Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

  حِیلے کے شرعی دلائل

سُوال :  حیلے کے شرعی دلائل بیان فرما دیجئے ۔

جواب :   حِیلَۂشَرعی کا جواز قراٰن و حدیث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب میں  موجود ہے ۔  چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ایّوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی بیماری کے زمانے میں  آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی زوجۂ محترمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاایک بار خدمتِ سراپا عَظَمت میں  تاخیر سے حاضِر ہوئیں  تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے قسم کھائی کہ ’’میں  تندُرُست ہو کر سو کوڑے ماروں  گا‘‘ صِحّتیاب ہونے پراللہعَزَّوَجَلَّنے انہیں  سو تیلیوں  کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا  ۔ (نور العرفان ص ۷۲۸ مُلَخّصاً) اللہ تبارَکَ وَ تَعالٰیپارہ 23 سُوْرَۃُ  صٓکی آیت نمبر44میں  ارشاد فرماتا ہے :

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ- (پ۲۳، ص : ۴۴)

ترجَمۂ کنزالایمان :   اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں  ایک جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ ۔

            ’’ عالمگیری ‘‘ میں حِیلوں  کاایک مُستقِل باب ہے جس کا نام ’’کتابُ الْحِیَل‘‘ ہے چُنانچِہ عالمگیری’’ کتابُ الْحِیَل‘‘ میں  ہے : ’’ جو حِیلہ کسی کا حق مارنے یا اُس میں شُبہ پیدا کرنے یا باطِل سے فَریب دینے کیلئے کیا جائے وہ مکروہ ہے اور جوحِیلہ اس لئے کیا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے یا حلال کو حاصِل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حیلوں  کے جائز ہونے کی دلیلاللہعَزَّوَجَلَّکا یہ فر مان ہے :

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ- (پ۲۳، ص : ۴۴)

ترجَمۂ کنزالایمان :   اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں  ایک جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ ۔

                                                            (فتاوٰی عالمگیری ج۶ص۳۹۰)

کان چَھید نے کا رَواج کب سے ہوا؟

            حیلے کے جواز پر ایک اور دلیل مُلا حَظہ فرمایئے چُنانچِہحضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابنِ عبّاسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ ایک بارحضرت ِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا ہاجرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں  کچھ چَپقَلَش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو میں  ہا جِرہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا کوئی عُضو کاٹوں  گی ۔  اللہعَزَّوَجَلَّنے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئیلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکوحضرت سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں  بھیجا کہ ان میں  صُلح کروا دیں  ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے عرض کی : ’’ مَاحِیلَۃُ یَمِیْنِی؟ ‘‘ یعنی میری قسم کا کیا حِیلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وَحی نازِل ہوئی



Total Pages: 50

Go To