Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَؕ-اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙﰳ(۳۴) الَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖۚ-لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ(۳۵)

 ( پ۲۲،  الفاطر :  ۳۴،  ۳۵ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  سب خوبیاں   اللہ کو جس نے ہمارا غم دُور کیا بے شک ہمارا رب بخشنے و ا لا قدر فرمانے والاہے وہ جس نے ہمیں   آرام کی جگہ اُتارااپنے فضل سے ہمیں  اس میں   نہ کوئی تکلیف پہنچے نہ ہمیں   اس میں   کوئی تکان لاحق ہو ۔

            حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : حضورنبی ٔپاک،   صاحب ِ لَولاک،   سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ انہیں   جنت میں   ایسے گھر عطاہوں   گے کہ جن کے ذریعے ان کے دنیاوی مقام ومرتبہ کی پہچان ہوگی ۔  ‘‘    ( [1] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہعبادت گزار،  دنیاسے بیزار،   اللہ عَزَّوَجَلَّکے بے مثال فرمانبردار بندے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے چوتھے نمبر پر اسلام قبول کیا ۔ دین اسلام کی تشریف آوری سے پہلے بھی کبھی بت پرستی کے قریب نہ گئے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسرکار عالی وقار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی لوگوں   میں   عبادت گزار مشہورتھے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہی نے سلام عرض کیا اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحق بات بیان کرنے میں   نہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ ہوتے،   نہ حکمرانوں   اور بادشاہوں   کے رُعب و دبدبہ سے گھبراتے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہی وہ شخصیت ہیں   کہ جنہوں   نے سب سے پہلے علم البقا ( یعنی احوالِ آخرت کے علم )  میں   کلام کیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مشقتوں   اور تکلیفوں   میں   بھی دین پر ثابت قدم رہتے،   وعدہ نبھاتے اور وصیت پوری فرماتے،   مصائب و آلام پر صبر کرتے اورساری عمرلوگوں   سے  ( بلاضرورت )  میل جول رکھنے سے کتراتے رہے ۔  نیزفضولیات کو ترک کرتے ہوئے حضورنبی ٔ رحمت ،   شفیع امت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   رہ کر علم حاصل کرنے کا شرف بھی پایا ۔  ‘‘

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ شدَّت عشق و غم کی وجہ سے پریشان و خستہ حال رہتے ہوئےاللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت میں   مشغول رہنے کانام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

سیِّدُنا ابوذَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاجذبۂ   عبادت :  

 ( 512 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا :  ’’  اے بھتیجے ! میں   اسلام سے چار برس پہلے بھی نماز پڑھاکرتاتھا ۔  ‘‘ انہوں   نے  پوچھا:  ’’ اسلام کی تشریف آوری سے قبل آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کس کی عبادت کرتے تھے  ؟  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  آسمانوں   کے مالک عَزَّوَجَلَّ  کی ۔  ‘‘  انہوں   نے پھر پوچھا :   ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاس وقت کس طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ جس سمت میرا رُخ پھیر دیتا اسی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لیتا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 513 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا :  ’’  اے بھتیجے !  میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہونے سے قبل بھی تین برس تک نماز پڑھی ہے ۔  ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت کیا :  ’’ اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کس کی عبادت کرتے تھے ؟  ‘‘  فرمایا: ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّکی ۔  ‘‘  انہوں   نے پھرپوچھاکہ ’’  اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کس طرف رُخ کرکے نمازپڑھتے تھے  ؟   ‘‘ فرمایا:  ’’ جس طرفاللہعَزَّوَجَلَّپھیر دیتا اسی طرف رخ کرلیتا ۔ جب میں   رات کے وقت نماز کے لئے کھڑاہوتا تو نماز ہی کی حالت میں   سحری کا آخری وقت آجاتاپھر مجھ میں   سکت باقی نہ رہتی تو میں   گر جاتا یہاں   تک کہ سورج بلندہوجاتا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 514 ) …  حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   اسلام قبول کرنے میں   چوتھے نمبر پر ہوں   کیونکہ جب میں   نے اسلام قبول کیا اس وقت ابھی صرف تین افرادنے اسلام قبول کیاتھا ۔  ‘‘    ( [4] )

سیِّدُنا ابوذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کاقبولِ اسلام :  

 ( 515 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میرے اسلام لانے کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ہمیں   قحط سالی نے آلیاتو میری ماں   مجھے اور میرے بھائی انیس کو لے کر نجد میں   اپنے رشتے داروں    ( یعنی ماموں   ) کے ہاں   چلی گئیں   ۔  انہوں   نے ہمارا خوب اکرام کیا ۔ کچھ دنوں   بعد اس محلے کا ایک آدمی میرے ماموں   کے پاس آیا اور کہا :   ’’ انیس نے



[1]    المستدرک ،  کتاب المعرفۃ الصحابۃ  ،  باب براء ۃ المہاجرینالخ ،   الحدیث۵۷۵۷ ، ج۴ ، ص۴۹۱ ،

                 ’’فیجعل اﷲ‘‘ بدلہ ’ ’فیمثل اﷲ‘‘۔

[2]    دلائل النبوۃ للاصبہانی ،   الحدیث : ۱۶۰ ، ص۱۴۷تا۱۴۹۔

[3]    صحیح مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب من فضائل ابی ذر ،  الحدیث۶۳۵۹ ،  ص۱۱۱۱۔

                 الطبقات الکبرٰی لابن سعد ،  الرقم ۴۳۲ ابوذر ،   ج۴ ، ص۱۶۶۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۶۱۷ ، ج۲ ، ص۱۴۷۔



Total Pages: 273

Go To