Book Name:Pani Kay Baray Main Aham Malomat

جواب :          شیطان صرف طَہارَت اور نَماز کے بارے میں   ہمیں   وساوِس میں   مبتَلا کرنے پر اکتِفاء نہیں   کرتا بلکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں   بھی وَسْوَسے ڈالتاہے ۔ تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مَخْزنِ جُودو سخاوت  پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ الْعِزَّت، مُحسنِ انسانیت   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس وَسْوَسۂ شیطانی سے ہمیں   آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں   سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے تو اس سے کہتا ہے کہ فُلاں   چیز کس نے پیدا کی؟ فُلاں   کس نے ؟یہاں   تک کہ وہ کہتا ہے تمہارے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو کس نے پیدا کیا ؟جب اس حد تک پہنچے تو ’’اَعُوْذُبِاللّٰہِ‘‘پڑھ لو اور اس سے باز رہو ۔ ‘‘(صَحِیْحُ الْبُخَارِی ج۲ص۳۹۹حدیث ۳۲۷۶دارالکتب العلمیۃ بیروت )

یعنی اس کا جواب سوچنے کی کو شِش بھی مت کرو وَرْنہ شیطان سُوال پرسُوال کرتاجائے گا  ۔ بس اَعُوْذُ بِاللّٰہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر اسے بھگا دو ۔  اللّٰہُ تبارَک وَتعالیٰ نے قراٰن پاک میں   فرمایا  :

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۶)(پ۹ الاعراف ۲۰۰)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور اے سُننے والے ! اگر شیطان تجھے کوئی کونچہ (وَسْوَسَہ) دے تو اللّٰہ کی پناہ مانگ ، بے شک وہی سنتا جانتا ہے  ۔

امام رازی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاورشیطان

          مَنْقُول ہے کہ اما م فخرالدِّین رازی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکے نَزْع کاوقت جب قریب آیا تو آپ کے پاس شیطان حاضِر ہوا کیونکہ اُس وقت شیطان پوری جان توڑ کو شش کرتا ہے کہ کسی طرح اِس بندے کا اِیمان سَلَب ہو جائے  ۔ اگر اس وقت وہ اِیمان سے پِھر گیا تو پھر کبھی نہ لوٹ سکے گا ۔ شیطان نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا کہ تم نے تمام عمر مُناظِروں   ، بحثوں   میں   گزاری خدا  عَزَّوَجَلَّ کو بھی پہچانا؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا : بے شک خدا  عَزَّوَجَلَّ  ایک ہے ۔ شیطان بولا : اس پر کیا دلیل ؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک دلیل پیش کی ۔ شیطان خبیث مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت رہ چکا ہے ، اس نے وہ دلیل توڑ دی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دوسری دلیل قائم کی ، اس خبیث نے وہ بھی توڑ دی ۔  یہاں   تک کہ 360دلیلیں   حضرتِ امام رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قائم کیں   مگر اس لعین نے سب توڑدیں  ۔ اب امام صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سخت پریشانی میں   اور نہایت مایوس ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پیر حضرت شیخ نجم الدّین کُبرٰی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہیں   دور دراز مقام پر وُضُو فرما رہے تھے ۔ وہاں   سے پِیر صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اِمام صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو آواز دی کہ کہہ کیوں   نہیں   دیتے کہ میں   نے خداعَزَّوَجَلَّ کو بے دلیل ایک مانا ۔    (اَلْمَلْفُوْظ حصّہ۴ص۳۸۹فرید بک سٹال مرکزالاولیاء لاہور)

