Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

آپ کی زوجہ کے معاملے میں   آپ سے خیانت کی ہے  ۔  ‘‘ یہ بات ماموں   کو بہت بری لگی ۔  جب میں   اُونٹ چراکرگھر واپس آیاتو انہیں   غمگین اور روتا ہوا پایا ۔  میں   نے رونے کاسبب دریافت کیا تو انہوں   نے مجھے سارا واقعہ بتایا ۔  میں   نے کہا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ کہ ہم ایسافحش کام کریں   اگرچہ زمانے نے ہمیں   محتاج بنا ڈالا ہے ۔  ‘‘  اس کے بعد میں   اپنی والدہ اور بھائی کو لے کرمکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہ شَرَفًا وَّ تَعْظِیْمًاچلا آیا ۔  کفّارِ مکہ نے بتایاکہ ’’   یہاں    ( معاذ اللہ )  کوئی بددین یا مجنون یا جادوگر رہتا ہے ۔  ‘‘ ایک دن میں   نے ان سے پوچھا:  ’’ جس کے بارے میں   تم ایسا سوچتے ہو وہ کہاں   ملے گا ؟   ‘‘ لوگوں   نے کہا :   ’’  سامنے دیکھویہ وہی ہے ۔  ‘‘ فرماتے ہیں : ’’ میں   ان کی خدمت بابرکت میں   حاضر ہو گیا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! میں   نے سیِّدِ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کی خاطر کفار و مشرکین سے ہڈی،   پتھرو مٹی کے ڈھیلے کھائے جس کی وجہ سے میرا اس قدر خون بہاکہ میں   اس میں   نہا گیا ۔  پھر میں   خانہ کعبہ آیا اور اس کے غلاف وعمارت کے درمیان داخل ہوگیا  ۔ وہاں   میں   نے تیس روزے اس طرح رکھے کہ آبِ زم زم کے سوانہ کچھ کھایااور نہ کچھ پیا ۔  ‘‘

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  پھرمیں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہو ا تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے میراہاتھ پکڑکرفرمایا :  ’’ ابوذَر !  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ میں   حاضر ہوں   ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ کیا تم زمانۂ جاہلیت میں   بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کیا کرتے تھے ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’  ہاں   !  مجھے یاد ہے کہ میں   سورج نکلنے کے وقت نماز پڑھنے کھڑا ہوتا اور مسلسل نماز پڑھتارہتا یہاں   تک کہ سورج کی تپش مجھے ستانے لگتی اور میں   بے حال ہو کر گر پڑتا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے استفسار فرمایا :   ’’ تم کس طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ یہ تومجھے یادنہیں  ،  البتہ ! اللہ عَزَّوَجَلَّجس طرف میرا رُخ پھیر دیتامیں   اسی طرف رخ کرلیتایہاں   تک کہ اس نے مجھے اسلام لانے کی سعادت و توفیق بخشی ۔  ‘‘    ( [1] )

اظہارِاِسلام کاواقعہ :  

 ( 516 ) … حضرت سیِّدُناابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،   فرماتے ہیں  :  میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مکۂ مکرمہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں   قیام کیا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اسلام کے احکام سکھائے اور قرآن مجید کا کچھ حصہ بھی پڑھایا ۔ میں   نے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں   اپنے دین کا اظہار کرنا چاہتا ہوں   ۔  ‘‘ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’  ( ابھی چونکہ کفرکا غلبہ ہے اس لئے )  مجھے ڈر ہے کہ کہیں   کفارتمہیں   شہید نہ کر دیں   ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ میں   اسلام کا اظہار ضرور کروں   گا خواہ مجھے شہیدکر دیا جائے ۔  ‘‘ اس کے بعدحضورنبی ٔ رحمت ،  شفیع امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کوئی بات نہیں   کی اور خاموش رہے ۔ میں   مسجدمیں   گیا تووہاں   قریش حلقہ بنا ئے محوِگفتگوتھے ۔  میں   نے کہا :  ’’ میں   گواہی دیتاہوں   کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اورحضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں   ۔  ‘‘ یہ سنتے ہی وہ مجھ پر ٹوٹ پڑے یہاں   تک کہ مار مار کرسرخ پتھر کی طرح کر دیا ۔ وہ اپنے خیال میں   مجھے ختم کرچکے تھے ۔ کچھ افاقہ ہوا تو میں   بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   حاضر ہوا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری حالت دیکھ کرارشادفرمایا:  ’’  کیا میں   نے تمہیں   منع نہ کیا تھا ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  یہ میرے دل کی خواہش تھی،  لہٰذا میں   نے پوری کر لی ۔  میں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ قیام پذیرتھاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ اپنی قوم کے پاس چلے جاؤ جب مجھے غلبہ حاصل ہو جائے تو میرے پاس چلے آنا ۔  ‘‘    ( [2] )

سیِّدُنا ابو ذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاجذبۂ ایمانی :  

 ( 517 ) … حضرت سیِّدُنا اَبُوجَمْرَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ہمیں   حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اسلام کے ظاہرہونے کے بارے میں   بتایا کہ ’’ انہوں   نے بارگاہ ِرسالتعَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   حاضر ہوکر عرض کی: ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جوچاہیں   حکم ارشاد فرمائیں   ۔  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ جب تک تمہیں   اسلام کے غالب آجانے کی اطلاع نہ ملے اپنے گھروالوں   کے پاس رہو ۔  ‘‘  حضرت ابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   اپنے قبولِ اسلام کااعلان و اظہار کئے بغیر نہیں  جاؤں   گا ۔  ‘‘ چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مسجد کی طرف گئے اور بلند آواز سے یہ اعلان کرنے لگے :  ’’ میں   گواہی دیتا ہوں   کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں   ۔  ‘‘  مشرکین یہ سن کرکہنے لگے کہ ’’  یہ بددین ہو گیااوراپنے دین سے پھر گیا ہے ۔  ‘‘  پھرمشرکین چاروں   طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے اور اتنا ماراکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گر گئے ۔ حضرت سیِّدُناعباس بن عبدالمطلب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ وہاں   سے گزرے تو فرمایا :  ’’  اے گروہِ قریش !  تم تاجر ہو اور تمہارا گزر قبیلۂ بنو غِفَارکے پاس سے ہوتا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاراراستہ بندکردیاجائے ؟   ‘‘  حضرت سیِّدُنا عباس بن عبدالمطلبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے چھڑانے پرکفارانہیں   چھوڑ کر چلے گے ۔ دوسرے دن حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر اسی طرح اعلان کر دیاجس کے نتیجے میں   کفارپھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر ٹوٹ پڑے اورمارنے لگے ۔ حضرت سیِّدُناعباس بن عبد المطلبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا آج بھی وہاں   سے گزرہواتو  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   چھڑالیا  ۔    ( [3] )

اظہارِ اسلام پر تکالیف کا سامنا :  

 ( 518 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہبن صا مِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ میں   مکۂ مکرمہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا آیا تو وہاں   کے کفار مجھ پر ٹوٹ پڑے ،   ڈھیلوں  ،   ہڈیوں   وغیرہ سے مجھے اتنا ماراکہ میں   بے ہوش ہو کر گر پڑا ۔  جب ہوش آیا تو اُٹھا اور دیکھا کہ خون بہنے کی وجہ سے میں   سرخ پتھر کی



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۷۷۳ ، ج۱ ، ص۲۶۶۔

[2]    المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۲۷۶۴ ، ج۲ ، ص۱۳۰۔

[3]    المعجم الاوسط ،  الحدیث : ۲۶۳۳ ، ج۲ ، ص۹۴ ، مفہومًا۔



Total Pages: 273

Go To