Book Name:Main nay Madani Burka Kyun Pehna?

اور رقت انگیز دُعا سے میں بہت متأثر ہوئی ۔ ایک حلقہ ذمہ دارہ اسلامی بہن مجھ پر بڑی شفقت فرماتیں اور مجھے گھر سے بُلا کرسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرواتیں ۔  انکی اسقدر شفقتیں دیکھ کر میرا دل پسیج گیا اور میں نیکیوں کی طرف رغبت کرنے لگی اور فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے اور دیگر گناہوں سے بھی توبہ کر لی ۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کیبیانات کی کیسٹیں سنتی تو خوفِ خدا سے لرز کر رہ جاتی کہ اگر یونہی گناہ کرتے کرتے مجھے موت آجاتی تو میرا کیا بنتا ۔ اسی طرح امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکی  کتب ورسا ئل پڑھ کر مجھ میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوا اور میں بھی اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر نیکی کی دعوت عام کرنے میں مصروف ہوگئی ۔  مجھے ذمہ دارہ اسلامی بہن جوبھی ذمہ داری دیتیں میں بحسن وخوبی نبھانے کی کوشش کرتی ۔  یوں دعوتِ اسلامی کا مَدَنی کام کرتے کرتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    تادم تحریر علاقائی مشاورت کی خادمہ (ذمہ دارہ)کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کو بڑھانے میں کوشاں ہوں ۔  مفتیٔ دعوت اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی کی پیروی میں روزانہ ایک منزل کی دہرائی کی سعادت بھی حاصل ہو رہی ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3)سرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا د یدار نصیب ہوگیا

         پنجاب( پاکستان )کے شہر گلزارِ طیبہ(سرگودھا) کی مقیم اسلامی بہن کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میری عملی حالت انتہائی ابتر تھی۔ ماڈرن سہیلیوں کی صحبت نے مجھے فیشن ومخلوط تفریح گاہوں کا شوقین بنادیا تھا۔  نماز پڑھتی نہ روزے رکھتی اور برقع سے تو(مَعَاذَاللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ ) کوسوں دور بھاگتی تھی۔  بس T.V. اور V.C.R  ہوتا اور میں ۔ خود سر اتنی تھی کہ اپنے سامنے کسی کی چلنے نہیں دیتی تھی۔  اُن دنوں میں کالج میں فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی۔ ایک روز مجھے کسی نے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان کی کیسٹ بنام’’وُضو اور سائنس‘‘ تحفے میں دی۔  بیان معلوماتی اور دلچسپ تھا۔ اس بیان کو سن کر میں اتنی متأثر ہوئی کہ میں نے علاقے میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جانا شروع کردیا۔ مَدَنی ماحول کا نُور میری تاریک زندگی کو منوّر کرنے لگا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اپنی بُری عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی برکت سے کچھ ہی عرصے میں مَدَنی برقع پہننے لگی۔  میرے گھر والے ، رشتے دار اور میری سہیلیاں اس حیرت انگیز تبدیلی پَر بَہُت حیران تھے۔  انہیں یہ سب خواب لگ رہا تھا مگر یہ سوفیصد حقیقت تھی۔

         اَلْحَمْدُ لِلّٰہ   عَزَّوَجَلَّ    اب میں اپنے گھر میں فیضانِ سنّت سے درس دیتی ہوں ۔  دیگر اسلامی بہنوں کے ساتھ مل کر مَدَنی کام کرنے کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوتی ہوں ۔  روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے مدنی انعامات کے رسالے کے خانے پُر کرکے ہر ماہ جمع کروانا میرا معمول ہے۔ ایک روز مجھ پَر رَبّ عَزَّوَ جَلّ َ  کا ایسا کرم ہوا جس کا میں جتنا بھی شکر کروں کم ہے۔ ہوا یوں کہ ایک رات میں سوئی تو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی۔  میں نے خواب میں دیکھا کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے میں جس جگہ بیٹھی ہوں وہاں کھڑکی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی ہے ۔ میں بے ساختہ کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھتی ہوں تو آسمان پر بادل نظر آتے ہیں ۔ میں بے اختیار یہ سلام پڑھنا شروع کردیتی ہوں ؛

                           اے صبا مصطفی سے کہہ دینا    (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )

    غم کے مارے سلام کہتے ہیں  

        اچانک میرے سامنے ایک حسین و جمیل اور نورانی چہرے والے بزرگ سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز عمامہ سجائے تشریف لے آئے ۔ ان کے مقدس چہرے پر تبسم کے آثار تھے۔  ابھی میں یہ منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ کسی کی آواز سنائی دی’’یہ حضور ِاکرم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں ۔ ‘‘پھر میری آنکھ کھل گئی۔  میں اپنی سعادتوں کی معراج پر شدّت جذبات سے رونے لگی ۔  دل چاہتا تھا کہ آنکھیں بند کروں اور بار بار وہی منظر دیکھوں ۔ اب بھی ہر رات اسی امید پر دُرودِ پاک پڑھتے پڑھتے سوتی ہوں کہ کاش میری دوبارہ قسمت جاگ اُٹھے۔

سُنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

                       میرے گھر میں بھی ہوجائے چراغاں یارسول اللہ   (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !             صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4)میں پینٹ شرٹ پہنا کرتی تھی 

        بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں مغربی تہذیب کی دلدادہ تھی۔  چنانچہ میں لڑکی ہوکر بھی پینٹ شرٹ پہنا کرتی ، نامحرم مَردوں کے ساتھ بلاجھجک گفتگو کرتی اوربدتمیزقسم کی سہیلیوں کی صحبت میں رہاکرتی تھی ۔  میرے والد صاحب ہوٹل چلاتے تھے ، میں اتنی بے باک تھی کہ والد صاحب کے منع کرنے کے باوجودہوٹل کے کاؤنٹر پر بیٹھ جایا کرتی تھی ۔

        میں ایک اسکول میں پڑھتی تھی۔ اچانک میرے دل میں مدرسہ میں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا ۔ میں نے والد صاحب سے اظہار کیا تو انہوں نے موقع غنیمت جانا اور مجھے ہاتھوں ہاتھ دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ (للبنات) میں داخل کروادیا ۔ میں نے وہاں قراٰن پاک پڑھنا شروع کردیا ۔ چند دن بعد ہماری معلمہ نے ہمیں دعوتِ اسلامی کے سالانہ بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع کے بارے میں بتایا اور گھر گھر جا کر نیکی کی دعوت کے ذریعے اسلامی بہنوں میں اجتماع کی دعوت عام کرنے کی ترغیب دی ۔ ہم خوب جوش وخروش کے ساتھ اس سنتوں بھرے اجتماع کی



Total Pages: 8

Go To