Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

مِنَ الْمُصْلِحِؕ-{ترجَمۂَ کنز الایمان : اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے ۔  (پ ۲، البقرہ :  ۲۲۰) } اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمارے اعمال کی اِصلاح فرمائے اور ہماری امّیدیں  بَر لائے ۔  (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ ص ۱۰۹)

سیِّد صاحِب کو زکوٰۃ کے حِیلے کی رقم دینا کیسا؟

سُوال :  اگر سیِّد غریب ہو تو اُس کو زکوٰۃ کی حیلہ شدہ رقم دے سکتے ہیں  یا نہیں ؟

جواب :  دے تو سکتے ہیں  مگر افضل یہی ہے کہ بغیر حیلہ کے اپنی جیبِ خاص سے رقم نذر کی جائے ۔  افسوس صد کروڑ افسوس! اپنی اولاد کو تو ہم دنیا کی ہر آسائش دینے کیلئے تیّار رہیں  اور اولادِ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیعنی سادات کی خدمات کیلئے ایک رُوپلّی بھی جیبِ خاص سے حاضِر کرنے سے کترائیں  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ ا مام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے  ہیں : رہا یہ کہ پھر اِس زمانۂ پُر آشوب میں  حضراتِ ساداتِ کرام کی مواسات ( یعنی امداد و غم خواری) کیونکر ہو ۔  اَقُول(یعنی میں  کہتا ہوں ) بڑے مال والے اگر اپنے خالص مالوں  سے بطورِ ہَدِیّہ(ہَ ۔ دِی ۔ یہ) ان حضراتِ عُلیا(یعنی بُلند مرتبہ صاحبان ) کی خدمت نہ کریں  تو ان (مالداروں )کی (اپنی)بے سعادَتی ہے ، وہ وَقت یاد کریں  جب ان حضرات( ساداتِ کرام) کے جَدِّاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا ظاہِری آنکھوں  کو بھی کوئی مَلجا ومَاوا ( یعنی پناہ کا ٹھکانہ) نہ ملے گا ، کیا پسند نہیں  آتا کہ وہ مال جو انھیں  کے صدقے میں  اُنھیں  کی سرکار سے عطاہوا ، جسے عنقریب چھوڑ کر پھروَیسے ہی خالی ہاتھ زَیرِزمین(یعنی قبر میں ) جانے والے ہیں ، اُن کی خُوشنودی کے لیے اُن کے پاک مبارَک بیٹوں  (یعنی سیِّدوں ) پر اُس کا ایک حصّہ صَرف کیا کریں  کہ اُس سخت حاجت کے دن (یعنی بروزِ قیامت ) اُس جواد کریم، ر ء ُ وفٌ رَّحیم  کے بھاری اِنعاموں  ، عظیم اِکراموں  سے مُشرَّف ہوں  ۔

    سیِّد کے ساتھ بھلائی کرنے کا عظیم صِلہ

             ابنِ عساکِر امیرُالْمُؤمِنِین مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے راوی، رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں  : جو میرے اہلِ بیت میں  سے کسی کے ساتھ اچّھا سلوک کرے گا میں  روزِ قیامت اس کا صِلہ اسے عطا فرماؤں  گا ۔     (ابنِ عَساکِر ج۴۵ص ۳۰۳)امیرُالْمُؤمِنِین عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی، رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : جو شخص اولادِ عبدُالمطّلِب میں  کسی کے ساتھ دنیا میں  نیکی کرے اس کا صِلہ دینا میں  مجھ پر لازم ہے جب وہ روزِ قیامت مجھ سے ملے گا ۔ (تاریخِ بغداد ج۱۰ ص ۱۰۲ )

سیِّد سے بھلائی کرنے والے کو قیامت میں  آقا کی زیارت ہوگی

            اللّٰہُ اکبر، اللّٰہُ اکبر! قیامت کا دن، وہ قیامت کا دن ، وہ سخت ضَرورت سخت حاجت کا دن ، اور ہم جیسے محتاج ،



Total Pages: 50

Go To