Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

3 دن میں   70ہزار اموات :  

 ( 508 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،  کہ حضورنبی مُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دن صبح کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں   کو حرکت دیتے ہوئے کچھ پڑھتے تھے ہم نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دنوں   سے صبح کی نماز کے بعد اپنے ہونٹوں   کو حرکت دیتے ہوئے کچھ پڑھتے ہیں   جب کہ اس سے پہلے یہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامعمول نہیں   تھا ؟  ‘‘ تو اِرشاد فرمایا :  مجھ سے پہلے ایک نبی ( عَلَیْہِ السَّلَام ) تھے،   جنہوں   نے اپنی امت کی کثرت سے خوش ہوتے ہوئے کہا :   ’’ ان کی کثرت کے سبب ان پر کوئی غالب نہیں   آ سکتا ۔  ‘‘  تواللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ’’ تیری اُمت کی بھلائی تین باتوں   میں   سے ایک میں   ہے کہ میں   ان پر موت،   دشمن یا بھوک مسلط کردوں   ۔  ‘‘  انہوں   نے یہ بات اپنی امت کو بتائی تو انہوں   نے کہا :   ’’ بھوک برداشت کرنے اور دشمن سے لڑنے کی توہم میں   طاقت نہیں  ،   ہاں   !  موت قبول کر لیتے ہیں   ۔   ‘‘ چنانچہ،   تین دن کے اندر اندر اس امت کے 70 ہزارافراد فوت ہو گئے ۔  جبکہ میں   آج اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عرض کرتا ہوں   کہ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  میں   تیرے ہی نام سے ارادہ وکوشش کرتا ہوں   اور تیری ہی مدد سے دشمنوں   پر حملہ کرتا ہوں   اورتیرانام لے کر ان سے قتال کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 دیدارِ الٰہی :  

 ( 509 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت ِکریمہ تلاوت فرمائی

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ     ( پ۱۱،  یونس۲۶ )

 ترجمۂ کنزالایمان: بھلائی والوں   کے لئے بھلائی ہے اور اس سے بھی زائد ۔

            پھراس کی تفسیرکرتے ہوئے ارشادفرمایا :  جنتیوں   کے جنت میں   چلے جانے کے بعد ایک منادی نداکرے گا کہ ’’ اے اہلِ جنت ! ابھیاللہ عَزَّوَجَلَّکا ایک وعدہ باقی ہے ۔  ‘‘  تو وہ کہیں   گے :  ’’ اب کون ساوعدہ باقی ہے ؟ کیااس نے ہمارے چہرے روشن نہیں   کئے ؟  کیا اس نے ہمارے اعمال نامے بھاری نہیں   کئے ؟ کیااس نے ہمیں   جنت میں   داخل نہیں   فرمایا ؟  ‘‘  یہ بات ان سے تین مرتبہ کہی جائے گی  ۔ پھراللہ عَزَّوَجَلَّان پر اپنی تجلی فرمائے گا تواہلِ جنت دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوں   گے اور یہ نعمت ان کے نزدیک سب نعمتوں   سے بڑھ کر ہوگی ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 510 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نُور کے پیکر،  تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دعا فرمایا کرتے تھے :   ’’ اَللّٰھُمَّ  لَسْتَ بِاِلٰہٍ اِسْتَحْدَثْنَاہُ،    وَلَابِرَبٍّ اِبْتَدَعْنَاہُ،    وَلَا کَانَ لَنَا قَبْلَکَ مِنْ اِلٰہٍ نَّلْجَأُ اِلَیْہِ وَ نَذَرُکَ،   وَلَااَعَانَکَ عَلٰی خَلْقِنَا اَحَدٌ فَنُشْرِکَہٗ فِیْکَ،    تَبَارَکْتَ وَ تَعَالَیْتَ ۔ یعنی :   یااللہعَزَّوَجَلَّ !  توایسامعبودوپروردگار نہیں   جسے ہم نے خود بنایاہواور نہ تجھ سے پہلے ہماراکوئی معبود تھاکہ ہم اس کی پناہ لے لیں  اورتجھے چھوڑ دیں   اور ہماری تخلیق میں   تیراکوئی مددگارنہیں   ہے کہ ہم اسے تیرا شریک ٹھہرائیں   ۔  تیری ذات بابرکت ہے اور تو بلند شان کامالک ہے ۔  ‘‘

