Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

حَیْدَر آباد(با بُ الاسلام سندھ) کے ایک مَحَلَّہ میں عَلاقائی دَ ورہ برائے نیکی کی دعوت سے مُتأَ ثِّرہو کر ایک ماڈَرْن نَوجوان مسجِدمیں آ گیا ۔  بیان میں مَدَنی قافِلوں میں سفر کی ترغیب دِلائی گئی تواس نے مَدَنی قافِلے میں سفر کرنے کیلئے نام لکھوادیا ۔  ابھی مَدَنی قافِلے میں اُس کی رَوانگی میں کچھ دن باقی تھے کہ قَضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّسے اُس کا اِنتِقال ہو گیا  ۔ کسی اَہلِ خانہ نے مَرحوم کو خواب میں اِس حالت میں دیکھا کہ وہ ایک ہَریالے باغ میں ہَشّاش بَشّاش جُھولا جُھول رہا ہے ۔  پوچھا ، یہاں کیسے آ گئے ؟ جواب دیا، ’ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے  کے ساتھ آیا ہوں ، اللّٰہُکریم عَزَّوَجَلَّ   کا بڑا کرم ہوا ہے میری ماں سے کہہ دینا کہ میرا غم نہ کرے ، مَیں یہاں بَہُت چَین سے ہوں ‘‘ ۔ (فَیْضَانِ سُنَّت جلد اوّل ص۲۱مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کرا چی)

خُلْد میں ہو گا ہمارا داخِلہ اِس شان سے

یارسُولَ اللّٰہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے

مُقَدَّس اَوراق ٹھنڈے کرنے کاطریقہ

سُوال :       مُقَدَّس کاغذات کوبے اَدَبی سے بچانے کے لئے آپ  نے فرمایاکہ اِنہیں ٹھنڈا کردیاجائے یادَفْن کردیاجائے  ۔ ازراہ ِ کرم! اِس کاطریقہ بھی تفصیل سے بیان فرمادیجئے ۔

جواب :       ٹھنڈا کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ مُقَدَّس اَوْرَاقکم گہرے سَمُندرمیں نہ ڈالے جائیں کہ عُمُوماً بہ کر کَنارے پر آجاتے ہیں بلکہ کسی تھیلی یا خالی بوری میں بھر کر اُس میں وَزْنی پتّھر ڈالدیا جائے نیز تَھیلی یا بوری پرچند جگہ چِیرے ضَرور لگائے جائیں تا کہ اُس میں فوراً پانی بھر جائے اور وہ تہ میں چلی جائے کہ پانی اَندر نہ جانے کی صُورت میں بعض اَوقات مِیلوں تک تَیرتی ہوئی کَنارے پَہُنچ جاتی ہے اور بعض اَوقات گنوار یا کُفّار خالی بوری حاصِل کرنے کے لالَچ میں مُقَدَّس اَوراق کِنارے ہی پر ڈھیرکر دیتے ہیں اور پھراِتنی سخْت بے اَدَبِیاں ہوتی ہیں کہ سُن کر عُشّاق کا کلیجہ کانپ اُٹھے ! مُقَدَّس اَوراق کی بوری گہرے پانی تک پَہُنچانے کیلئے مسلمان کَشتی والے سے بھی تعاوُن حاصِل کیا جاسکتا ہے مگر بوری میں چِیرے ہر حال میں ڈالنے ہوں گے ۔

مُقَدَّس اَوراق دَفْن کرنے کاطریقہ

مُقَدَّس اَوراقکودَفْن کاطریقہ صَدْرُالشَّریعہ، بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعلیہ رحمۃ اللہ القوی فتاویٰ عالمگیری کے حوالے سے یوں تحریرفر ماتے ہیں  : ’’اگرمُصْحَف شریف پُرانا ہوگیا، اس قابِل نہ رہاکہ اس میں تِلاوت کی جائے اوریہ اَندیشہ ہے کہ اِس کے اَوراق مُنْتَشِرہوکرضائِع ہوں گے توکسی پاک کپڑے میں لَپیٹ کراحتِیاط کی جگہ دَفْنکیاجائے اور دَفْن کرنے میں اس کیلئے لَحَدبنائی جائے (یعنی گڑھاکھود کر جانِبِ قِبلہ کی دیوار کو اِتنا کھودیں کہ سارے مُقَدَّس اَوراق سما جائیں ) تاکہ اس پرمِٹّی نہ پڑے یا(گڑھے میں رکھ کر) اُس پرتَخْتہ لگاکرچَھت بناکرمِٹّی ڈالیں کہ اس پرمِٹّی نہ پڑے ، مُصْحَف شریف پُرانا ہوجائے تواُس کوجَلایانہ جائے ۔ ‘‘(بَہَارِشَرِیعت حصّہ ۱۶ص۱۳۸مکتبۃ المدینہ بابُ المدینہ کراچی)

کسی اَجْنَبِیَّہ پرنَظَر پڑجائے توکیاپڑھیں ؟

سُوال :       یہ اِرشاد فرمائیے ، اَجْـنَـبِـیَّـہ یعنی نامَحرم عَـورَت پر نَظَر پڑجائے تو کیا پڑھنا چاہئے ؟

جواب  : پہلے تویہ پوچھیں کہ اُس وقت کرنا کیاچاہئے ؟ اَجْـنَـبِـیَّـہپر اچانک نَظَرپڑجائے تو فَوراً نظر پَھیرلیں اور دُوسری نَظَر ہرگز نہ ڈالیں کہ پہلی نِگاہ جوبِلاقَصْدپڑی مُعاف ہے اَلْبَتَّہ قَصْدًا دُوسری نِگاہ ڈالنے پر مُؤاخَذہ ہے ۔

حدیثِ پاک میں ہے :  حضرتِ سیِّدُنا جَریربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے سرکارِ مدینہ، راحتِ قَلب وسینہ، باعِث ِنُزُولِ سکینہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اَچانک نَظَرپڑجانے کے بارے میں سُوال کیا تو مجھے حُکم دیتے ہو ئے اِرشاد فرمایا : ’’اَصْرِِِفْ بَصَرَک ‘‘یعنی اپنی نِگاہ کوپَھیرلو ۔ (مُسْنَد اِمَام اَحْمَدج۷ص۶۳حدیث۱۹۲۱۸دارالفکربیروت )

 



Total Pages: 12

Go To