Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

انہیں   خیرات کرکے اپنے لئے آخرت میں   ذخیرہ کرنا پسند کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [1] )

ایک چادر کے حساب کا ڈر :  

 ( 537 ) … حضرت سیِّدُناابو شُعْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوکرکچھ مال پیش کیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  ہمارے پاس دودھ کے لئے بکری،   سواری کے لئے گدھا اور خدمت کے لئے بیوی ــــہے اور ایک چادر ضرورت سے زائد ہے اور میں   اس کی وجہ سے خوف زدہ ہوں   کہ کہیں   مجھ سے اس کاحساب نہ لے لیا جائے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 538 ) … حضرت سیِّدُناابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم پرایک ایسا زمانہ ضرورآئے گاکہ مالدار پر اس طرح رشک کیاجائے گاجس طرح آج عاشر  ( یعنی زکوۃ وصول کرنے والے )  پر کیاجاتاہے  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 539 ) … حضرت سیِّدُناابو سَلِیل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صاحبزادی اس حالت میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئی کہ اُون کے دو کپڑے پہن رکھے تھے  ۔  گال پچکے ہوئے تھے اور کھجور کے پتوں   کی ٹوکری اٹھائی ہوئی تھی ۔ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے رُفقا کے درمیان تشریف فرماتھے ۔  ‘‘  بیٹی نے عرض کی :  ’’ ابا جان !  کسان اور کاشتکا ر کہتے ہیں   کہ آپ کے یہ سکے کھوٹے ہیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ بیٹی !  انہیں   رکھ دو ۔  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ہے کہ آج تیرے باپ نے اس حال میں   صبح کی ہے کہ ان کھوٹے سکوں   کے سوا کوئی سونا چاندی اس کی ملکیت میں  نہیں   ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 540 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ 2درہم والے کا حساب ایک درہم والے کے حساب سے سخت ہوگا ( یعنی جتنامال زیادہ اتنا وبال زیادہ )  ۔  ‘‘    ( [5] )

کاش میں   درخت ہوتا !

 ( 541 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم  !  جو میں   جانتا ہوں   اگر تم جان لو تو اپنی عورتوں   سے بے تکلف ہونا چھوڑ دو اور تمہیں   اپنے بستروں   پر بھی سکون حاصل نہ ہو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !   میں   یہ پسند کرتا ہوں   کہاللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے درخت بنا دیتا جسے کاٹ دیا جاتا اور اس کا پھل کھالیا جاتا  ۔  ‘‘    ( [6] )

فرامینِ ابوذَرغفاری :  

 ( 542 ) … حضرت سیِّدُناحازِم عَبدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  ایک شامی بزرگ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  جو جنت میں   جاناچاہتا ہے اسے چاہیے کہ دنیوی مال و زر سے رغبت نہ رکھے  ۔  ‘‘

 ( 543 ) … حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ دعاکی قبولیت کے لئے نیکی و بھلائی کی حیثیت ایسی ہے جیسی سالن میں   نمک کی ۔  ‘‘   ( [7] )

 ( 544 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْن بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیا آپ نے نہیں   دیکھاکہ اُن لوگوں   میں   نیکی و بھلائی کی رغبت اور جذبہ زیادہ ہوتا ہے جن میں   کوئی پرہیزگار اور گناہوں   سے توبہ کرنے والا ہوتاہے ۔  ‘‘    ( [8] )

فکرِآخرت :  

 ( 545 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بن وا سِعرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے بعدایک بصری شخص آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی والدہ کے پاس آیااورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عبادت کے بارے میں   پوچھا ۔ والدہ ماجدہ نے بتایاکہ ’’   ان کا سارا دن فکرِ آخرت میں   گزرتاتھا ۔  ‘‘    ( [9] )

 ( 546 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ہمیں   خبر ملی کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو آرام کے لئے جگہ تلاش کرتے دیکھا تو کہا :  ’’ اے ابوذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ کیا کر رہے ہیں   ؟  ‘‘  جواب دیا :  ’’  میں   کوئی ایسی جگہ تلاش کر رہا ہو جہاں   آرام کر سکوں   کیونکہ میرا نفس میری سواری ہے اگر میں   نے اس کے ساتھ نرمی نہ برتی تویہ مجھے میری منزل تک نہیں   پہنچائے گا ۔  ‘‘    ( [10] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کانصیحت بھرا بیان :  

 



[1]    الزہد لہناد بن السری  ،  باب الطعام فی اﷲ  ،  الحدیث : ۶۵۱ ، ج۱ ، ص۳۴۸۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۶۳۱ ، ج۲ ، ص۱۵۰۔

[3]    المستدرک ،  کتاب الفتن و الملاحم  ،   باب یبعث اﷲ ریحًا طیبۃًالخ ،  الحدیث : ۸۴۳۱ ،  ج۵ ،  ص۶۳۶ ،  بتغیرٍ۔

[4]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۶۴ابو ذرجُنْدُب بن جُنَادۃ ،  ج۱ ، ص۳۰۲ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد ،  کلام ابی ذر ،  الحدیث : ۳

Total Pages: 273

Go To