Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 547 ) … حضرت سیِّدُناسُفْیَان ثَوْرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کعبہ کے پاس کھڑے ہوکرفرمایا :  اے لوگو !  میں   جُنْدُب غِفَاری ہوں   ۔  اپنے شفقت و نصیحت کرنے والے بھائی کے پاس جمع ہو جاؤ !  سب لوگ جمع ہوگئے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ جب تم میں   سے کوئی سفر پر جاتا توکیا وہ زادِ راہ  ( یعنی سفر میں   کام آنے والا ضروری سامان ) ساتھ نہیں   لیتاجس سے ضروریات پوری ہوں   اوراپنی منزل تک پہنچ سکے ؟  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :   ’’ کیوں   نہیں   !  ‘‘  فرمایا :  ’’ تو سنو !  قیامت کا سفر سب سے طویل ہے ۔  اس کے لئے خوب زادِراہ تیار کروجو تمہارے کام آ سکے ۔  ‘‘ حاضرین نے پوچھا :  ’’ وہ کیا ہے جو اس میں   ہمارے کام آئے  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ بڑے بڑے دشوارکاموں   سے بچنے کے لئے حج کرو ۔  روزِ قیامت کی گرمی و تپش سے حفاظت کے لئے سخت گرمی کے دنوں   میں   بھی روزے رکھو ۔  قبر کی وحشت وگھبراہٹ سے نجات حاصل کرنے کے لئے رات کی تاریکی میں   نماز ادا کیا کرو ۔ حساب کے دن کی پیشی کے لئے اچھی بات کہو اور بُری سے بازرہو ۔ قیامت کی سختیوں   سے بچنے کے لئے اپنا مال صدقہ کرو ۔  دنیامیں   صرف دو قسم کی محفل اختیار کرو ایک وہ جو طلبِ آخرت کے لئے ہو اور دوسری وہ جو طلبِ حلال کے لئے ہو اوران کے علاوہ کوئی تیسری محفل اختیار نہ کرناکہ اس میں   تمہارے لئے کوئی نفع نہیں   بلکہ وہ تمہارے لئے نقصان دِہ ثابت ہوگی ۔  اسی طرح اپنے مال کو بھی دو حصوں   میں   بانٹ لو،   ایک حصہ اہل و عیال پر خرچ کرواوردوسرا راہِ خدا میں   خرچ کرکے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کرلوان کے علاوہ کوئی تیسراحصہ مت بناؤکہ اس میں   سراسرنقصان ہے،   فائدہ کچھ نہیں   ۔  ‘‘ اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بلند آواز سے فرمایا :   ’’ لوگو !  حرص ( سے بچو کہ اس ) میں   تمہارے لئے ہلاکت ہے کیونکہ یہ کبھی ختم نہیں   ہوتی او رنہ ہی تم اسے پوار کر سکتے ہو ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 548 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْصَمَدسے مروی ہے کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمارہے تھے کہ ہمیں   حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان پہنچا :   ’’ اے لوگو !  میں   تمہیں   نصیحت کرتا اورتم پر شفقت کرتا ہوں   ۔  قبر کی وحشت سے بچنے کے لئے رات کی تاریکی میں   نماز ادا کیاکرو ۔ قیامت کی گرمی سے بچنے کے لئے روزے رکھو اورسخت دن ( یعنی محشر ) کے خوف سے ( حفاظت کے لئے )  صدقہ کرو ۔ اے لوگو ! میں   تمہارا خیر خواہ اور تم پر شفیق ہوں   ۔  ‘‘   ( [2] )

 ( 549 ) … حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ آیت بار بار پڑھتے اور مجھے سناتے:

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- ( پ۲۸،  الطلاق :  ۲،  ۳ )

ترجمۂ کنز ا لا یمان :  اور جو اللہسے ڈرے اللہاس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں   سے رو ز ی دے گا جہاں   اس کا گمان نہ ہو ۔  ( [3] )

 ( 550 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے ابوذَر !  ایک ایسی آیت ہے کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں   تو وہ انہیں   کفایت کرے ۔ اس کے بعدآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے سامنے بار بار اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی :  

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- ( پ۲۸،  الطلاق :  ۲،  ۳ )

ترجمۂ کنز ا لا یمان :  اور جو اللہسے ڈرے اللہاس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں   سے رو ز ی دے گا جہاں   اس کا گمان نہ ہو ۔  ‘‘  ( [4] )

27 سوالات وجوابات :  

 ( 551 ) … حضرت سیِّدُناابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   مسجد میں   داخل ہواتو حضورنبی ٔرحمت،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تنہا تشریف فرماتھے ۔ میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب بیٹھ گیاتوارشاد فرمایا :  ’’ ابوذَر !  دو رکعتتحیۃ المسجدادا کرلو ۔  ‘‘  فرماتے ہیں : میں   وہاں   سے اٹھا نمازادا کی اور پھر خدمت بابرکت میں   حاضرہو کربیٹھ گیااورعرض کی :  ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! آپ نے مجھے نماز پڑھنے کا حکم دیا ،  یہ ارشاد فرمائیں   کہ نمازکیا ہے ؟  ‘‘

             ارشاد فرمایا :  ’’ نماز کم ہو یا زیادہ اس میں   خیرہی خیر ہے ۔  ‘‘        

           میں   نے عرض کی :  ’’  افضل ترین عمل کون سا ہے ؟   ‘‘

            ارشاد فرمایا :  ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں   جہاد کرنا ۔  ‘‘  

            میں   نے عرض کی :   ’’ ایمان میں   کامل کون ہے ؟  ‘‘

            ارشاد فرمایا :  ’’  سب سے اچھے اخلاق والا ۔  ‘‘

             میں   نے عرض کی :   ’’ اسلام میں   کامل کون ہے ؟  ‘‘

             ارشاد فرمایا :  ’’  جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں   ۔  ‘‘

             میں   نے عرض کی :   ’’  افضل ترین ہجرت کون سی ہے ؟  ‘‘

 



[1]    اخبار مکۃ للفاکھی ،  باب ذکرخطبۃ ابی ذر ،  الحدیث : ۱۹۰۴ ،  ج۳ ،  ص۱۳۴۔

                صفۃ الصفوۃ ،   الرقم۶۴ ،  ابوذر جُنْدُب بن جُنَادۃ  ،  ج۱ ، ص۳۰۱۔

[2]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  زہدابی ذر ،  الحدیث : ۸۰۲ ، ص۱۷۱ ۔

[3]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۲۴۷۴ ، ج۲ ، ص۵۱۔

                الزہد للامام احمد بن حنبل ،   باب زہد ابی ذر ،  الحدیث : ۷۹۰ ،  ص۱۶۹۔

[4]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  زہد ابی ذر  ،  الحدیث : ۷۹۰ ، ص۱۶۹۔



Total Pages: 273

Go To