Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

چلوانے میں  تنظیمی ذمّہ داران کی طرف سے کوتاہی ہو گی تو جو اعلان پر بھروسہ کر کے وَقت کے مطابِق آئے ہوں  گے وہ بدظن ہوں  گے ، نیز یہ بھی اِمکان ہے کہ وہ غیبتوں  اور بدگُمانیوں  کے گناہوں  میں  پڑیں  ، آیندہ آنے ہی سے کترائیں  یا خود بھی تاخیر سے آنے کے عادی بن جائیں  اور نتیجۃً سنّتوں  بھری تحریک، دعوتِ اسلامی کی بدنامی کے اسباب بنیں ۔ ہمیشہ ہر مُعاملے میں  وَقت وُہی دینا چاہئے جس کو نبھانا ممکن ہو اور پھر اُس کی پابندی کروانے میں  جان لڑا دینی چاہئے  {3} دورانِ سفر پلیٹ فارم پر نَمازیں  پڑھنے میں  بھی اتنا زیادہ وَقت نہ لگائیے کہ ٹرین کا عملہ بدظن ہو اور گناہوں  بھری ، توہین آمیز اور دل آزاربحثیں  چھڑیں {4} ٹرین کی چَھت یا فُٹ بورڈ پر ہرگز کوئی سفر نہ کرے کہ قانون شکنی کے ساتھ ساتھ جان کا بھی خطرہ ہے {5} طویل سفر اور اسلامی بھائیوں  کی کثرت کے سبب بے شک صَبْرآزما مراحِل درپیش ہوتے ہوں  گے ، مگرہر حال میں  ٹرین کے عملے کے ساتھ نرمی نرمی اورصِرف نرمی سے ترکیب بنایئے ورنہ بد اَخلاقیوں ، دل آزارِیوں  ، بدنامیوں  اور بد انتظامیوں  کا سلسلہ رہے گا{6} بِالفرض ٹرین کے عملے نے زِیادَتی کی ہو، تب بھی آپ ہرگز ’’اینٹ کا جواب پتّھر سے ‘‘ مت دیجئے کہ نَجاست کو نَجاست سے نہیں  پانی سے پاک کیا جاتا ہے ۔ صَبْرو تَحَمُّل سے کام لیجئے اور حکمتِ عملی کے ساتھ مسائل کا حل نکالئے ۔ بپھر کر گالیاں  سنانا، پتھّر برسانا، توڑ پھوڑ مچانا، حکومَتی اِملاک جلانا، گاڑیوں  کو آگ لگانا وغیرہ وغیرہ افعال سراسر جہالت ، پرلے درجے کی حماقت اور خلافِ شریعت و سنَّت، حرام اور جہنَّم میں  لے جانے والے کام ہیں ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فِقہ کا ایک اُصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  : اَلْمُنکَرُلَا یُزَالُ بِمُنکَر یعنی گناہ کا اِزالہ گناہ سے نہیں  ہوتا ۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۶۳۹ )

 کیا دُنیوی قانون پر عمل کرنا ضَروری ہے ؟

سُوال :  کیا دُنیوی قانون پر عمل کرنا ضَروری ہے ؟

جواب :  وہ دُنیوی قانون جو خلافِ شَریعت نہ ہو اُس پر عمل کرنا ضَروری ہے کیوں  کہ عمل نہ کرتے ہوئے پکڑے جانے کی صورت میں  ذِلّت اُٹھانے ، جھوٹ بولنے یا رشوت وغیرہ کے گناہوں  میں  پڑنے کااندیشہ ہے ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فتا وٰی رضویہ جلد 29 صَفْحَہ 93پر فرماتے ہیں  : کسی جُرمِ قانونی کا ارتِکاب کر کے اپنے آپ کو ذلّت پر پیش کرنا بھی منع ہے حدیث میں  ہے : ’’ جو شخص بِغیر کسی مجبوری کے اپنے آپ کو بخوشی ذِلّت پر پیش کرے وہ ہم میں  سے نہیں ۔  ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج ۱ ص ۱۴۷ حدیث۴۷۱ )

ضَمانت ضَبط کر لینا کیسا؟

سُوال :  بس ، کوچ یا ویگن بُک کرواتے وَقْت یہ طے کرنا کیسا کہ اگر ہم نے بکنگ کینسل کروائی تو ہماری پیشگی جمع



Total Pages: 50

Go To