Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

سُوال : اگر مسئلہ معلوم نہ ہو تو کیاپھر بھی جان بوجھ کر مدرسے کے  طَلَبہ کاکھانا کھا لینا بصورتِ جہالت معصیَّت ہے ؟

جواب : بعض صورَتوں  میں  معصیَّت ہے مَثَلاً مدرَسے کاکھانا ہونا معلوم ہو اور یہ کھانے والا

 مدرسے کامخصوص مدعو نہیں (مَثَلاً مدرسے کے دورے (VISIT ) پر آنے والی شخصیّات کے ساتھ آئے ہوؤں  میں  سے نہیں  ) ہے تو بصورتِ جَہالت بھی گنہگار ہوگاکہ اس طرح کے مسائل جاننا ضَروری ہیں  ۔

غیرِ حقدار کو  کھانا نہ دینا واجِب ہے

سُوال :  اگرکھانا تقسیم کرتے وقت غیرِمستحق کو دیکھ لیا تو اِس کومَنع کرنا واجِب ہو گا یا نہیں ؟ اگر مَنع نہیں  کیا اور لاعلمی یا جَہالت کی وجہ سے کوئی شخص طَلَبہ کا کھانا کھانے میں  مبتلا ہوا ، کیا بانٹنے والا بھی گنہگار اور تاوان کا سزاوار ہو گا؟

جواب : اگر غیرِمستحق کو دیکھ لیا اور اس کا غیرِمستِحق ہونا بھی جانتا ہے تو اُسے کھانانہ دینا واجِب ہے ، دے گا تو گنہگار اور تاوان کا سزاوار ہوگا ۔  ہاں  سب مل کرتھال میں  کھا رہے ہیں  اور اس (بانٹنے والے )نے اپنی طرف سے مُستَحِقین کو دیا اور غیرِ مستحق کو دینے کی نیَّت نہیں  اورمَنع پر قدرت بھی نہیں  تو دینے والا گنہگار نہیں ہوگا ۔ اگر مَنْع کرنے پر قادِر ہو اور مُرَوَّت میں  مَنْع نہ کرے تو گنہگار ہوگا ۔  مَنع کرنے کیلئے مَوعِظَۂ حَسَنہ سے کام لے یعنی کوئی عمدہ انداز اختیار کرے مَثَلاً اُس کے کان میں  نرمی سے کہدے یا مسئلہ لکھ کر پیش کردے تا کہ کسی قسم کی بد مزگی پیدا نہ ہو ۔ اگر بار بار غیر حقدار شریک ہو جاتے ہوں  تو یوں  لکھ کراپنے پاس رکھ لے اور دکھا دیا کرے : ’’انتہائی لَجاجت کے ساتھ مَدَنی اِلتجا ہے آپ مجھ سے ہرگز ناراض نہ ہوں  حکمِ شریعت عرض کرتا ہوں : یہ مدرَسے کا کھانا ہے ، آپ کے لئے اس کا کھانا شرعاً جائز نہیں ۔ ‘‘

 مدرَسے میں  باہَر سے بَہُت سارا کھانا آجائے تو کیا کریں ؟

سُوال : بعض اوقات لوگ شادی کی دعوت یا میِّت کے ایصالِ ثواب یا بُزُرگوں  کی نیاز کا کھانا کثیر مقدار میں  وہ بھی بے وقت مدرَسے میں  بھجوادیتے ہیں ۔ یہ کھانایاتو طَلَبہ کو کام نہیں  آتا، یا کچھ کام آتا ہے کچھ بچ جاتا ہے ۔  اگر ضائِع ہونے کا خوف ہو تو دوسروں  کو کھلا سکتے ہیں  یا نہیں ؟

جواب :  عام مسلمانوں  کو پیش کر دیا جائے ۔ بے وقت دیا جانے والا کھانا عُمُوماً وہ ہوتا ہے جو تقاریب میں  بچ جاتا ہے ، ضائِع ہونے کے خوف سے لوگ مدرَسے وغیرہ میں بھجوادیتے ہیں  ، غالِباً یہاں  مقصود طَلَبہ کی خدمت نہیں  ہوتی، ذِہن یہ ہوتا ہے کہ کسی کے بھی کام آجائے ۔ اِس طرح کا کھانا بارہا مدارِس میں  بھی ضائِع ہوجاتا ہو گا ۔ مدرَسے والوں  کو چاہئے کہ ضَرورت نہ ہونے کی صورت میں  قبول نہ فرمائیں  اگر قبول کر ہی لیا تو اپنی ذمّے داری نبھائیں  اور اسے ضائِع ہونے سے بچائیں  اور ثواب کمائیں ، ممکِن ہوتو  فِرِج میں  رکھ دیں  اور دوسرے دن کام میں لائیں  ۔ اِحتیاط اسی میں  ہے کہ کھانا وُصول کرتے وقت کھانے کے مالک سے طَلَبہ کو کھلانے کی قید ہٹوا کر ہر ایک کو کھلانے ، بانٹنے وغیرہ کا اختیار



Total Pages: 50

Go To