Book Name:Murda Bol Utha

ایک خاص خوشبوہر وقت مہکتی رہتی ہے۔

دربارِ مشتاق سے کرم

                        اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  صحرائے مدینہ با بُ المدینہ کراچی میں دربارِ مشتاق مَرجَعِ خَلائق ہے، اسلامی بھائی دور دور سے آتے اور فیض پاتے ہیں ۔ چُنانچِہ ایک اسلامی بھائی نے کچھ اِس طرح تحریر پیش کی، میرے گھر میں ’’ اُمّید ‘‘سے تھیں ۔میڈیکل رَپورٹ کے مطابِق بیٹی کی آمد ہونے والی تھی مگر مجھے’’ بیٹے‘‘ کی آرزو تھی کیوں کہ ایک بیٹی پہلے ہی گھر میں موجودتھی۔ میں نے صحرائے مدینہ میں آ کر دربارِ مشتاق علیہ رحمۃ الرّزَّاق میں حاضِری دی اور بارگاہِ الہٰی عَزَّ وَجَلَّ میں دعا مانگی۔ میڈیکل رپورٹ غلط ثابت ہوگئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ہمارے گھر میں چاند سا چہرہ چمکاتا خوشیوں کے پھول لٹاتامدنی مُنا تشریف لے آیا۔

مصطفٰے کاہے جو بھی دیوانہ

اُس پہ رحمت مُدام ہوتی ہے

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ کی  اُن پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّوْ ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد   

(7)آپ پڑھے تکبیراں میریاں     

        باب الاسلام سندھ(حیدرآباد پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے غالباً 1989ءمیں میرے چھوٹے بھائی سمیت مجھے تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول میّسر آگیا۔ والد صاحب حاجی شوکت علی عطاری چونکہ مَدَنی ماحول سے دُور تھے اور طبیعت میں بہت غصہ تھا لہٰذا ہم پر سختی فرماتے ، جب کبھی عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلے میں سفر کی اجازت طلب کی جاتی تو والد صاحب غصے میں کہتے ’’اگر جانا ہے تو واپس مت آنا، گھر کے دروازے تمہارے لئے بند ہونگے‘‘، پھر خوش قسمتی سے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات پر مرید ہوکر’’عطاری‘‘ بن گئے ۔ غالباً 1999 ء کی صبح والد صاحب ، ملاقات کی سعادت پاکر واپس لوٹے تو طبیعت میں کافی تبدیلی آچکی تھی۔ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شرکت ہونے لگی اور 3 بار عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلوں میں سفر کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ 1997ء سے دل میں تکلیف رہنے لگی تھی، جس کا مستقِل علاج ہوتا رہا، پھر1999ء سے 2003ء کے درمیان 3 بار انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور آخری ہارٹ اٹیک کے بعد طبیعت گرتی چلی گئی۔ ابتداء میں ہلال احمر(حیدرآباد) میں داخل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے بائی پاس(By-passروانے کے مشورے پر باب المدینہ(کراچی) جناح کارڈیالوجی میں داخل کردیا گیا۔

        آپریشن سے ایک دن قبل رات امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی بارگاہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوگئی۔ آستانے پر ہی زندگی کے آخری کھانے ا ور چائے کی ترکیب بنی کیونکہ آپریشن کی بنا پَرپھر کھانا وغیرہ بند کردیا گیا تھا، پھر امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے بَہُت شفقت فرمائی اور والدصاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کرتجدیدِ بیعت کی سعادت عطا فرمائی۔تجدیدِ ایمان بھی کروایا اور سنّت کے مطابق داڑھی شریف رکھنے کی نیّت کروانے کے ساتھ ساتھ اصلاح کے مَدَنی پھولوں سے بھی نوازا، فرمایا کہ زندگی کا کچھ پتانہیں لہٰذا آپریشن کے وقت بھی نگاہوں کی حفاظت کا خاص خیال رہے عموماًنرسیں وغیرہ ہسپتال میں تعاون کیلئے موجود ہوتی ہیں ان پر نظر نہ پڑے وغیرہ ، مَدَنی قافلے اور اجتماعات میں پابندی سے شرکت کی نیّتیں بھی کروائیں ۔یوں والد صاحب خوشی خوشی آستا نہ شریف سے ہسپتال واپس پہنچے ، وہ اس قدر خوش تھے کہ فون پر لوگوں کو اس بابرکت ملاقات سے متعلق خوشخبریاں سُنائیں ۔ رات سورۃ یٰسین   شریف کی تلاوت کرنے کے بعد درودِ پاک پڑھتے پڑھتے سو گئے صبح اُٹھ کر غسل کیا۔ اور قراٰن پاک منگواکر کافی دیر تک تلاوت فرماتے رہے۔ نمازِ فجر ادا فرمائی اور دو نفل صلوٰۃ التوبہ بھی ادا کئے اور درودِ پاک کا ورد کرتے ہوئے آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئے۔

        آپریشن شروع ہونے کے چند گھنٹے بعدڈاکٹر نے تشویش کے عالم میں آکر بتایا کہ آپ کے والد کی حالت نازک ہے دعا کریں ۔ پھر وقتاً فوقتاً  آکر ہمیں تشویش کا اظہار کرکے دعا کیلئے کہتے رہے ۔ کم و بیش 00: 3  بجے ڈاکٹر نے آ کر والد صاحب کی وفات کی خبر سنائی۔ میں والدہ اور بہنیں یہ سن کر روپڑے میں نے ایک اسلامی بھائی کے ذریعے امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   کی بارگاہ میں اطلاع بھجوادی۔ کچھ ہی دیر بعد نگرانِ شوریٰ ہسپتال تشریف لے آئے اور دِلاسادینے کے بعددعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ میں غسل کیلئے ذہن دیا اور فرمایا :  میں کوشش کرتا ہوں کہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   آپ کے والد کی نمازِ جنازہ پڑھادیں ۔

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ والد صاحب حاجی شوکت علی عطاری  کو نہ صرف فیضانِ مدینہ میں سُنّتوں کے عامل اسلامی بھائیوں نے غسل دیا بلکہ اس پر تو مجھ سمیت تقریباً سب ہی رشک کر رہے تھے کہ زمانے کے ولی شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت بانیِٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری  رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ (کراچی) فنائے مسجدمیں  نمازِ جنازہ پڑھا نے کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی او ر  والد صاحب  حاجی شوکت علی عطاری کیمیّت کو دس دس قدم کندھا بھی دیا۔پھروالد صاحب کی میت رات ہی کو حیدرآباد لے جائی گئی اور شبِ جُمُعہ ان کی تدفین عمل میں لائی گئی۔

        خواب میں بِشارت

        مرحوم حاجی شوکت علی عطاری  کو کئی عزیزوں نے خواب میں دیکھا، کسی نے سرسبز و سیع باغ میں پایا ، تو کسی نے جگ مگ کرتے عالیشان کمرے میں دیکھ کر پوچھا !یہاں کیسے ؟ تو



Total Pages: 8

Go To