Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

میں  سے یہ ہے کہ دوسروں  کو الزام لگائے جائیں  اور اُن کی عزّت میں ہاتھ ڈالا جائے اور لایعنی وبے مقصد باتوں  میں  غَوطہ زَنی کی جائے ۔ حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،

 سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  آدَمی کی اسلام کی خوبیوں  میں  سے ایک یہ ہے کہ وہ کام چھوڑ دے جو اسے نفع نہ دے ۔ (تِرْمِذِی  ج۴ ص۱۴۲ حدیث ۲۳۲۴ )

کیا سرکا ر نے بھی کبھی چندہ کیا؟

سُوال :  کیا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے چندہ کرناثابِت ہے ؟

جواب :  جی ہاں ، جِہاد کیلئے چندے کی ترغیب ارشاد فرمانے کی یہ روایت نہا یت مشہور ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُالرحمن بن خَبّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ میں  بارگا ہِ نَبَوی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں  حاضِر تھا اور حُضورِ اکرم ، نورِمُجَسَّم ، رسولِ محترم ، رَحْمتِ عالَم ، شاہِ بنی آدم ، نبیِّ مُحْتَشَم، سراپا جُودو کرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کو ’’جَیشِ عُسْرَت ‘‘(یعنی غَزوۂ تَبوک ) کی تیّاری کیلئے ترغیب ارشاد فرما رہے تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عَفّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُٹھ کر عَرْض کی : یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ    پالان اور دیگر  مُتَعَلِّقَہ سامان سَمیتسواُونٹمیرے ذِمّے ہیں ۔ حُضورسراپا نور، فیض گَنجور، شاہِ غَیُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے پھر تَرغِیباً فرمایا ۔ تو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دوبارہ کھڑے ہوئے اور عرض کی :  یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میں  تمام سامان سَمیت دوسو اُونٹ حاضِر کرنے کی ذِمّہ داری لیتا ہوں   ۔ دو جہاں  کے سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان سے پھرتَرغِیباً ارشاد فرمایا تو حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : یارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میں  مع سامان تین سو اُونٹ اپنے ذمّے قَبول کرتا ہوں  ۔ راوی فرماتے ہیں  : میں  نے دیکھا کہ حُضورِ انور ، مدینے کے تاجور ، شافِعِ مَحْشر ،  بِاِذنِ ربِّ اکبر غیبوں  سے باخبر، محبوبِ داوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ سن کر مِنبرِ مُنَوَّر سے نیچے تشریف لاکر دومرتبہ فرمایا : ’’ آج سے عثمان(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) جو کچھ کرے اُس پر مُواخَذَہ (یعنی پوچھ گچھ) نہیں  ۔ ‘‘ (تِرْمِذی ج۵ ص۳۹۱ حدیث ۳۷۲۰)

950اُونٹ اور50گھوڑے

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج کل دیکھا گیا ہے کچھ حضرات دوسروں  کی دیکھا دیکھی جذبات میں  آ کر چندہ لکھو اتو دیتے ہیں  مگر جب دینے کی باری آتی ہے تو ان پر بھاری پڑ جا تاہے حتّٰی کہ بعض تو دیتے بھی نہیں  !مگرقربان جائیے محبوبِ مصطَفٰے ، سیِّدُ الْاَسْخیائ، عثمانِ با حیا  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے جو ُدو سخا پر کہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے اعلان



Total Pages: 50

Go To