Book Name:Karbala Ka Khooni Manzar

جواب : جو کافی علم نہ رکھتی ہووہ مذہبی بیان نہ کرے ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہفتاوٰی رضویہ جلد23 صَفْحَہ378 پر فرماتے ہیں  : وعظ میں اور ہر بات میں سب سے مُقَدّم اجازتِ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے ۔  جو کافی عِلم نہ رکھتا ہو،   اُسے وعظ کہنا حرام ہے اور اس کا وعظ سُننا جائز نہیں ،   اور اگر کوئی مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّبد مذہب ہے تو وہ تو نائبِ شیطان ہے اس کی بات سننی سخت حرام ہے (اُس کو مسجِد میں بیان سے روکا جائے) اور اگر کسی کے بیان سے فتنہ اٹھتا ہو تواُسے بھی روکنے کا امام اوراہلِ مسجِد کو حق ہے او ر اگر پورا عالم سُنّی صحیحُ الْعقیدہ وعظ فرمائے تو اُسے روکنے کا کسی کو حق نہیں  ۔ چُنانچِہاللہ تبارَکَ وَ تَعالٰیپارہ2سورۃُ الْبقرہ کی آیت نمبر114 میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ ( پ : ۲،   البقرہ :  ۱۱۴)

ترجَمۂ کنزالایمان : اوراس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص۳۷۸)

عالم کی تعریف

سُوال :  تو کیا مبلِّغ بننے کیلئے درسِ نظامی(یعنی عالم کورس) کرنا شرط ہے؟

جواب :  عالم ہونے کیلئے نہ درسِ نظامی شرط ہے نہ اس کی محض سند کافی بلکہ علم چاہئے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضر  ت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  :  عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مُستقِل ہو اور اپنی ضَروریات کو کتاب سے نکال سکے بِغیر کسی کی مدد کے ۔  علم کتابوں کےمُطالَعَہ سے اور عُلَماء سے سُن سُن کر بھی حاصِل ہو تا ہے  ۔ (تَلْخِیص اَز اَحکامِ شریعت حصّہ ۲ ص ۲۳۱ )معلوم ہوا عالم ہونے کیلئے درسِ نظامی کی تکمیل کی سند ضَروری ہے نہ ہی کافی نہ ہی عَرَبی فارسی وغیرہ کا جاننا شرط ،   بلکہ علم درکار ہے ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں  : سند کوئی چیز نہیں بُہتیَرے سَنَد یافتہ مَحض بے بَہرہ ( یعنی علْمِ دین سے خالی) ہوتے ہیں اور جنہوں نے سند نہ لی اِن کی شاگردی کی لیاقت بھی اُن سَنَد یافتوں میں نہیں ہوتی ،  عِلْم ہونا چاہئے ۔  ( فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص۶۸۳) اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّفتاوٰی رضویہ شریف ،       بہارِ شریعت ،   قانونِ شریعت،   نِصابِ شریعت،  مراٰۃ المناجیح،   علم القراٰن،   تفسیر نعیمی،   اِحیا ء العلوم (مترجم) اور اِس طرح کی کئی اُردو کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر سمجھ کر اور عُلمائے کرام سے پوچھ پوچھ کر بھی حسبِ ضَرورت عقائد و مسائل سے آگاہی حاصِل کر کے’’ عالِم‘‘ بننے کا شَرَف حاصِل کیا جا سکتا ہے ۔ اور اگر ساتھ ہی ساتھ ’’درسِ نظامی‘‘ کرنے کی سعادت بھی حاصِل ہو جائے تو سونے پر سُہاگا ۔

غیر عالم کے بیان کا طریقہ

سُوال :  جو عالم نہ ہو کیا اُس کے بیان کرنے کی بھی کوئی صُورت ہے؟

جواب :  غیرِ عالِم کے بیان کی آسان صُورت یہ ہے کہ عُلَمائے اہلِ سنّت کی کتابوں سے حسبِ ضَرورت فوٹو کاپیاں کروا کر اُن کے تَراشے اپنی ڈائری میں چَسپاں کر لے اور اس میں سے پڑھ کر سنائے  ۔ منہ زَبانی کچھ نہ کہے نیز اپنی رائے سے ہرگز کسی آیت ِ



Total Pages: 14

Go To