Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

گر کفن پھاڑ کے سانپوں نے جَمایا قبضہ؛                      ہائے بربادی !کہاں جا کے چُھپوں گا یاربّ

ہائے معمولی سی گرمی بھی سَہی جاتی نہیں                     گرمیٔ حشر میں پھر کیسے سہوں گا یاربّ

دردِ سر ہو، یابخار آئے ، تڑپ جاتا ہوں                      مَیں جہنَّم کی سزاکیسے سَہوں گا یا ربّ

عَفْوکر اور سَدا کے لئے راضی ہوجا                          گر کرم کردے تو جنّت میں رہوں گا یا ربّ

 (اَرْمُغَانِِ مَدِیْنَہ )

اللّٰہ عزَّوجلَّ سے ڈرنے والوں کے واقِعات

سُوال :       اللّٰہُ ربُّ العٰلَمین عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرنے والوں کی چندواقعات بیان فرما دیجئے تاکہ ہمیں بھی خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ   نصیب ہو اورگناہوں کی بیماری دُور ہوجائے  ۔

جواب :       یقیناً  ! گناہوں میں مبتَلاہونے کا ایک بَہُت بڑا سَبَب اللّٰہُ جَبَّاروقَہَّارعَزَّوَجَلَّ کے قہرو غضب اور قبروآخرت کے عذاب سے خوف کی کمی ہے ۔  یہی وجہ تھی کہ نیک وبَرگُزیدہ بندے بھی اللّٰہُ رَبُّ العِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور عذابِ قبر و آخِرت سے اس قَدْر لرزاں و ترساں رہاکرتے کہ شب و روز گِریہ و زاری کرتے ، کئی کئی ہفتے کھانانہ کھاتے ، کبھی نہ ہنستے ، چہرے پرزَرْدی و خَوف طاری رہتاحتّٰی کہ بعض کی تو خوفِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ سے رُوح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرجایاکرتی تھی ، چُنانچِہ

حضرت سَیِّدُنا یحیٰی عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکاخوفِ خُدا عَزَّوَجَلَّ

حضرتِ سَیِّدُنا یحییٰ  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو(خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّسے ) اس قَدْر روتے کہ درخت اور مِٹّی کے ڈَھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے والدِ ماجد حضرت سَیِّدُنا زَکَرِیّا عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام بھی آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے ۔  آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسی طرح مسلسل آنسو بہاتے رہتے یہاں تک کہ اِن مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سَبَب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے رُخسارِ مبارَک پر زخم ہوگئے ۔  یہ دیکھ کر آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کی والِدۂ ماجِدہ نے آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے رُخساروں پر اُونی پٹّیاں چِپٹا دیں ۔ اِس کے باوُجُود جب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام دوبارہ نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے ، جس کے نتیجے میں وہ اُونی پٹّیاں بھیگ جاتیں ۔ جب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی والِدہ انہیں خشک کرنے  کے لئے نَچوڑتیں اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں اس طرح عرض کرتے : ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تُو سب سے زیادہ رَحم فرمانے والا ہے  ۔ ‘‘(ماخوذ از اِحْیَاءُ الْعُلُوْمِ الدِّیْن ج ۴ص۲۲۵دارصادربیروت)

حضرت سیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور خَشْیَتِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ

حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب قراٰنِ مجید کی کوئی آیت سُنتے تو خوف خدا عَزَّوَجَلَّ سے بے ہوش ہو جا تے ، ایک دِن ایک تِنْکا ہاتھ میں لے کرفرمایا :  کاش!مَیں ایک تِنْکا ہو تا ، کو ئی قابلِ ذکر چیز نہ ہوتا، کاش! مجھے میری ماں نہ جَنْتی ، خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِتنا رویا کرتے تھے کہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرے پر آنسؤوں کے بہنے کی وجہ سے دوسیاہ نشان پڑ گئے تھے  ۔ (مُکَاشَفَۃُ القُلُوْب ص۱۲دارالکتب العلمیۃ بیروت)

جگرٹکڑے ٹکڑے ہو گیا

مَروی ہے کہ ایک نَوجوان اَنصاری صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پر دوزخ کا ایسا خَوف طاری ہوا کہ وہ مسلسل رونے لگے اور اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا ۔  بے چین دلوں کے چَین، رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین، سرورِ کَونَین نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لائے اور ان کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ اِنتِقال کر گئے  ۔ نبی ٔ پاک ، صاحِبِ لَوْلاک، سیَّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا :  ’’ اپنے ساتھی کے کَفَن و دَفْن کا اِنتِظام کرو ، جہنَّم کے



Total Pages: 12

Go To