Book Name:Islami Behno Ki Namaz

تادمِ تحریر میں   جامعۃُالمدینہ  (للبنات )  میں  درسِ نِظامی کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں  نیز اپنے عَلاقے میں  عَلاقائی مُشاوَرت کی خادِمہ (ذمہ دار)  کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرنے کے لئے بھی کوشاں   ہوں  ۔

سرکار! چار یار کا دیتا ہوں   واسطہ

ایسی بہار دو نہ خَزاں   پاس آ سکے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {21} میں  12سال سے اولاد سے محروم تھی

            بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ اس طرح ہے کہ میری شادی کو 12 سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا لیکن میں   اولاد کی نعمت سے محروم تھی ۔ایک مرتبہ میں   نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں   بھرے اجتماع میں   شرکت کی اختتام پر میری ملاقات ایک مُبَلِّغہ اسلامی بہن سے ہوئی ۔اُنہوں   نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے مَدَنی ماحول کی برکتیں   بتائیں  ۔میں  نے ان سے اپنی محرومی کا تذکِرہ کیا تو انہوں   نے نہایت شَفقت سے کہا:  آپ دعوتِ اسلامی کے 12 سنّتوں   بھرے اجتماعات میں  مسلسل شرکت کی نیَّت کر لیجیے اور دَوران اجتماعات ہونے والی دُعا میں   اپنے لیے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ سے اولاد کی بھیک طلب کیجئے اِنْ شَآءَاللہ غفار عَزَّوَجَلَّ  سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے میں   ضَرورکرم ہو گا ۔چُنانچِہ میں  نے نیَّت کر لی ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سنّتوں   بھرے اجتماع میں   پابندی سے شرکت کی بَرَکت سے میری دعائیں   قَبول ہوئیں   اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے چاند سا مَدَنی مُنّا عطا فرمایا اور اس طرح میرے اُجڑے چمن میں   بھی بہار آ گئی ۔

بہار آئے مِرے دل کے چمن میں   یارسولَ اللہ

اِدھر بھی آ لگے چھینٹا کوئی رحمت کے بادَل سے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          اسلامی بہنو!ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں   وسوسہ آئے کہ میں   بھی تو عرصے سے اجتِماع میں   شرکت کرتی اور خوب رو رو کر دُعاء مانگتی ہوں   مگر میرے مسائل حل نہیں   ہوتے ، میرا بیٹابے اولاد ہے ، بیٹی کا رشتہ نہیں   آتا، بڑی بیٹی کی تین بیٹیاں   ہیں   بے چاری اولادِ نرینہ کیلئے ترستی ہے وغیرہ وغیرہ تو عرض یہ ہے کہ بِالفرض دُعاء کی قَبولیّت کا اَثر ظاہِر نہ ہو تب بھی حَرفِ شکایت زَبان پر نہیں   لانا چاہئے۔ ہماری بھلائی کس بات میں   ہے اِ س کویقینا اللّٰہ عزوجلہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں   ہر حال میں  پاک پروردگار جلَّ جَلَالُہٗ کا شکر گزار بندہ بن کر رَہنا چاہئے۔ وہ بیٹا دے تب بھی اُس کا شکر ، بیٹی دے تب بھی شکر، دونوں   دے تب بھی شکر اور نہ دے تب بھی شکر، ہر حال میں   شکر شکر اور شکرہی ادا کرنا چاہئے۔پارہ 25 سورۃُ الشُّوری کی آیت نمبر ،  49اور 50 میں   ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ (۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ (۵۰)   ( پ ۲۵ الشوریٰ ۴۹، ۵۰)

ترجَمۂ کنزالایمان:  اللہ ہی کیلئے ہے آسمانوں   اور زمین کی سلطنت ،پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں   عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں   ملا دے بیٹے اوربیٹیاں  اور جسے چاہے بانجھ کر دے بیشک وہ علم و قدرت والا ہے ۔

            صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیفرماتے ہیں  ،وہ مالِک ہے اپنی نِعمت کو جس طرح چاہے تقسیم کر ے جسے جوچاہے دے۔ انبیاء علیہم السَّلام میں   بھی یہ سب صورَتیں   پائی جاتی ہیں۔حضرتِ سیِّدُنا لُوط عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامو حضرتِ سیِّدُناشُعَیبعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف بیٹیاں   تھیں  کوئی بیٹا نہ تھا اور حضرتِ سیِّدُناابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے صرف فرزند تھے کوئی دُختر ہوئی ہی نہیں   اور سیِّدُالانبیاء حبیبِ خدا مُحمَّدِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو اللہ تعالیٰ نے چار فرزند عطا فرمائے اور چار صاحِبزادیاں   اور حضرت سیِّدُنا یحییٰعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ  رُوحُ اللہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے کوئی اولاد ہی نہیں  ۔  (خزائن العرفان ص ۷۷۷,فیضانِ سنت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۸۸۱)

 {22} گناہ کو گناہ سمجھنے کا شُعُور مل گیا

             بابُ المدینہ  (کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ میں   نَمازیں   قَضا کر ڈالنے اور بے پردَگی جیسے گناہوں   میں   گرفتار تھی ۔افسوس!



Total Pages: 92

Go To