Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

             میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں  : ’’ ہم نے اپنے فتاوٰی میں  اس بات کی تحقیق کی ہے جوچندہ لوگوں  سے مَصرفِ خیر (یعنی بھلائی کے کاموں )کے لئے جمع کیا جاتا ہے وہ دینے والوں  کی مِلک پر باقی رہتا ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ج ۱۶ ص ۲۴۴) فتاوٰی عالمگیری میں  ہے  : کسی شخص نے لوگوں  سے مسجد بنانے کے لئے چندہ جمع کیا اور ان دراہِم (روپیوں  )کو اس نے اپنی ذاتی ضَروریات پر خرچ کر لیا پھر اس کے بدلے میں  مسجِد کی ضَرورت میں اپنا مال خرچ کیا تو ایسا کرنے کا اس کو کوئی اِختیار نہیں  ہے اگراس طرح کر لیا، تو اگر چندہ دینے والوں  کو جانتا ہے تو چندہ دینے والوں  کو اُس کا تاوان (اُتنی ہی رقم  ) واپس کرے یا ان سے نئی اجازت لے ۔          (فتاوٰی عالمگیری ج۲ص۴۸۰)

مسجِد کا چندہ اُدھار دیدیا تو؟

سُوال :            اگر چندے کے صندوقچے سے نکلی ہوئی رقم کا غَلَط استِعمال ہو گیامَثَلاً مُتَو لِّیانِ مسجِد نے اتِّفاقِ رائے سے کسی غریب مُقتدی کو اُس میں  سے کچھ رقم اُدھار  دے دی اور وہ اب ادا نہیں  کرتا ۔ اِس کا حل؟

  جواب :  اَوَّل تویِہی گناہ کا کام تھا کہ مسجِد کا چندہ کسی مقتدی کواُدھار دیدیا اِس لئے کہ جو چندہ مسجِدکیلئے کیا جاتا ہے اُس میں مقتدیوں  کو اُدھار دینے کا عُرف (رَواج) نہیں ۔ توبہ کرنی ہو گی اور وہ رقم ڈوب جانے کی صورت میں  جس جس نے قرض دینے کے حق میں  فیصلہ کیا اُس کو رقم پلّے سے ادا کرنی ہو گی ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں  : مُتَوَلّی کو روا( یعنی جائز) نہیں  کہ مالِ وقف کسی کو قرض دے یا بطورِ قرض اپنے تَصرُّف میں  لائے ۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۱۶ ص۵۷۴)

بطورِ امانت رکھے ہوئے چندے کو اُدھار لینا کیسا؟

سُوال :             اگر کسی کے پاس اَمانَۃً مسجِد کاچندہ رکھوا یا گیا اور اُس نے اَمانت کی رقم کو اپنے لئے بطورِ قرض لیکر خرچ کر دیا ہو، اُس کو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب : میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں   : مسجِد خواہ غیر مسجِد کسی کی امانت اپنے صَرف میں  لانا اگر چِہ قرض سمجھ کر ہو حرام و خِیانت ہے ۔  توبہ و اِستِغفار فرض ہے اور تاوان لازِم، پھر (اُتنی ہی رقم )دے دینے سے تاوان ادا ہو گیا ، وہ گنا ہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے ۔  وَاللّٰہُ تعالٰی اَعلم ۔  (فتاوٰی رضویہ ج ۱۶ ص۴۸۹)

تاوان ادا کرنے کا طریقہ

 



Total Pages: 50

Go To