Book Name:Islami Behno Ki Namaz

بہارِشریعت ،حصہ ۳ ص ۸۱)  ٭سَجدے میں   پَیشانی جَمنا ضَروری ہے ۔ جمنے کے معنیٰ یہ ہیں   کہ زمین کی سختی محسوس ہو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ پیشانی نہ جمی تو سجدہ نہ ہو گا۔  (اَیضاً ص۸۱، ۸۲)  ٭ کسی نَرم چیزمَثَلاً گھاس  (جیسا کہ باغ کی ہریالی )  رُوئی یا  (فو م کے گدیلے یا) قالین  (CARPET)  وغیرہ پرسَجدہ کیا تو اگر پیشانی جم گئی یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے تو سجدہ ہو جائے گا ورنہ نہیں    (عالمگیری ج۱ص۷۰)   ٭ کمانی دار  ( یعنی اسپرنگ والے )  گدّے پر پیشانی خوب نہیں  جمتی لہٰذا نَمازنہ ہو گی ۔  ( بہارِشریعت حصّہ ۳ ص۸۲)

کارپیٹ کے نقصانات

            کا رپیٹسے ایک توسَجدے میں   دُشواری ہوتی ہے،نیز صحیح معنوں   میں   اِس کی صَفا ئی نہیں   ہو پاتی لہٰذا دُھول وغیرہ جمع ہوتی اورجَراثیم پرورِش پاتے ہیں   ، سَجدہ میں   سا نس کے ذَرِیعہ جراثیم ،گرد وغیرہ اندر داخِل ہوجاتے ہیں  ،کارپیٹ کا رُواں   پھیپھڑوں   میں   جاکرچِپک جانے کی صورت میں   معاذاللّٰہعَزَّوَجَلّکینسر کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ بَسا اوقات بچّے کارپیٹ پر قے یا پیشاب وغیرہ کرڈالتے ،بِلّیاں   گندگی کرتیں  ،چُو ہے اور چھپکلیاں  مینگنیاں   کرتے ہیں  ۔ کار پیٹ ناپاک ہوجانے کی صُورت میں   عُمُوماً پاک کرنے کی زحمت بھی نہیں   کی جاتی ۔ کاش! کا رپیٹ بچھانے کا رواج ہی ختم ہوجائے۔

کارپیٹ پاک کرنے کا طریقہ

   کارپَیٹ (CARPET)  کا ناپاک حصّہ ایک بار دھوکر لٹکادیجئے یہاں   تک کہ پانی ٹپکنا موقوف ہوجائے پھر دوبارہ دھوکر لٹکائیے حتیّٰ کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے پھر تیسری بار اِسی طرح دھوکر لٹکادیجئے جب پانی ٹپکنا بند ہوجائے گا تو کارپیٹ پاک ہوجائے گا ۔ چَٹائی ،چمڑے کے چپل اورمِٹّی کے برتن وغیرہ جن چیزوں   میں   پتلی نَجاست جَذب ہو جاتی ہو اِسی طریقے پر پاک کیجئے ۔ ایسانازُک کپڑا کہ نچوڑنے سے پھٹ جانے کا اندیشہ ہو وہ بھی اِسی طرح پاک کیجئے۔ اگر ناپاک کارپَیٹ یا کپڑا وغیرہ بہتے پانی میں   ( مَثَلاً دریا،نَہر میں   یا پائپ یا ٹُونٹی کے جاری پانی کے نیچے)  اتنی دیر تک رکھ چھوڑیں   کہ ظنِّ غالِب ہوجائے کہ پانی نَجاست کو بہاکر لے گیا ہو گا تب بھی پاک ہوجائے گا ۔کارپیٹ پر بچّہ پیشاب کردے تو اُس جگہ پر پانی کے چھینٹے مار دینے سے وہ پاک نہیں   ہوتا۔یاد رہے ! ایک دن کے بچّے یا بچی کا پیشاب بھی ناپاک ہوتاہے ۔ ( تفصیلی معلومات کیلئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت حصّہ2 صَفْحَہ 118تا 127کا مطالعہ فرمالیجئے۔)

