Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

جواب :     کرسکتے ہیں ۔ چھوٹے بچے کو بھی اگر ایصالِ ثواب کریں تو اس کو ثَواب پَہُنچتا ہے ۔  تیجہ، دسواں ، چالیسواں یہ سب اِیصال ثواب کے ذِرائِع ہیں ([1])، اِن کا کرنا کارِ ثواب ہے ، نہ کریں تو گناہ نہیں  ۔

میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن   سے چھوٹے بچّے کو ایصالِ ثواب کرنے کے بارے میں سُوال کیاگیاتواِرشاد فرمایا : ’’ضَرور جائز ہے اوربے شک ثَواب پَہُنچتاہے ، اہلِ سُنّت کا یہی مَذْہَب ہے ۔ ‘‘

مزید فرماتے ہیں  : ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ بچّہ اہلِ ثَواب میں سے ہے ۔  (کیونکہ) حدیثِ شریف کی تَصْرِیحات ، عُلَمائے کرام کے اِرشادات مُطْلَق مذکورہیں کہ جن میں کوئی تخصیص (تَخْ ۔ صِیص) نہیں (یعنی بالِغ و نابالِغ کی کوئی قیدمذکور نہیں ) ۔ ‘‘(فتاوٰی رَضَوِیہ مُخرّجہ ج۲۳ص۱۲۴مرکزالاولیاء لاہور)

اِیصالِ ثواب کا طریقہ اور اس کے بارے میں دِلْچَسْپ معلومات کیلئے  مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ مختصرسارِسالہ ’’فاتحہ کا طریقہ‘‘ مُلاحَظہ فرما لیجئے ۔

حَج و عُمرہ کیلئے سُوال کرناکیسا ؟

سُوال :    کیاحج وعُمرے کے لئے سُوال کرسکتے ہیں ؟

جواب :     ہرگز نہیں کرسکتے ۔  حج وعُمرہ کرنے والے کے پاس اپنے سفرو طَعام کے تمام اَخراجات ہونے چاہئیں  ۔

صَدْرُ الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا نعیم الدین مُرادآبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی اپنی تفسیرخزائِنُ العِرفان میں پارہ 2 سُورَۃ البقرۃ کی آیت 198 : { ترجَمۂ کنزالایمان  : اور توشہ ساتھ لوکہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے }کے تحت فرماتے ہیں  : ’’بعض یمنی حَجکیلئے بے سامانی کے ساتھ روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو مُتَوَکِّلکہتے تھے اور مکّۂ مُکرّمہ میں پَہُنچ کر سُوال شروع کر دیتے اور کبھی غَصَب وخِیانت کے مُرتکِبْ ہوتے ۔ ان کے بارے میں آیتِ مُقَدَّسَہ نازِل ہوئی اور حکم ہوا کہ توشہ لے کر چلو، اَوروں پر بار نہ ڈالو، سُوال نہ کرو کہ بہتر توشہ پرہیز گاری ہے ۔ (خَزَائِنُ الْعِرْفَان  پ۲ اَلْبَقَرۃ ۱۹۷ پاک کمپنی لاہور)

حج وعُمرہ کے لئے سُوال کرنادَرکِنار فُقَہائے کرام رحمہم اللہ السّلام نے یہاں تک لکھا ہے کہ غُسْل کے بعد اِحرام باندھنے سے پہلے اپنے بَدَن پر خُوشبو لگایئے بشرطیکہ اپنے پاس موجُود ہو، اگر اپنے پاس نہ ہو توکسی سے خُوشبو کا سُوال مت کیجئے  ۔ (اَلدُّرُّالْمُخْتار ورَدُّ الْمُحْتارج ۳ص۵۵۹ دارالمعرفۃ بیروت)

صحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کا جذبۂ عمل

جب سرکار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سُوال کرنے کی مُمانَعَت فرمائی تو بعض صَحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْنکا حال تو یہ ہوگیا کہ اگر وہ سُواری پر ہوتے اور ان کاچابک گِرجاتا تب بھی کسی سے نہ کہتے کہ اُٹھادو، خود ہی نیچے اُتر کر اُٹھالیتے ۔  چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عَوف بن مالِک رضی اللہ تعالیٰ عنہسے مروی ہے کہ جبشَہَنْشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجَمال، ، دافِعِ رنج و مَلال، صاحِبِ جُودونَوال، رسُولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صَحابہ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے فرمایا : وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَیْئًا (یعنی لوگوں سے



   [1]    سوئم، چہلم کی مجلس میں نیز گیارھویں شریف  کی نیاز کی دعوت وغیرہ کے مواقع پرایصالِ ثواب کیلئے ’’  لنگرِ رسائل‘‘کے مَدَنی بستے لگوایئے ۔ ایصالِ ثواب کے لئے اپنے مرحوم عزیزوں کے نام ڈلواکر فیضانِ سُنّت، نَماز کے اَحکام اور دیگر چھوٹی بڑی کتابیں ، رسالے اور پمفلٹ وغیرہ کی تقسیم کرنے کے خواہشمنداِسلامی بھائی مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ سے رُجوع کریں  ۔



Total Pages: 13

Go To