میٹھے میٹھے اِسلامی بھا ئیو!اس واقِعہ سے معلوم ہوا وساوِس سے نَجات اورخَاتِمَہ  بِالْخَیْر کا ایک ذریعہ کسی پیرِ کامل  [1] ؎کے ہاتھ میں   ہاتھ دے دینا بھی ہے کہ مُرشِد کی باطِنی توجُّہ سے بھی وَسْوَسہ ٔ شیطانی رَفع دَفع ہوجاتاہے حتّٰی کہخَاتِمَہ بِالْخَیْرنصیب ہوجاتاہے وَرْنہ شیطان لعین جان کَنی کے عالم میں   وساوِس کے ہتھکنڈے اِسْتِعْمال کرکے مسلمان کے اِیمان کوبرباد کرنے کی بھرپُور کوشش کرتا  ہے ۔  اللّٰہُ رحمٰنعَزَّوَجَلَّ ہر مسلمان کو اِیمان و عافیت کے ساتھ موت نصیب فرمائے ۔             

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مسلماں   ہے عطّارؔ تیری عطا سے

ہو اِیمان پر خاتِمہ یاالٰہی!

نابالِغ کا اَذان دینا کیسا؟

سُوال :           کیانابالغ بچّہ اَذان دے سکتا ہے ؟

جواب :          اگرسمجھدارہوچکاہے تودے سکتاہے جیسا کہ دُرِّمُختار میں   ہے :  ’’سمجھ والا بچّہ اور غلام اور اَندھے اور وَلَدُالزِّنَا  اور بے وُضُو کی اَذان صحیح ہے ۔ ‘‘(اَلدُّرُّالْمُخْتاروَرَدُّالْمُحْتارج۲ص۷۳دارالمعرفۃ بیروت)

فتاوٰی عالمگیری میں   ہے : ’’سمجھ دار بچے کی اَذان بلاکراہَت دُرُسْت ہے مگر بالغ کی اَذان افضل ہے اوراگر ناسمجھ بچے نے اَذان کہی تو جائز نہ ہوگی بلکہ اِعادَہ کیاجائے گا ۔ ‘‘     (اَلْفَتَاوی الھِنْدِیّۃج۱ص۵۴کوئٹہ)

 نابالغ حافِظ کے تروایح پڑھانے کاحکم

سُوال :           کیاسمجھدار اور حافظِ نابالغ بچّہ تَراویح پڑھاسکتا ہے ؟

جواب : فرض نمازہو، تَراویح ہو یاکوئی نَفْل نماز، نابالِغ صِرْف نابالِغوں   ہی کی اِمامت کرسکتاہے ۔ بالِغین نے  نابالِغ کی اِقتِدا کی تو جائز نہ ہوگی ۔  فتاوٰی عالمگیری میں   ہِدَایَہ ، مُحِیْطاوربَحْرکے حوالے سے ہے : ’’کسی بھی نمازمیں   نابالِغ کے پیچھے بالِغِین کی نماز جائزنہیں   ۔ ‘‘(اَلْفَتَاوی الھِنْدِیّۃ ج۱ص۸۵کوئٹہ)

نَفْل نَمازفاسِد ہوجائے تو کیاکرے ؟

 



[1]     اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّشیخِ طریقت امیر ِاہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادری دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہدورِحاضر کی وہ یگانۂ روزگار ہستی ہیں کہ جن سے شرفِ بیعت کی برکت سے لاکھوں مسلمان گناہوں بھری زندگی سے تائب ہوکر اللّٰہُ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کے احکام اور اس کے پیارے حبیب ِلبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سُنَّتوں کے مُطابِق پُرسُکون زندگی بسرکر رہے ہیں ۔   خیرخواہی ٔ مسلم کے مُقَدَّ س جذبہ کے تحت ہمارا مدنی مشورہ ہے کہ اگر آپ ابھی تک کسی جامع شرائط پیرصاحب سے بَیْعت نہیں ہوئے توشیخ طریقت امیراہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے فُیُوض و بَرَکات سے مُسْتَفِیْد ہونے کے لئے ان سے بَیْعت ہوجائیے ۔  اِن شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دُنیاو آخرت میں کامیابی و سرخروئی نصیب ہوگی ۔ مجلس مَدَنی مُذاکَرہ



Total Pages: 9

Go To