Book Name:Murda Bol Utha

فرمایا! یہ میرے رہنے کی جگہ ہے اور میں یہاں بَہُت خوش ہوں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

       (8)خوش نصیب نوجوان

        جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ باب المدینہ(کراچی)کے دورۂ حدیث کے ایک طالبِ علم نے بتایاکہ مبلّغِ دعوتِ اسلامی محمد افضل عطاری جن کا تعلّق (گجرات ) کے عَلاقے ’’کالرہ کلاں ‘‘سے تھا۔ مارچ 2004  ء بروز جُمُعہ (جامع مسجد چائنہ فین کمپنی جی ٹی روڈ گجرات )میں نَمازِ جمعہ سے قبل سنّتوں بھرا بیان فرمارہے تھے کہ حضرتِ امام عالی مقام سیدنا امامِ حسین رضیاللہ  تعالی عنہکی سخاوت و اِخلاص سے متعلق واقِعہ کے اختِتامی کلمات پر ان کو دل کا شدید دورہ پڑااور وہ سینہ پکڑے منبرسے نیچے تشریف لے آئے اوربلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ (صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مسجد ہی میں ان کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔

        شیخِ طریقت ، امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کے بڑے شہزادے  حضرت مولاناحاجی ابواُسَیداحمد عرف عُبَیدُالرضا قادِری رَضَوی عطاری  مُدَّ ظِلُہُ الْعَالِی کی موجودگی میں اسلامی بھائیوں نے غسل دیا۔ پھر شہزادۂ عطا ر مد ظلہ العالی نے شیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کا عطاکردہ سبز عمامہ انکے سر پر سجایا، نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ مرحوم افضل عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  البَارِی نے ایک رات قبل ہی مدنی مشورے میں اس شخص کی قسمت پر رشک کا اظہار فرمایا تھا جس کی نمازِ جنازہ شہزادۂ عطار مد ظلہ العالی نے پڑھائی تھی اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ   دوسرے ہی دن یہ سعادت انہیں بھی نصیب ہوگئی۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(9) د نیا سے قابلِ رشک رخصتی

        انہی اسلامی بھائی نے ایک اور ایمان افروز واقعہ بھی لکھ کردیا جس کا لُبِّ لُباب ہے کہ راولپنڈی کے علاقے صادق آباد (پنجاب پاکستان )کے25 سالہ نوجوان مُبلِّغ دعوت اسلامی محمد آصف عطاری اکتوبر 2000ء میں مدینۃ الاولیاء (ملتان شریف) میں ہونے والے تین روزہ بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاری کے سلسلے میں اجتماع سے کم و بیش 15دن قبل بینر(بے۔ نَر) لگاتے ہوئے کرنٹ لگنے کے باعِث نیچے گر پڑے ۔ انہیں ٹیکسی کے ذریعے قریبی ہسپتال پہنچایاگیا گاڑی کے اندر جس اسلامی بھائی کی گود میں ان کا سر تھا ان کا کہنا ہے کہ میں بغور انکے چہرے کی جانب دیکھ رہا تھا۔ محمد آصف عطاری نے راستے ہی میں بالکل واضح اور بلند آواز سے لَآاِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ  ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پڑھا او ر دم توڑ دیا۔

         وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جنازے کا جلوس علاقے کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس تھا۔ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ علاقے کی ایک مسجد میں خطیب صاحب جو دعوت اسلامی کے بارے میں غلط فَہمی کا شکا رتھے ، دعوت اسلامی کے نوجوان مبلغ کے جنازے میں آئے ہوئے کثیر لوگوں کو اشکبار دیکھ کر اسقدر متأثر ہوئے کہ فرمایا : ’’میں وصیت کرتا ہوں کہ جب میرا انتقال ہو تو میرا جنازہ بھی دعوتِ اسلامی کے مبلغین کے حوالے کردینا۔‘‘

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

(10)  وقتِ وفات کلمۂ پاک کاورد  

          باب الاسلام (سندھ) میرپورخاص کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے میرے والد صاحب سَیِّد بِشارت علی عطاری1983ء میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوچکے تھے۔ ا س وقت میری عمر کم و بیش8سال تھی۔ اُن کی اُنگلی پکڑ ے پکڑ ے میں بھی اجتماع میں شرکت کی سعادت پالیتا ۔ غالباً1998ء میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے مرحوم نگران حاجی محمد مشتاق عطاری علیہ ر حمۃ الباری  اجتماعِ ذکرو نعت کیلئے تشریف لائے توان کی ترغیب پر والد صاحب نے سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجالی۔

       یوں 23سال کا طویل عرصہ گزرگیا، مَدَنی کاموں کے سلسلے میں والد صاحب کی مجھے ہمیشہ معاونت رہی اور اسی کی بَرَکت سے آج میں صوبائی مشاورت کے خادم (یعنی نگراں ) کی حیثیت سے مدنی کاموں کی بَرَکتیں حاصل کر رہا ہوں ۔ ۱۰ربیع النور شریف ۱۴۲۸ھ بمطابق 2006۔04-09 بروز اتوار صبح 00:8  بجے اچانک طبیعت خراب ہونے پر سول ہسپتال (میرپورخاص) لے جایا گیا، ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں ’’ہارٹ اٹیک‘‘ ہوا ہے۔ اس کے باوُجوداَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  والد صاحب کی زَبان پر اِسْتِغْفار اور یا سلامُ کا وِرْد جاری تھا۔ وَقتاً فوقتاً کَلِمَۂ طَیِّبہبھیپڑھتے ۔ اس حالت میں 4مرتبہ اٹیک ہوا، مگرحواس بحال ہوتے ہی دوبارہ  اِسْتِغْفارکرنا شروع کردیتے اور  کَلِمَۂ طَیِّبہ پڑھنے لگتے۔

        ڈاکٹروں کے مشورے پر بعدِ نمازِ مغرب حیدرآباد ہلال احمر (لطیف آباد) کیلئے روانہ ہوئے وہاں بھی ڈاکٹروں نے کا فی کوشش کی مگر طبیعت مزید بگڑتی چلی گئی۔ مگر والد صاحب کی زبان پر  اِسْتِغْفار و کَلِمَۂ طَیِّبہ کا وِرْداسی طرح جاری رہا۔

        ۱۱رَبِیْعُ النُّور شریف کی شب کم وبیش :3011 بجیوالد صاحب  سَیِّد بِشارت علی عطاری علیہ رحمۃ الباری  نے بلند آواز سے کَلِمَۂ طَیِّبہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ( صَلَّی اللہ  



Total Pages: 8

Go To