Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

نادِم ہے ، کیا کرے ؟

جواب :  چندہ جس مَدّ میں دیا جائے اُسی میں استِعمال کرنا واجِب ہے ۔  ’’وکیل ‘‘ نے خِیانت کی ۔  اِس کا تاوان ادا کرے یعنی جتنی رقم مالداروں  پر خرچ کی اُتنی پلّے  سے چندہ دِہَندہ (یعنی چندہ دینے والے )کو پیش کر دے اور توبہ بھی کرے ۔ یہ اُصول ہمیشہ یاد رکھئے کہ چندہ دینے والا شَریعت کے دائرے میں  رَہ کر جیسا کہے ویسے ہی کرنا ہوتا ہے ۔  اب جبکہ اُس نے غریبوں  کی قید لگا دی تو غریبوں  ہی کو دینا ہو گا اگر وہ صَراحَۃً(یعنی کُھلے لفظوں  میں ) کہدے : ’’ میری رقم سے فَقَط کرایہ ادا کرنا ، تو اُس کی رقم سے صرف کرایہ ہی ادا کیا جائے گا، کھا پی نہیں سکتے ۔ اگر اس نے کہہ دیا :  ’’ فُلاں  فُلاں  کو اِس رقم سے سالانہ اجتِماع میں  لے جاؤ ‘‘ تو اب اُنہیں  کو لے جانا ہو گا کسی اور کو نہیں  لے جا سکتے ، اگر وہ نہ گئے یا کسی طرح رقم بچ گئی تو وہ رقم واپَس لوٹانی ہو گی ، مخصوص عَلاقے والوں  کو لے جانے کی صَراحت کر دی تو دوسرے عَلاقے والے کو نہیں  لے جا سکتے ۔  اَلغَرَض چندے میں  اپنی طرف سے نہ کسی طرح کا تصرُّف کرے نہ ہی بِلا اجازتِ شَرعی اُس کا ایک لقمہ بھی خود کھائے نہ کسی کو کھلائے ورنہ آخِرت میں  پکڑ ہوگی ۔

وَقف کے مال کے غَلَط استِعمال کا عذاب

سُوال :  جومالِ وقف کا غَلَط استِعمال کرے اُس کیلئے کوئی وعید سنا دیجئے ۔

جواب : دو احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرمایئے : {1}راحتِ قلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ العباد ، رسولِ کریم وجَواد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے :  ’’کچھ لوگ اللہتعالٰی کے مال میں  ناحق تصرُّف کرتے ہیں  ، قِیامت کے دن ان کیلئے جہنَّم ہے ۔ ‘‘ (بُخاری  ج۲ ص۳۴۸ حدیث۳۱۱۸){2}حُضُور سیِّدِ عالم، نُورِ مُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : کتنے ہی لوگ جو اللہ( عَزَّوَجَلَّ )  اور اس کے رسول کے مال میں  سے جس چیز کو ان کا دل چاہتا ہے اپنے تصرُّف میں  لے آتے ہیں  قیامت کے دن ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے ۔ (تِرمِذی ج۴ ص۱۶۵ ۔ ۱۶۶ حدیث۲۳۸۱) 

مَدَنی قافِلہ یا سالانہ اجتِماع کیلئے سُوال کرنا کیسا؟

سُوال :  مَدَنی قافِلوں  میں  سفر یا  سنّتوں  بھرے اجتِماع میں  شرکت کیلئے کِرائے وغیرہ کا سُوال کرنا کیسا؟

جواب :  مَدَنی قافِلے میں  سفر یا سالانہ اجتِماع میں شرکت کی خاطر اپنی ذات کیلئے کرائے وغیرہ اَخراجات کا  سُوال کرنا مسکین کو بھی حلال نہیں  کیوں  کہ یہ کام ضَروریات میں  شامِل نہیں  یہاں  تک کہ حج و عمرہ اور سفرِ مدینہ کیلئے بھی سُوال کرنا حرام اور جہنَّم میں  لے جانے والا کام ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا



Total Pages: 50

Go To