Book Name:Budha Pujari

کُفر کے اَیوانوں میں کھلبلی

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شاہِ خیرُالانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین سال تک اشاعتِ اسلام کیلئیخُفْیَۃً (یعنی چُھپ کر )  اِنفِرادی کوشِش فرمائی۔  پھر جب حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ  سے علی الاعلان اسلام کا پیغام دیناشروع کیا اوربت پرستی کی مَذَمَّت بیان کرنے لگے تو کفر کے ایوانوں میں کھلبلی پڑگئی ۔  سردارانِ قریش ایک وَفد کی صورت میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا ابوطالبِ کے پاس آئے اوراپنی شکایت پیش کی کہ آپ کے بھتیجے صاحب ہمارے معبودوں کو بُرابھلا کہنے کے ساتھ ساتھ ہمارے آباؤاَجداد کو گمراہ اورہم لوگوں کو احمق ٹھہراتے ہیں ،  آپ برائے مہربانی ان کو سمجھادیجئے کہ وہ ایسا نہ کریں ، اگر آپ سمجھا نہیں سکتے تو بیچ میں سے ہٹ جایئے ہم خود انہیں سمجھ لیں گے۔  ابوطالِب اگرچِہ ایمان تو نہ لائے لیکن اپنے بھتیجے یعنی سیِّدُنامحمدٌرَّسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ  و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بے حد مَحَبَّت کرتے تھے لہٰذا قریش کے سرداروں کو نرمی کے ساتھ سمجھا بجھا کر رخصت کردیا۔ 

سیدھے ہاتھ میں سورج۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔  ۔ 

        دعوتِ اسلام کا سلسلہ زور وشور سے جاری رہا،  چُنانچِہ کفّارِ قُریش کے اندرتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف بُغض وعداوت کی آگ مزید بھڑک اُٹھی،  وہ پھر وَفد بناکر ابوطالِب کے پاس آئے اوردھمکی آمیز لہجے میں کہنے لگے:  ’’ابوطالِب! ہم نے تم سے کہا تھا کہ اپنے بھتیجے کو سمجھا دومگر تم نے ان کو نہیں سمجھایا ، ہم اپنے معبودوں اورآباؤاَجدادکی توہین برداشت نہیں کرسکتے، ہم تمہاری عزّت کرتے ہیں ،  تم ان کو اب بھی روک دو،  اگر نہیں روکنا چاہتے تو تم بھی ہمارے ساتھ مقابلے کے لئے تیّار ہوجاؤتاکہ دونوں فریق میں سے ایک کافیصلہ ہوجائے۔  ‘‘ وہ لوگ یہ دھمکی دے کرچلے گئے ۔   ابوطالب نے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بلا کر عرض کی: ’’اے میرے پیارے بھتیجے!  قوم نے مجھے آپ کے بارے میں یہ یہ شکایات کی ہیں ،   مہربانی کر کے بازآجایئے ۔   اپنے آپ پر بھی اورمجھ پربھی رحم کیجئے۔  ‘‘ یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جواباًارشادفرمایا:  ’’اے میرے چچا! خدا عَزَّ وَجَلَّ  کی قسم! اگروہ لوگ میرے سیدھے ہاتھ میں سورج اورالٹے ہاتھ میں چاندبھی لاکر رکھ دیں ،  جب بھی میں اس کام کو ہر گز ہرگز نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  (یعنی اسلام کو)  غالِب کردے یا میں اس کام میں اپنی جان دے دوں ۔  ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ روپڑے اورواپس جانے لگے ، تواپنے پیارے بھتیجے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا یہ عزم واستِقلال دیکھ کر ابوطالِب کو جوش آگیا اوربُلا کر کہنے لگے: ’’اے بھتیجے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! خوب دل کھول کراپنے دین کی تبلیغ کیجئے،  اہلِ قریش آپ کا بال بھی بِیکا نہ کرسکیں گے ۔   ‘‘ (اَلسِّیْرَۃُ النَّبَوِیَّۃ لابن ہَشّام  ص۱۰۳، ۱۰۴ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے مُلاحَظہ فرمایا ! آمِنہ کے لال،  محبوبِّ ربِّ ذُوالجلال عَزَّوَجَلَّ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا عَزم واستِقلال کس قَدَرزبردست تھا ۔   دنیاکی کوئی طاقت آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دعوت ِاسلام سے نہ ہٹا سکتی تھی۔      ؎

 



Total Pages: 12

Go To