Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

طَبَرانی شریف میں حضرت ِ سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے  : ’’کوئی صُبح شام ایسی نہیں مگریہ کہ زمین کا ایک ٹکڑا دوسرے کو پُکار کر کہتا ہے :  اے پڑوسی ! کیا تجھ پرآج کسی ایسے مردِ صالِح کاگزر ہوا ہے جس نے تجھ پرنَماز پڑھی ہویا اللّٰہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا ذِکر کیاہوپس اگر وہ ہاں کہہ دے تو یہ (پُکارنے والا)خیال کرتاہے کہ اِس کے سَبَب اُسے اِس پر فضیلت حاصل ہوگئی ہے  ۔ (اَلْمُعجَمُ الاوسط لِلطّبَرانی ج ۱ص۱۷۱حدیث ۵۶۲دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بھرے  اِجتماعات  میں ذکرودُرُود بلندآواز سے کرنے کا سلسلہ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ تلاوتِ قراٰنِ مجید، نعت شریف ، بیان ، دُعا، صلوٰۃو  سلام، سُنَّتیں ، آداب اوردُعائیں سیکھنے سکھانے کے حَلْقوں کی بھی ترکیب ہوتی ہے ۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  دعوتِ اِسلامی کے اِن اِجتماعات کی بَرَکت سے بے شُمار لوگ گناہوں بھری زندگی اور بُرے ماحول سے تائب ہوکرصوم وصلوٰۃ اورسرکار  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سُنَّتُوں کے پابندبن چکے ہیں ۔ آپ بھی اپنے قُلُوب و اَذہان کو ذِکر ودُرُود کی لَذَّتوں سے آشناکرنے ، اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّوَجَلَّ  کی سچّی مَحبَّت، سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے عشق سے سَرشار کرنے اور قَبروآخرت سُنوارنے کے لئے دعوتِ اِسلامی کے اِن سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں ضَرور ضَرورشِرکت فرمایا کیجئے  ۔

 اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دوجہاں کی بے شُمار بھلائیاں نصیب ہوں گی ۔  آپ کی ترغیب و تحریص کیلئے ایک’’ مدنی بہار‘‘ گوش گزار کرتا ہوں  ۔

ڈبّواسنوکرکا عادِی صوم وصلوٰۃ کاپابند بن گیا

لِیاقت آباد ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اِسلامی بھائی  کے بیان کا خُلاصہ ہے :  میں بے تَحاشہ فلمیں ڈِرامے دیکھاکرتا، ڈبّواِسنوکر کھیلنے کا جُنون کی حدتک شوق تھا حتّٰی کہ کسی کے ڈانٹنے بلکہ مارنے تک سے بھی یہ لَت نہیں چھوٹ سکتی تھی ۔  گناہوں کی نَحوست کا عالَم یہ تھا کہ مَعَاذَ اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ   )نَماز پڑھنے سے دِل گھبراتا تھا ! اللّٰہُرَبُّ الْعِزَّۃ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے ہمارے عَلاقے کی فُرْقَانِیَہ مَسْجِد (لیاقت آباد، بابُ المدینہ کراچی) میں تبلیغِ قراٰن وسُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اِسلامی کی طرف سے ہونے والے آخِری عشرۂ رَمَضانُ المُبارَک(۴۲۵ا ؁ ھ ۔ 2004 ء) کے  اجتِماعی اِعتِکاف کے اندر میں گنہگار بھی عاشِقانِ رسُول کے ساتھ مُعتَکِف ہو گیا ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ   ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ کی بَرَکت سے آخِرت بنانے کی سوچ بنی ، گناہوں سے کچھ بے رَغْبَتی پیدا ہوئی ۔  پھر قادِریہ رضویہ سلسلے میں مُرید بنا تو نَماز کی پابندی نصیب ہوئی ، مَیں نے ڈبّواسنوکر کھیلنا ترک کر دیا ۔  مجھے حیرت ہے میں نے یہ کیسے چھوڑ دیا ! اِس کے بعد دعوتِ اِسلامی کے بینَ الاقوامی تین روزہ سُنّتوں بھرے اجتِماع کے آخِری دن صحرائے مدینہ ( بابُ المدینہ ) میں حاضِری ہوئی ، وہاں ’’ T.V.کی تباہ کاریاں ‘‘ کے موضوع پر بیان ہوا ۔  اس کو سُن کر میں عذاب ِ قَبْرو حَشْر کے خوف سے لرزاُٹھا اور میں نے عہد کر لیا کہ کبھی بھیT.V.نہیں دیکھوں گا ۔  میں نے اپنی پیاری امّی جان کو سُنَّتوں بھرے بیان ’’T.V.کی تباہ کاریاں ‘‘ کی کیسٹ سنائی تو انہوں نے بھی T.V دیکھنا بالکل بند کر دیا اورسرکارِ غوثُ الاعظمعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم کی مُریدنی بننے کا جَذْبہ پیدا ہوا چُنانچِہ اِن کو بھی بَیْعَت (بَے ۔ عَتْ) کروا دی ۔ اِس کی بَرَکت سے امّی جان فَرْض نَمازوں کے ساتھ ساتھ تہجُّد ، اِشراق اور چاشت بھی پابندی سے پڑھنے لگیں ۔ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ   کی عظمت و شان پر میری جان قربان ! تھوڑے ہی عرصے میں امّی جان کو مدِینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّتَکریماً کا بُلاوا آگیا ۔  



Total Pages: 13

Go To