Book Name:Madinay Ka Musafir

عطاریہ میں سے ’’شجرہ عالیہ ‘‘ بلند آواز سے پڑھو پھر بارات لے کر چلیں گے تاکہ اس کی بَرَکتیں حاصل ہوں ۔ باہر باراتی اصرار کرنے لگے کہ دیر ہورہی ہے جلدی کریں مگر والد صاحب نے فرمایا کہ جب تک ہم اپنا’’ شجرہ عالیہ ‘‘ نہیں پڑھیں گے، بارات لیکر نہیں جائیں گے ۔ میں نے ’’شجرہ عالیہ‘‘ پڑھا اور جب بارات گھر سے نکلنے لگی تو والد صاحب نے بتایاکہ میرا شجرہ شریف جو میں جیب میں رکھتاہوں مل نہیں رہا ، وہ ساتھ ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی برکتیں حاصل ہوں۔ شجرہ شریف ڈھونڈا مگر نہ ملاتو چھوٹے بھائی نے اپنا شجرہ شریف والد صاحب کودے دیا۔ والد صاحب نے شجرہ قادریہ عطاریہ لے کر چوما ، جیب میں رکھا پھر گھر سے باہر نکلے۔ بارات روانہ ہوگئی راستے میں والد کی عجیب کیفیت ہورہی تھی۔ بار بار اپنی ’’عطاری نسبت‘‘ کا اظہار کرکے خوشی کا اظہار فرما تے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ میرا سارا گھر قبلہ شیخِ طریقت ، امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مرید ہے، ان شاء اللہ   عَزَّ وَجَلَّ اسکی بَرَکت سے دنیا اور آخِرت میںبیڑا پار ہو گا۔ حتّٰی کہ گاڑی میں ڈرائیور سے بھی اسی طرح کی باتیں کرتے رہے۔

       دورانِ نکاح اچانک والد صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی۔انہیں کمرے میں لے جایا گیا،ان کا سانس اکھڑ رہا تھا مگر زبان پر بلند آواز کے ساتھ دُرُود و سلام الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللّٰہجاری تھا۔میرے بڑے بھائی نے والد صاحب سے عرض کی، بابا ہلکی آواز میں دُرُود پاک پڑھیں آپ کا سانس پھول رہا ہے، مگر وہ ان کی بات پر توجہ دینے کی بجائے بلند آواز سے دُرُود و سلام پڑھنے

   

  کے ساتھکَلِمَۂ طَیِّبہ  کا ورد کرنے لگے۔اسی طرح دُرُود و سلام کا ورد کرتے اورکَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہَآاِلٰہَ اِلَّا  پڑھتے ہوئے انتقال فرما گئے۔ جن اسلامی بھائی نے انہیں غسل دیا ان کا کہنا ہے کہ میں نے بے شمار غسل دئیے ہیں کئی مرنے والوں کا جسم انتہائی سخت ہوجاتا ہے مگر مرحوم کو غسل دیتے وقت میں نے محسوس کیا کہ انکا جسم انتہائی نرم تھا یہ سب ایمان افروز مناظر دیکھ کروالد صاحب کے چھوٹے بھائی یعنی ہمارے چچا نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی ان ولی کامل کا مرید بنوادیں جن سے میرا بڑے بھائی مریدتھا۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(11)وقتِ نزع پیرومُرشد کی زیارت نصیب ہوگئی

        بلوچستان کے شہر’’سوئی‘‘ کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میرے بڑے بھائی(عمر تقریباً 35 سال 2003ء سے بیمار رہنے لگے کافی علاج کروایا مگر مرض بڑھتا ہی رہا۔ اکتوبر کے مہینے میں ڈاکٹروں نے ’’ بلڈکینسر‘‘ کا مرض تشخیص کیا۔ میرے بھائی تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے اور زمانے کے ولی قبلہ شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے مرید بن کر ’’عطاری‘‘ ہوچکے تھے، انہی بَرَکتوں کے طفیل سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجا رہتا۔ سخت کمزوری اور تکلیف کے باوُجود جب تک زندہ رہے کوئی نماز قضاء نہیں ہونے دی بلکہ لوگ اس بات پر حیران تھے کہ یہ اس حالت میں بھی اپنے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ مَدَنی انعامات کے مطابق معمول رکھتے مَثَلاً اشراق وچاشت، اوابین اور صلوٰۃ التوبہ کی پابندی کے ساتھ رات اہتمام سے سورۃ الملک سُنا کرتے ۔ ایسا لگتا کہ ان کی کوشش ہے کہ میں ’’72مَدَنی انعامات‘‘ کا ایسا عامل بن جائوں کہ مرشِدِ کریم کا ’’منظورِ نظر‘‘ کہلائوں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّّ اُن کی زبان پَرسارادن  کَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ ٓ ٰہ،ذِکْرُ اللہ یا دُرودِ پاک الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْل اللّٰہ ٭ وَعلیٰ اٰلک واَصْحَابِکَ یا حَبِیْبَ اﷲ جاری رہتا۔  جس روز انتقال ہوا ساری رات زبان پرذِکْرُ اللہ  ، دُرُود شریف اور کَلِمَۂ طَیِّبہکا وِرْد جاری رہا۔ کمزوری کے باعث نمازِ عشاء اشاروں میں ادا کی اور 18 اگست2004ء میں نمازِفجر مسجد میں ادا کرکے پہنچاتودیکھا بھائی جو سہارے کے بغیراُٹھ نہیں سکتے تھے بغیر سہارے اٹھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور والدہ انہیں سنبھال رہی ہیں ، میں نے قریب پہنچ کر بھائی سے پوچھا، کیا بات ہے کہاں جانا ہے؟ تو بھائی بولے،’’ وہ دیکھو سامنے میرے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  تشریف لائے ہیں‘‘ ۔ یہ کہنے کے بعد ان کا جسم ڈھیلاپڑگیا،میں نے سہارا دے کر انہیں بستر پر لِٹایا۔پھر دیکھا تو ان کی روح قفسِ عُنصری سے پرواز کرچکی تھی۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اَلْحَمْدُ للّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا لگتا ہے دنیا سے قابلِ رشک انداز میں رخصت ہونے والے اِن اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول اور زمانے کے ولیِ کامل امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے دامن سے نسبت رنگ لے آئی اور انہیں آخِری وَقْت کَلِمَہ نصیب ہوگیا ۔   

مرتے وقت کلمۂ طیبہ  پڑھنے کی فضیلت

        خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم !خوش قسمت ہے وہ مسلمان  جس کو مرتے وَقْت کَلِمَہ نصیب ہو جائے اُس کا آخِرت میں بیڑا پا ر ہے۔ چُنانچِہ نبیِّ رَحْمت، شفیعِ امّت، مالِکِ جنّت، محبوبِ ربُّ العزَّت  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنّت نشان ہے، جس کا آخِری کلام  لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہُہو وہ داخِلِ جنّت ہو گا۔(ابوداوٗد شریف،  رقم الحدیث ۳۱۱۶، ج ۳ ص ۱۳۲، داراحیاء التراث العربی )

فضل و کرم جس پر بھی ہُوا         لب پر مرتے دَمکَلِمَہ

                                                                          جاری ہوا جنّت میں گیا         لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للّٰہ

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 8

Go To