Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

کر دے  ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۵۵۱)اور یہ بھی یاد رکھئے کہ سُود و رِشوت وغیرہ حرام مال کو نیک کاموں  میں  خرچ کرکے ثواب کی اُمّید رکھنے کے بارے میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ  امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اُسے یعنی مالِ حرام کوخیرات کر کے جیسا پاک مال پر ثواب ملتا ہے اس کی اُمّید رکھے تو سخت حرام ہے ، بلکہ  فُقَہاء(رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی) نے کُفر لکھا ہے ۔  ہاں  وہ جو شَرع نے حکم دیا کہ حقدار  ( یعنی جس کا مال ہے وہ، یا وہ نہ رہا ہو تو اُس کا وارِث اور وہ بھی) نہ ملے تو فقیر پر تَصَدُّق (خیرات)کر دے اِس حکم کو مانا تو اِس پر (یعنی حکمِ شریعت پر عمل کرنے پر ) ثواب کی اُمّید کر سکتا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۵۸۰ )

 سُود کے پیسوں  سے حج

سُوال :   سُودوغیرہ حرام مال سے حج قبول ہوتا ہے یا نہیں ؟

جواب :  قبولیّت کی اُمّید نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت جلداول‘‘ صَفْحَہ1051 پر صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ، حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں  : توشہ مالِ حلال سے لے ورنہ قَبولِ حج کی اُمّید نہیں  اگر چِہ فرض اتر جا ئیگا  ۔

لوٹ کے مال سے حج کرنے والے کی لرزہ خیز حکایت

            بعض مشائخ فرماتے ہیں  : ہم ایک مرتبہ حج کو جا رہے تھے کہ راستے میں  ہمارے قافِلے کا ایک حاجی چل بسا ۔ ہم نے کسی سے پھاؤڑا مانگ کر لیا ۔  قبر کھودی اور اُس کو اُس میں  دَفن کر دیا  ۔ بے خیالی میں   پھاؤڑا قبر ہی میں رَہ گیا، پھاؤڑا نکالنے کے لئے ہم نے جب قبر کھودی تو ایک لرزہ خیز منظر نگاہوں  کے سامنے تھا، اس شخص کے ہاتھ پَیر پھاؤڑے کے حلقے میں  جکڑے ہوئے تھے ! ہم نے قَبْر فوراً بند کر دی اور پھاؤڑے والے کو کچھ پیسے دے کرجان چھڑالی ۔  پھر وطن واپَسی پر مرحوم حاجی کی بیوہ سے اُس کے اعمال کے بارے میں  معلومات کی تو اُس نے بتایا کہ ایک مرتبہ اِس کے ہمراہ ایک مال دار شخص نے سفر کیا ۔ راستے میں  اِس نے اُس کو مار ڈالااور اُسکے مال پر قبضہ کر لیا اب یہ حج اور جہاد سب کچھ اُسی کے مال سے کرتا رہا ہے ۔  (شَرْحُ الصُّدُورص ۱۷۴)

    حرام مال سے حج کرنے والے کی شامت   

            میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  : سُود کے روپیہ سے جو کارِ نیک کیا جائے اِس میں  اِستِحقاقِ ثواب نہیں ۔ حدیث شریف میں  ہے :  جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب  لَبَّیْککہتا ہے ، ہاتِف، غیب سے جواب دیتا ہے :  نہ تیری لَبَّیْک  قَبول، نہ خدمت پَذیر اور تیرا حج



Total Pages: 50

Go To