Book Name:Madinay Ka Musafir

        باب المدینہ( کراچی) کے ایک علاقے میں غالباً1996ء میں دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہوا جس میں امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے سنتوں بھرا اصلاحی بیان فرمایا ۔ اس سنتوں بھرے اجتماع میں ایک18 سالہ نوجوان بھی شریک ہوا جو امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہکے بیان سے متأثر ہوکر اپنے گناہوں سے تائب ہوگیا اور آئندہ زندگی اللہ  ورسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ   تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی رضا میں گزارنے کی نیت کی۔یہ اسلامی بھائی  امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے ذریعے غوثِ پاک کا مرید ہوکر ’’ عطاری‘‘ بھی بن گئے۔ ان کا پرانے سامان کی خریدوفروخت(یعنی کباڑئیے) کا کاروبار تھا ۔دوسرے ہی دن یہ اپنی دکان میںسامان سمیٹ رہے تھے کہ اچانک ایک زبردست دھماکہ ہوااوریہ شدیدزخمی ہوگئے، فوراً ہسپتال لے جایا گیا ۔ وہاں پرموجود رہنے والے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ وہ اس حالت میں کم و بیش 3گھنٹے زندہ رہے اور پھر ان کی زبان پرکَلِمَۂ طَیِّبہ لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہ  جاری ہوگیا۔ایسا لگتا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت اِن اسلامی بھائی کو راس آگئی اور توبہ کرنے کے دوسرے ہی دن اس خوش نصیب عطاری اسلامی بھائی کی  رُوح کلمۂ پاک پڑھتے ہوئے قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلسنّت  پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 (8)جنازے پررحمت کی پھوار

    گلزارِطیبہ(پنجاب پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ہماری 70 سالہ دادی جان ۱۴۰۵ھ میں قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی مریدنی بن کر’’عطاریہ‘‘ بن گئیں۔اس کی بَرَکت سے نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ دیگر سُنن و مستحبات پر بھی عمل پیرا ہو گئیں۔اکثر وقت تسبیحات پڑھنے میں گزرتا۔اپنے پیرو مُرشد امیرِ اَہلسنّت دامت بَرَکاتُہُمُ العالیہسے بے حد لگاؤ تھا۔  ۱۲ ربیع النورشریف کے دن سرکار صلی اللہ   تَعَالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کی ولادت کی خوشی میں سفید بالوں میںمہندی لگائی،نیا لباس پہنا،عصر کی نماز کے لئے تیاری شروع کی۔وضو کرکے جیسے ہی فارغ ہوئیں بے ہوش ہو کر گر پڑیں ۔ فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔ مگردادی جان نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ گرمی انتہائی شدیدتھی مگر حیرت انگیز طور پَر نمازِجنازہ کے وقت مطلع ابر آلود ہو گیا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی پھوار برسنے لگی ۔

دفن کرنے میں بارش ہونا نیک فال ہے

        اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  نے فتاویٰ رضویہ جلد 9صَفْحَہ373پر ایک سُوال کے جواب میں ارشاد فرمایا : ’’(وقتِ دفن)بارشِ رحمت‘ فالِ حسن ہے خصوصاً اگر خلافِ عادت ہو۔واﷲتعالٰی اعلم‘‘

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9)خوش نصیب عطّا ری

       سرفراز کالونی(حیدرآباد) گلی نمبر4کے مقیم اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح کا بیان ہے کہ میرے والد محمد انور عطاری  جن کی عمر کم و بیش 65سال تھی۔1996ء میں قبلہ شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے مُرید ہوئے اور سنّت کے مطابق  داڑھی رکھنے کے ساتھ سر پر سبز عمامہ شریف بھی سجالیا۔ پنج وقتہ باجماعت نماز کا معمول بن گیااور دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات میں بھی شرکت فرمانے لگے۔ ایک روز طبیعت ناساز ہونے پَر ’’سول ہسپتال‘‘ (حیدرآباد) میں داخل کروادیا’’ مگر مرض بڑھتا ہی چلاگیاجوں جوں دوا کی۔‘‘ ان کی زبان پر ذکرو دُرود جاری رہتا۔ بالآخِر ۸ شَوَّالُ الْمُکَرَّم ۱۴۲۶ھ بروز جمعۃ المبارَک صبح کم وبیش ساڑھے سات بجے میرے والد  محمد انور عطاری   بُلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبہ    لَا اِلٰہ اَلَّا اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُول اللہپڑھتے ہوئے انتقال کر گئے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ       والد صاحب کو سنتوں کے عامل اسلامی بھائیوں نے غسل دیا، بعد تکفین سر پر سبز عمامہ سجادیا گیا۔ وہاںموجود اسلامی بھائیوں کے مطابق مرحوم کا چہرہ حیرت انگیز طور پر نورانی ہوگیا تھا۔نمازِ جنازہ کے بعد جب چہرہ دکھایا جانے لگا تو ایک مبلغ کے ساتھ آئے ہوئے پینٹ شرٹ میں ملبوس کلین شیوڈ اسلامی بھائی والدِ مرحوم کے نوارنی چہرے کو دیکھ کر اشکبار ہوگئے اور مبلغ سے کہنے لگے کہ میری وصیت ہے کہ جب میں مرجائوں تو مجھے بھی اسی طرح عمامہ سجا کر دفن کیاجائے۔ مبلغ کا کہنا ہے کہ صبح جب میں بازار پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ہی کلین شیوڈ اسلامی بھائی سر پر سبز عمامہ شریف سجائے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھ کر سینے سے آلگے اور کہنے لگے کہ میں نے داڑھی کی بھی نیت کر لی ہے، کل جنازے کے نورانی منظر نے میرے اندر مَدَنی  

انقلاب برپا کردیا ہے رات صحیح طرح نہ سو سکا۔ میں نے باجماعت نماز پڑھنے کی نیت بھی کرلی ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وہ اسلامی بھائی قبلہ شیخِ طریقت ،امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے مُرید ہوکر ’’عطاری‘‘  بھی بن گئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10) شجرہ عالیہ سے محبت

        لطیف آباد نمبر ۱۰(حیدرآباد) کے اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ ذُوْالْحِجَّۃِ الْحرام ۱۴۲۴ھ  12 بجے دوپہر میری بارات روانہ ہونی تھی ، میرے والد نصرت عطاری (جن کی عمر کم و بیش65سال تھی )نے بارات روانہ ہونے سے پہلے مجھے اپنے کمرے میں بلوایا اور کہنے لگے :’’بیٹا!آج تمہارا نکاح ہے، اپنے پیرو مرشِد  امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے عطا کردہ شجرہ قادریہ



Total Pages: 8

Go To