Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

کیلئے دُعا کی ۔  جب واپَس پلٹا تو ماموں جان صِحّت یاب ہو کر گھر بھی آچکے تھے اور اب نَماز کیلئے گھر سے نِکل کر خِراماں خِراماں جانبِ مسجِد رَواں دَواں تھے ۔  یہ رَحمت بھرا منظر دیکھ کر اُس نَوجوان نے گناہوں بھری زندگی سے تَوبہ کی اور اپنے آپ کو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگ لیا ۔ (فَیْضَانِ سُنّت جلد اوّل ص۸۲ مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

مرض گمبِھیر ہو، گر چِہ دِلگیر ہو ہو گی        دل حل مشکلیں قافلے میں چلو

غم کے بادَل چَھٹیں اور خوشیاں ملیں           دل کی کَلیاں کِھلیں قافِلے میں چلو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پیرومُرشِد کے لیے دُعائے مَغْفِرت کرسکتے ہیں

سُوال :    اپنے پیرومُرشِد کے لئے دُعائے مَغْفِرت کرسکتے ہیں یانہیں ؟

جواب : کرسکتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  میں اپنے پیرومُرشِد سیِّدی قُطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین احمدمدنی عَلَیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الغَنِی کیلئے دُعائے مَغْفِرت کرتاہوں ۔ مُرشِد تو مُرشِد، صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کے لئے بھی دُعائے مَغْفِرت کرناجائز ہے باوُجُود یہ کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے اِن سے بِلاحِساب جنّت کا وعدہ فرمایاہے ۔  اِسی طرح ہر اس شخْص کے لئے دُعائے مَغْفِرت کرسکتے ہیں جس کا خاتِمہ اِیمان پر ہوا ہو ۔  قراٰنِ پاک میں اِرشادہوتاہے :

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں ، اے ہمارے ربّ ! ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمِان لائے اور ہمارے دِل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ ، اے ہمارے ربّ ! بے شک تُوہی نہایت مہربان رَحم والاہے ۔

اِس آیت کے تَحت خَزَائِنُ الْعِرفَان میں ہے :  جس کے دِل میں کسی صَحابی کی طرف سے بُغض یاکَدُورت ہو اور وہ اُن کے لئے دُعائے رَحمت و اِستِغفَار نہ کرے وہ مؤمنین کی اَقسام سے خارِج ہے ۔   (خَزَائِنُ الْعِرْفَان پ۲۸ اَلْحَشْر۱۰پاک کمپنی لاہور)

مُتَعَدَّد احادیثِ مُبارَکہ میں ہے کہ سرکار عالی وقار ، شفیعِ روز شمار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے لوگوں کو صَحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے اِنتقال کے بعد ان کے لئے اِسْتِغفَار کرنے کاحکم فرمایا ۔ چُنانِچہ حضرتِ سیِّدُناابُوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ جس دن شاہِ ِحَبْشہ حضرت ِ سیِّدُنانجاشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  ([1]کا اِنتقال ہوا، شَہَنْشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحِبِ مُعَطّرپسینہ، باعِثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صَحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکو اِن کے اِنتقال کی خبر دی اور فرمایا : ’’اِسْتَغْفِرُوا لِاَخِیکُمْ‘‘ یعنی اپنے بھائی کے لئے اِسْتِغْفار کرو ۔ (سُنَن نَسائی ص۳۴۴حدیث۲۰۳۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اَمیرُالْمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعثمان بن عَفّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرتِ سیِّدُنا ھَانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں کہنبی ٔمُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم،



   [1]    نجاشی حبشہ کے ہربادشاہ کا لقب ہے البتہ حدیثِ پاک میں مذکورشاہِ حبشہ کا اَصل نام اَصْحَمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہے جوکہ مُتَعَدَّد احادیثِ مبارَکہ میں بھی مروی ہے ، عَرَبی میں اس کا معنی ’’ عَطِیّہ‘‘ ہے ۔ (شَرح صَحِیْح مُسلِم لِلنَوَوی ج۴ص۲۲دارالکتب العلمیۃ بیروت)



Total Pages: 13

Go To