالایمان: لوگوں   کاحساب نزدیک اور وہ غفلت میں   منہ پھیرے ہیں   ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا شیخرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’  جس چیز نے حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو زُہدو فقر اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر پر آمادہ کیا وہ حضورنبی ٔاَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین اور غزوات و سرایا میں   شرکت کر کے تکالیف سہنا ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 580 ) …  حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   کسی سریہ پر روانہ فرماتے تو ہمارے پاس زادِراہ کھجور کا ایک تھیلا ہواکرتا تھا ۔  امیر لشکر ایک ایک مٹھی کھجو ر ہم میں   تقسیم کرتایہاں   تک کہ آہستہ آہستہ وہ مقدار ایک کھجور تک پہنچ جاتی ۔ ان کے بیٹے حضرتِ سیِّدُناعبداللہبن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے عرض کی :  ’’ اباجان ! کیا ایک کھجور سے بھوک مٹ جاتی تھی ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ بیٹا ! یہ مت پوچھو !  اس کی اہمیت ہمیں   اس وقت معلوم ہوتی تھی جب کھجوریں   ختم ہو جاتی تھیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 581 ) … حضرت سیِّدُناعَامِر بن رَبِیْعَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میں   ایک سخت تاریک رات میں   حضور نبی ٔپاک،  صاحبِ لولاک،  سیاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھا ۔  ہم نے ایک مقام پر پڑاؤ کیا،   ایک شخص نے پتھر صاف کر کے نماز کے لئے جگہ بنائی پھرنمازادا کی گئی ۔ جب صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ ہمارا رُخ قبلہ کی طرف نہ تھا ،   ہم نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ہم نے رات غیر قبلہ کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھی ہے ۔  تو اس وقتاللہععَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :  

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ- ( پ۲،  البقرۃ :  ۱۱۵ )

 



[1]    الطبقات الکبرٰی لابن سعد ،   الرقم۶۰عامر بن ربیعۃ  ،  ج۳ ، ص۲۹۶۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب عامر بن ربیعۃ الخ ،  الحدیث : ۵۵۸۸ ، ج۴ ، ص۴۳۳ ، بتغیرٍ۔

[3]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،  باب مقتل عثمان ،  الحدیث : ۲۱۱۳۹ ، ج۱۰ ،  ص۳۶۸۔

[4]    الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی  ،   الرقم ۱۱۰۵ ، عبدالرحمن بن زید بن اسلم  ،  ج۵ ، ص۴۴۸۔

[5]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،   حدیث عامر بن  ربیعۃ ،  الحدیث : ۱۵۶۹۲