Book Name:Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab

عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : اِفطاری میں  غیر روزہ دار اگر روزہ دار بن کر شریک ہوتے ہیں مُتَوَلّیوں  پر الزا م نہیں  ۔ بُہتَیرے غنی(یعنی مالداروں ) فقیربن کر بھیک مانگتے اور زکوٰۃ لیتے ہیں ۔ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی کہ ظاہِر پر حکم ہے اور لینے والے کو حرامِ قَطعی ہے یونہی ان غیر روزہ داروں  کو اس کا کھانا حرام ہے ۔  وَقف کا مال مِثلِ مالِ یتیم ہے جسے ناحَق کھانے پر _  تبارَکَ وَ تَعالٰی نے پارہ4 سُوْرَۃُ النِّسَآء کی آیت نمبر10 میں  ارشاد فرمایا :

اِنَّمَا  یَاْكُلُوْنَ  فِیْ  بُطُوْنِهِمْ  نَارًاؕ-وَ  سَیَصْلَوْنَ  سَعِیْرًا۠(۱۰)    (پ۴، النساء :  ۱۰)

ترجَمۂ کنزالایمان : وہ تو اپنے پیٹ میں  نِری آگ بھرتے ہیں  اور کوئی دم جاتاہے کہ بھڑکتے دھڑے ([1])میں  جائیں  گے ۔

            ہاں مُتَوَلِّی دانِستہ غیر روزہ دار کو شریک کریں  تو وہ بھی عاصی و مُجرم و خائِن و مستحقِ عَزل(یعنی خِیانت کرنے والے اور برطرف کئے جانے کے لائق) ہیں ۔ رہا اکثر یا کل (افطاری کرنے والوں ) کامُرَفَّہُ الحا ل(یعنی خوش حال، کھاتا پیتا) ہونا اس میں  کوئی حَرَج نہیں ( کہ) اِفطاری مُطْلَق روزہ دار کے لئے ہے اگر چِہ غنی(یعنی مالدار) ہو جیسے سَقایہ مسجِد(یعنی مسجد کے برتن ) کا پانی ہر نَمازی کے غسل و وُضو کو ہے اگر چِہ بادشاہ ہو ۔  (فتاویٰ رضویہ ج ۱۶ ص۴۸۷)

            البتَّہ اگر کسی مسجِد یا عَلاقے کا عُرف یِہی ہو کہ روزہ دار اور غیر روزہ دار دونوں  کوافطاری کھلاتے ہوں  تو وہاں  غیر روزہ دار کو بھی اجازت ہوگی ۔ اورجہاں  تک بچّوں  کے کھانے کا تعلّق ہے تو عُمُومی عُرف یِہی ہے کہ افطاری بھیجنے والوں  کی طرف سے اس پر کوئی اعتراض نہیں  کیا جاتا لہٰذا بچّوں  کا کھانا جائز ہے ۔

مسجِد کی بچی ہوئی اِفطاری کا کیا کرے ؟

سُوال : لوگوں  کا مسجِد میں  بھیجا ہواافطاری کا جو سامان تھا ل میں  بچ گیا اُس کا کیا کیا جائے ؟

جواب :  عُرف یہی ہے کہ دینے والے بچا ہوا واپَس نہیں  لیتے لہٰذا مُنتَظِمِین کی صَوابدید پر ہے کہ دوسرے دن کے لئے بچانا چاہیں  بچالیں  ، خود کھا لیں  ، دوسروں  کو کِھلا دیں  یا تقسیم کر دیں ۔

مسجِد کے چندے کے مَصارِف

سُوال : مسجِد کے صَندوقچے کاجَمع شُدہ چندہ نیز جُمُعہ یا بڑی راتوں  کو مسجِد کیلئے جو چندہ ملتا ہے وہ کس طرح استِعمال کیا جائے ؟

جواب  : مسجِد کے نام پر ملا ہوا چندہ وہاں کے عُرف ( یعنی رَواج )کے مطابِق استِعمال کرنا ہو گا مَثَلاً امام، مُؤَذِّن او ر خادِم کی تنخواہیں  ، مسجِد کی بجلی کا بِل ، عمارتِ مسجِد یا اُس کی اَشیا کی حسبِ ضَرورت مَرَمَّت ، ضَرورتِ مسجِد کی چیزیں  مَثَلاًلوٹے ، جھاڑو، پائیدان ، بتّی، پنکھے ، چَٹائی وغیرہ ۔  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا



[1]    بھڑکتے دھڑے یعنی بھڑکتی آگ ۔



Total Pages: 50

Go To