Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 458 ) … حضرت سیِّدُناعَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ میں   اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم غزوۂ عشیرہ میں   ایک دوسرے کے رفیق تھے  ۔  ایک جگہ ہم کھجور کے درخت کے نیچے مِٹی پر سو گئے تو رحمت عالم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے اور حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنے قدم مبارک سے بیدار فرمایا جبکہ ہمارے جسم مٹی سے آلودہ ہو چکے تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

حقیقی ہجرت کرنے والے :  

 ( 459 ) …  حضرت سیِّدُنا عبداللہبن سَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : دو شخص حمام سے تیل لگائے ہوئے باہر نکلے تو امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیکَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی ان سے ملاقات ہوئی ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :  ’’  تم کون ہو ؟  ‘‘  بولے:  ’’ ہم ہجرت کرنے والوں   میں   سے ہیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ تم جھوٹ بولتے ہو،  حقیقی ہجرت کرنے والے تو حضرت عَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

نبیٔ غیب دان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیبی خبر :  

 ( 460 ) … حضرت سیِّدُنا ابوبَخْتَرِی اورمَیْسَرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاروایت کرتے ہیں   کہ جنگ ِصفین کے دن حضرت سیدنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دودھ پیش کیا گیا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسے پینے کے بعد فرمایا :   ’’ رسولِ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دی ہوئی غیبی خبر کے مطابق یہ میری زندگی کا آخری مشروب ہے ۔  ‘‘ یہ کہنے کے بعدحضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہقتال میں   مصروف ہوگئے یہاں   تک کہ جامِ شہادت نوش فرماگئے  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 461 ) … صحابی ٔ رسول حضرت سیِّدُناابوسِنَان دُؤَلِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں :  میں   نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مشروب منگوایا توایک پیالے میں   دودھ پیش کیا گیا  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ا سے پی کرفرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان حق ہے ،   میں  آج اپنے آقاومولیٰ حضرت سیِّدُنا محمدمصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنسے جاملوں   گا کیونکہ حضورنبی ٔغیب دان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کے مطابق میری زندگی کی آخری غذا دودھ ہے ۔  ‘‘  پھر فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! اگر دشمن ہمیں   شکست دے کر مقام ہجر کی چوٹیوں   تک بھی دھکیل دے پھر بھی ہمیں   یقین ہے کہ ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 462 ) …  ا میر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : میں   نے حضورنبی ٔ اکرم ،  نُورِمُجَسَّم ،   شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے حضرت عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  یہ تمہارے ساتھ ایک ایسے معرکے میں   شریک ہوں   گے جس کا اجر بہت زیادہ ہو گا اور اس کا تذکرہ بکثرت ہوگا اور اس کی تعریف کرنا اچھا ہے ۔ ‘‘   ( [5] )

رضائے الٰہی کے لئے لڑنے والے :  

 ( 463 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : ’’ میں   حضرت عَمَّار بن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سوا کسی کو نہیں   جانتاجو ( جنگ صفین )  میں   رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لئے لڑا ہو ۔  ‘‘    ( [6] )

جنت 4صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مشتاق ہے :  

 ( 464 ) … حضرت سیِّدُنا عمران طائی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے ہوئے سناکہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ جنت 4 افراد کی مشتاق ہے ۔   ( ۱ )  حضرتِ عَمَّاربن یاسِر  ( ۲ ) حضرت علی المرتضیٰ  ( ۳ )  حضرتِ سلمان فارسی اور  ( ۴ ) حضرتِ مقداد  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )   ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 465 ) …  حضرت سیِّدُناحارِث بن سُوَیْد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شکایت کی ۔  جب حضرت سیِّدُناعَمَّار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکواس کی خبر ملی تو اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   عرض کی: ’’  یااللہعَزَّوَجَلَّاگر وہ جھوٹا ہے تو اسے دونوں   گھاٹیوں   کے درمیان روند ڈال اور اس کے لئے دنیاکشادہ فرما ۔  ‘‘    ( [8] )

 



[1]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  حدیث عمار بن یاسر  ،  الحدیث : ۱۸۳۴۹ ، ج۶ ، ص۳۶۵ ،  مفہومًا۔

[2]    المصنف لعبد الرزاق ،  کتاب الطہارۃ ،  باب الحمام للرجال ،   الحدیث۱۱۲۳ ، ج۱ ،  ص۲۲۵۔

[3]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  حدیث عمار بن یاسر ،   الحدیث : ۱۸۹۰۲ ، ج۶ ، ص۴۸۰۔

                المسندلابی یعلی الموصلی  ،  مسند عمار بن یاسر  ،   الحدیث : ۱۶۲۲ ، ج۲ ، ص۱۲۸.