Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

اس پر امّی جان نے خود فرمایاکہ یہ سب بَیْعَت ہونے کا فَیض ہے ۔  یہ بیان دیتے وَقت اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  میں اپنے یہاں ذَیلی قافِلہ ذِمّہ دار کی حیثیت سے اپنی پیاری پیاری مَدَنی تحریک، دعوتِ اِسلامی کی خدمت کرنے کی کوشِش کر رہا ہوں  ۔ (فَیضَانِِ سُنَّت جلد اوّل ص۱۵۰۴مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

سیکھنے زندگی کا قرینہ چلو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتکاف

دیکھنا ہے جو میٹھا مدینہ چلو، مَدَنی ماحول میں کر لو تم اِعتکاف

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

پریشانی دُور کرنے کے اَوراد و وظائف

سُوال :    پریشانی دُور ہونے کا کوئی وِرد بتادیجئے ۔

جواب :   لاحول شریف (لاَحَـوْلَ وَلاقُـوَّۃَ اِلاَّبِـالـلّٰـہِ الْـعَـلِـیِّ الْـعَـظِـیْـم) کی کثرت کیجئے اس سے 99  بلائیں دُور ہوتی ہیں ، اِن میں سب سے آسان تَر بلا پریشانی ہے اورلاحول شریف روزانہ 60 بار پڑھ کرپانی پر دَم کرکے پانی پی لیا کریں  ۔ (اَلْمَلْفُوظ حصّہ اوّل ص۱۶۳مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

ہرنَماز کے بعد پیشانی پرہاتھ رکھ کر یہ دُعا پڑھ لیا کریں  : بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّاھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ، اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْھَمَّ وَالْحُزْنَ‘‘( اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ )ہر پریشانی اور غَم ومَلال سے اَمان پائیں گے ۔ (اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَۃُ ص۲۱ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا بابُ المدینہ کراچی)

حضرتِ سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایت ہے کہ اِمامُ الْعٰبِدین، سلطانُ السّٰجِدین ، سیِّدُ الصّٰلِحین، سیِّدُ المُرْسَلِین، جنابِ رحمۃٌ لِّلْعٰلمِین    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب نَماز ادافرمالیتے تو مبارک پیشانی پر اپناسیدھاہاتھ رکھتے اور یہ دُعاپڑھتے  :

بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ ، اَللّٰھُمَّ اَذْھِبْ عَنِّی الْغَمَّ([1])وَالْحُزْنَ

ترجَمہ : اللّٰہ کے نام سے شروع جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ رَحمٰن و رَحِیْم ہے اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  !دُور فرمامجھ سے غم و مَلال  ۔

 (اَلْمُعْجَمُ الْاَوْسَط لِلطَّبَرَانْی ج۲ص۵۷حدیث۲۴۹۹دارالکتب العلمیۃ بیروت)

میرے آقائے نعمت ، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت اعلیٰ حضرت  مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  نے اس دعا پر مزید ان الفاظ کا اضافہ فرمایاہے  : ’’وَعَنْ اَھْلِ السُّنَّۃِ‘‘ (یعنی اور اہلسنّت سے  بھی غم ومَلال دُور فرما ) (اَلْوَظِیْفَۃُ الْکَرِیْمَۃُ ص۲۱ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا بابُ المدینہ کراچی)

تمام مسلمانوں کو دُعامیں شریک کرنے کی فضیلت

دُعا کے آداب میں سے ایک اَدَب یہ بھی ہے کہ اپنے لئے دُعاکرنے کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی شامل کرلے جیساکہ رئیسُ المُتَکلِّمین حضرت مولانانقی علی خان علیہ رحمۃ المنّان اپنی کتاب ’’اَحْسَنُ الْوِعَاء لِآدَابِ الدُّعَاء‘‘ میں دُعا کا ایک اَدَب یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ جب اپنے لئے دُعا مانگے تو سب اہلِ اِسلام کو اس میں شریک کر لے  ۔

 



   [1]    طبرانی شریف ہی کی ایک دوسری روایت میں’’اَلْغَمّ‘‘ کی جگہ’’ اَلْھَمّ‘‘ کے الفاظ بھی مَنْقُول ہیں ۔  (ایضاً ص ۲۵۱حدیث ۳۱۷۸)



Total Pages: 13

Go To