                حضرت سیِّدُنا کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نبی حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامبھی اسی طرح دعا کیا کرتے تھے ۔  ‘‘    ( [3] )

            یہ الفاظ عَمرو بن حُصَین رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی روایت کے ہیں   جبکہ حضرت سیِّدُنا عمرو بن مالک رَاسِبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقوِی کی روایت میں   یوں   ہے :   وَلَا بِرَبٍّ یَبِیْدُ ذِکْرُہٗ وَلَا کَانَ مَعَکَ اِلٰـہٌ فَنَدْعُوْہُ وَنَتَضَرَّعُ اِلَیْہِ وَلَا اَعَانَکَ عَلٰی خَلْقِنَا اَحَدٌ فَنَشُکَّ فِیْک ۔ یعنی :  اورتو ایسا پروردگار نہیں   جس کا ذکر ختم ہو جائے اورنہ تیرے سواکوئی اور معبود ہے کہ ہم اسے پکاریں   اور اس کے سامنے آہ و زاری کریں   اور ہماری تخلیق میں   تیراکوئی مددگارنہیں   ہے کہ ہم تیری ( طاقت وقدرت )  میں   شک و شبہ کا اظہار کریں    ۔  ‘‘    ( [4] )

اُڑکرجنت میں   جانے والے:

 ( 511 ) … حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم،  رء وف رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   مہاجرین ہی سبقت لے جانے والے،   شفاعت کرنے والے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں   ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے ! بروزِ قیامت یہ اپنی گردنوں  میں   ہتھیار لٹکاکر جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں   گے ۔  دارو غۂ جنت ( یعنی جنت پر مقرر فرشتے ) ان سے دریافت کریں   گے تم کون ہو ؟  ‘‘  کہیں   گے: ’’ ہم مہاجرین ہیں   ۔  ‘‘ وہ پوچھیں   گے :   ’’ کیا تمہاراحساب و کتاب ہوچکا ہے ؟  ‘‘ یہ سن کر وہ گھٹنوں   کے بل گر جائیں   گے،  ان کے ترکش کے تیر بِکھر جائیں   گے اورہاتھوں   کو اُٹھا کرپروردگار عَزَّوَجَلَّسے فریاد کریں   گے :   ’’  اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! کیا اب بھی ہماراحساب ہوگا جب کہ ہم نے تیری رضا کے لئے اپنے اہل و عیال اورمال کو چھوڑ کر ہجرت کی ۔  ‘‘ ان کی فریاد بارگاہِ ربُّ العبادمیں   مستجاب ہوگی اوراللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں   سونے کے پر عطا فرمائے گا جس میں   زَبَرجَداوریاقوت جڑے ہوں   گے اوریہ ان کے ذریعے اُڑ کر جنت میں   داخل ہو جائیں   گے ۔  ( اس پروہ اللہعَزَّوَجَلَّکی حمدبجالائیں   گے جسے قرآنِ پاک میں   یوں   بیان کیاگیا ):

 



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث۷۳۱۸ ، ج۸ ، ص۴۰۔

                المسند للامام احمدبن حنبل ،  حدیث صُہیب بن سنان ،  الحدیث : ۱۸۹۶۲ ،  ج۶ ،  ص۵۰۵۔

[2]    مسند ابی داود الطیالسی ،   صُہیب  ،   الحدیث : ۱۳۱۵ ، ص۱۸۶۔

[3]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۷۳۰۰ ، ج۸ ، ص۳۴۔

[4]    العظمۃ لابی الشیخ الاصبہانی ،  ذکر آیات ربناتبارک وتعالی وعظمتہ وسؤددہ ،  الحدیث : ۱۱۶ ، ص۵۴۔



Total Pages: 273

Go To