Book Name:25 christian Qaidiyon aur padri Ka Qabool e Islam

ورسول

 عَزَّ وَجَلَّ   وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کی سعادت ملی ۔ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی پیغام دیکھتے ہی دیکھتے بابُ الاسلام (سندھ) ، پنجاب ، سرحد، کشمیر ، بلوچستان اور پھرملک سے باہَر ہند، بنگلہ دیش، عرب امارات، سی لنکا، برطانیہ، آسٹریلیا، کوریا، جنوبی افریقہ یہاں  تک کہ(تادمِ تحریر) دُنیا کے تقریباً 66ممالک میں  پہنچ گیا اور آگے کُوچ جاری ہے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ    آج(یعنی۱۴۳۰ ھ میں ) دعوتِ اسلامی 36سے زائد شعبوں  میں  سنّتوں  کی خدمت میں  مشغول ہے ۔

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عُمُوماًقراٰن و سنّت کی تعلیم سے بے بہرہ لوگ ہی نفس وشیطان کے بہکاوے میں  آکر قتل و غارت گری ، دہشت گردی، توڑ پھوڑ، چوری، ڈکیتی، زناکاری، منشیات فروشی، جُواوغیرہ وغیرہ جیسے گھِناؤنے جرائم میں  مبتلا ہوکربالآخر جیل کی چار دیواری میں  مقیّد ہوجاتے ہیں  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ     قَیدیوں  کی تعلیم وتربیت کے لیے جیل خانوں  میں  بھی دعوتِ اسلامی کی مجلس فیضانِ قرآن کے ذریعے مَدَنی کام کی ترکیب ہے۔

   جیل خانہ جات میں  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ چند سال قبل ایک قیدی جیل سے رہائی پانے کے بعد شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں  حاضر ہوا اور کچھ یوں  عرض کی کہ آزاد دُنیا کی طرح ہماری جیلوں  کا ماحول کچھ ایسا ہوتا ہے کہ قیدی سدھرنے اور توبہ کرنے کے بجائے گناہوں  کی دلدل میں  مزید دھنستا چلا جاتا ہے لہٰذا جیل کے اندر نیکی کی دعوت عام کرنے کی بہت ضرورت ہے ۔ اس کے یہ جذبات سن کر امّت کے عظیم خیرخواہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خیرخواہی کرتے ہوئے آزاد اسلامی بھائیوں  کی طرح قیدیوں  میں  دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام شروع کرنے کا عندیہ عطا فرمایا اور دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شورٰی کی ترکیب میں  مجلس فیضانِ قرآن بنی جو جیل خانہ جات میں  نیکی کی دعوت عام کرنے  میں  مصروف ہے ۔  اَلْحَمْد لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کی جیل خانہ جات میں خوببہاریں  ہیں  ،  کئی ڈاکواور جَرائم پیشہ افراد جیل کے اند ر ہونے والے مَدَنی کاموں  سے مُتأَثِّر ہوکر تائب ہونے کے بعدرِہا ئی پاکر عاشِقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافِلوں  کے مسافر بننے اور سُنّتوں  بھری زندگی گزارنے کی سعادت پارہے ہیں  ، آتَشیں  اسلِحیَ کے ذَرِیعے اندھا دُھند گولیاں  برسانے والے اب سُنَّتوں  کے مَدَنی پھول برسارہے ہیں  !مُبَلِّغین کی انفِرادی کوشِشوں  کے باعِث کُفّار قیدی بھی مُشَرَّف بہ اسلام ہو رہے ہیں ۔

          جیل خانہ جات میں  مَدَنی انقلاب کی 9بہاریں ’’دعوتِ اسلامی کی جیل خانہ جات میں  خدمات‘‘نامی رسالے میں  پیش کی جاچکی ہیں  ، اب دوسرے حصے میں مزید 12 بہاریں  ’’25کرسچین قیدیوں  اور پادری کا قبولِ اسلام ‘‘ کے نام سے پیش کی جارہی ہیں ۔   اللہ    تَعَالٰی ہمیں ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کے لئے مَدَنی انعامات پر عمل اور مَدَنی قافلوں  کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس  المدینۃ العلمیۃکو دن پچیسویں  رات چھبیسویں  ترقی عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

شعبہ امیرِ اَہلسنّت   )مد ظلہ العالی)   مجلسِ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ )دعوتِ اسلامی)

          ۱۵ صفر المظفر ۱۴۳۰ ھ،  11فروری  2009ء

(2)  مَدَنی  قافِلے میں  سفر کی نِیَّت کی برکت

        محراب پور (باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لبِّ لُباب ہے کہ دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میرا اُٹھنا بیٹھنا  اپنے علاقے کے چند ایسے اَفراد کے ساتھ ہو گیا جو گناہ کا بازار گرم رکھنے میں  مصروف رہتے تھے۔دیگر جرائم کے ساتھ چوری و ڈکیتی کے ذریعے مخلوقِ خدا کو اذیت میں  مبتلا کر کے اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کرنا ان کا معمول تھا۔ ان کی بری صحبت اپنانے کی وجہ سے میں  بھی جرائم میں  ان کا دست وبازو بن گیا۔مسلسل جرائم کرتے رہنے کی وجہ سے میرا دل اتنا سخت ہوچکا تھا کہ حقوق  اللہ   اور حقوق العباد تلف کرتے ذرا بھی خوف محسوس نہ ہوتا۔ میں  شاہراہِ جرم پر ان کے ہمراہ مصروف سفر تھا کہ ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گیا اور چوری کے الزام میں  سینٹرل جیل سکھر کی آہنی سلاخوں  کے پیچھے دھکیل دیاگیا۔

        میں بے قیدزندگی گزارنے کا عادی تھا لہٰذا قید کی حالت میں  رہنا انتہائی دُشوارمحسوس ہوا، پر مرتا کیا نہ کرتا!جرم کی سزا تو بھگتنی تھی ۔ خدا  عَزَّ وَجَلَّ    دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائیوں  کا بھلا کرے کہ جنہوں  نے مجھے اپنا بھولا ہوا مقصدِ حیات یاد دلایا اور مجھے نیکی کے راستے پر گامزن کر دیا۔ ہوا کچھ یو ں کہ جیل خانہ جات میں  قیدیوں  کی اصلاح کی کوشش کرنے والی دعوت اسلامی کی مجلس’’فیضان قرآن ‘‘ کے ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مدرسہ فیضانِ قرآن میں  شرکت کی دعوت دی۔ ان کے دلنشیں  اور میٹھے اندازمیں  نہ جانے کیا کشش تھی کہ میں  انکار نہ کر سکا۔ مدرسہ میں  تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے ، فرائض و واجبات کا علم سیکھنے اور اپنے پیارے آقا میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پیاری پیاری سنتیں  سیکھ کر ان پر عمل کرنے کا موقع ملا۔مَدَنی ماحول کی برکت سے میرا ضمیرمجھے مسلسل ملامت کرنے لگا کہ اب مجھے گناہوں  بھری زندگی چھوڑکے توبہ کر لینی چاہئے ، نیکیوں  کا سفرشروع کرتے ہوئے میں  نے بارگاہِ ربِّ غفار  عَزَّ وَجَلَّ    میں  اپنا سر نیاز جھکا کر بلکتے ہوئے کچھ یوں عرض کی :

کب گناہوں  سے کنارہ میں  کروں  گا یا رب          نیک کب اے میرے  اللہ بنوں  گا یا رب

                               کب گناہوں  کے مرض سے شفا پاؤں  گا         کب میں  بیمار مدینے کا بنوں  گا یا رب

 



Total Pages: 9

Go To