 {6}  قَعدۂ اَخیرہ:  یعنی نَماز کی رَکعتیں   پوری کرنے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ پوری تَشَھُّد  (یعنی پوری اَلتَّحِیّات)  رَسُوْ لُہٗ تک پڑھ لی جائے فرض ہے ۔  (عالمگیری ج۱ص۷۰)   چاررَکعَت والے فرض میں   چوتھی رَکعَت (رَکْ۔ عَت )  کے بعد قَعدہ نہ کیا تو جب تک پانچویں   کا سَجدہ نہ کیا ہو بیٹھ جائے اور اگر پانچویں   کاسَجدہ کر لیا یا فجر میں   دوسری پر نہیں   بیٹھی تیسری کاسَجدہ کر لیا یا مغرِب میں   تیسری پر نہ بیٹھی اور چوتھی کا سَجدہ کر لیا ان سب صورَتوں   میں   فرض باطِل ہو گئے ۔ مغرب کے علاوہ اورنَمازوں   میں  ایک رَکعَت مزید ملا لے ۔  (  غُنْیَہ،ص۲۹۰)

 {7} خُروج بِصُنْعِہٖ :   یعنی قَعدۂ اَخیرہ کے بعد سلام یا بات چیت وغیرہ کوئی ایسا فِعل قَصداً  ( یعنی اِرادتاً )  کرنا جونَماز سے باہَر کردے۔ مگر سلام کے علاوہ کوئی فِعل قَصداً  (یعنی ارادۃً) پایا گیا تو نَماز واجِبُ الاِعادہ ہو گی ۔ اور اگر بِلاقَصد (بِلا ارادہ)  کوئی اِس طرح کافِعل پا یا گیا تونَماز باطِل۔  ( بہارِشریعت حصّہ ۳ ص۸۴)

 ’’ سیِّدتُنا سکینہ بنتِ شَہنشاہِ کربلا ‘‘ کے پچیس حُروف کی نسبت سے تقریباً 25     واجبات

        {1} تکبیرِ تحریمہ میں   لفْظ  ’’ اَللّٰہُ اَکْبَر ‘‘  کہنا  {2} فَرضوں   کی تیسری اور چوتھی رَکْعَت  ( رَکْ ۔عَت ) کے علاوہ باقی تمام نَماز وں   کی ہر رَکْعَت میں   الحمد شریف پڑھنا ، سُورت ملانا یا قرآنِ پاک کی ایک بڑی آیت جو چھوٹی تین آیتوں   کے برابر ہو یا تین۳ چھوٹی آیتیں   پڑھنا  {3}  الحمد شریف کا سورت سے پہلے پڑھنا  {4}  الحَمد شریف اور سورت کے درمِیان ’’  اٰمِیْن ‘‘  او ر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط    کے علاوہ کچھ اور نہ پڑھنا  {5} قراءت کے فوراً بعد رُکوع کرنا  {6}  ایک سَجدے  کے بعد باِلتَّرتیب دوسرا سجدہ کرنا {7}  تَعدِیلِ ارکان یعنی رُکوع ، سُجود ، قومہ اور جلسہ میں   کم از کم ایک بار  ’’ سُبْحٰنَ اللّٰہ ‘‘  کہنے کی مقدارٹھہرنا  {8} قَومہ یعنی رُکوع سے سیدھی کھڑی ہونا  ( بعض اسلامی بہنیں   کمر سیدھی نہیں   کرتیں   اس طرح ان کا واجِب چھوٹ جاتا ہے )  {9}  جَلسہ یعنی دوسَجدوں   کے دَرمیان سیدھی بیٹھنا  (بعض اسلامی بہنیں   جلد بازی کی وجہ سے برابر سیدھے بیٹھنے سے پہلے ہی دوسرے سجدے میں   چلی جاتی ہیں   اس طرح ان کا واجب ترک ہو جاتا ہے چاہے کتنی ہی جلدی ہو سیدھا بیٹھنا لازِمی ہے ورنہ نَماز مکروہِ تَحریمی واجِبُ الاعادہ ہوگی)   {10}  قعدۂ  اُولیٰ واجِب ہے اگر چہِ نَمازِ نفل ہو  ( نفل میں   چار یا اس سے زیادہ رکعتیں   ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہیں   تب ہر دو دو رکعت کے بعد قعدہ کرنا فرض ہے اور ہر قعدہ  ’’ قعدۂ اَخیرہ ‘‘ ہے اگرقَعدہ نہ کیا اور بھول کر کھڑی ہوگئیں   تو جب تک اس رَکعَت کا سجدہ نہ کرلیں   لوٹ آئیں   اور سجدۂ سَہو کریں  ۔)   {11} اگرنفل کی تیسری رَکعت کا سجدہ کر لیا تو چار پوری کرکے سَجدۂ سَہو کرے ، سجدۂ سہواس لئے واجِب ہوا کہ اگر چِہ نَفل میں   ہر دو رَکعَت کے بعد قعدہ فرض ہے



Total Pages: 92

Go To