Book Name:Muqaddas Tahrirat kay Adab kay Baray Main Sawal jawab?

سُوال :       کیااَخبارات و دیگرکاغذات کو اِستِعمال میں لانے کی بھی کوئی صورت ہے ؟

جواب        : جی ہاں ! فُقَہائے کِرام رحمہم اللہ السّلام فرماتے ہیں کہ آیات واحادیث اورمسائلِ فِقْہ وکلام والے اَوراق کو جُداکرکے باقی کاغذات کو اِستِعمال میں لانے میں حَرَج نہیں ، اسی طرح اگراِن کاغذات سے مُقَدَّس کلِمات مٹاناممکن ہو تو ان کومٹاکر اِستِعمال کرسکتے ہیں ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، مجدِّدِ دین و ملّت، پروانۂ شمعِ رِسالت اِمام احمدرضا خان علیہ رحمۃ اللہ الرحمن سے اُن اُردُو اَخبارات کی رَدِّی بازاری دُکانداروں کے ہاتھ فروخْت کرنے کے بارے میں سوال کیاگیاجن میں آیات و اَحادِیث اور اَسمائے مُقَدَّسہ وغیرھا تَحریرہوتے ہیں تو اِرشاد فرمایا :  ’’جبکہ اِن میں آیت یا حدیث یا اَسمائے مُعَظَّمہ یا مسائلِ فِقْہ ہوں تو جائز نہیں ورنہ حَرَج نہیں ۔ ان اَوراق کو دیکھ کر اَشیائے مذکورہ ان میں سے عَلیٰحِدَہ کرلیں پھربیچ سکتے ہیں  ۔ (فتاوٰی رَضَوِیَّہ مُخرَّجہ ج ۲۳ص۴۰۰مرکزُالاولیاء لاہور)

مزیداسی صَفْحَہ پرفتاوٰی عالمگیری کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’کسی چیز کو کسی ایسے کاغذ میں لپیٹنا کہ جس میں عِلْمِ فِقْہ کے مسائِل لکھے ہوں جائز نہیں ، اور عِلْمِ کلام میں بہتر یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے اَلْبَتَّہعِلْمِ طِبّ کی کتابوں میں ایسا کرنا جائز ہے یا اگر اس میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مُقَدَّس نام یا حُضُور پُرنورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اِسمِ گرامی تَحریر ہو تو اسے مٹانا جائز ہے تاکہ اس میں کوئی چیز لپیٹی جاسکے ‘‘ ۔  (اَلْفَتَاوی الْھِنْدِیّۃج ۵ص۳۲۲کوئٹہ)

مُتَبَرَّک کاغذاُٹھانے والے کیلئے انعام

سُوال :       مُتَبرَّک کاغذات اُٹھانے والوں کو کیااِنعام ملتاہے ؟اس کے بارے میں چند واقعات بیان فرمادیجئے تاکہ ہمیں بھی ترغیب ملے ۔

جواب :       حضرتِ سیِّدُنا مَنْصُور بن عَمَّار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو تَوبہ مُتَبرَّک کاغذاُٹھانے کی وجہ سے نصیب ہوئی  ۔ جیساکہ رِسالۂ قُشَیرِیَّہ میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مَنْصُور بن عَماّر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکی تَوبہ کاسَبَب یہ ہُواکہ ایک مرتَبہ اِن کو راہ میں کاغذ کا پُرزہ مِلا ۔  جس پر بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْملکھا تھا ۔  اُنہوں نے اَدَب سے رکھنے کی کوئی مُناسِب جگہ نہ پائی تو اُسے نِگل لیا  ۔ رات خواب دیکھا ، کوئی کہہ رہا ہے : ’’اِس مُقَدَّس کاغذ کے اِحتِرام کی بَرَکت سے اﷲ ربُّ العزّت  جَلَّ جَلَالُہٗ نے تجھ پر حِکمت کے دروازے کھول دیئے ۔ ‘‘(الرِّسالۃُ القُشَیرِیّۃ ص۴۸دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اﷲ ربُّ العزت عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہواوران کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

شرابی کی بخشِش کا راز

اِسی طرح مَنْقُول ہے کہ ایک نیک آدمی نے اپنے بھائی کونَشہ کرنے کے باعِث اپنے پاس بُلا کر سزا دی ، واپَسی میں وہ پانی میں ڈوب کرفوت ہوگیا ۔ جب اُسے دَفْن کرچکے تواُسی رات اُس نیک شخْص نے خواب دیکھاکہ اُس کا مرحوم بھائی جنّت میں ہے  ۔ اُس نے پوچھا ، تُو توشَرابی تھااورنَشہ ہی کی حالت میں مَراپھر تجھے جنّت کیسے نصیب ہوئی ؟وہ کہنے لگا : ’’آپ کے پاس سے (مار کھانے کے بعد)جب میں واپَس ہواتوراہ میں ایک کاغذدیکھاجس پر بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم تَحریرتھا، میں نے اُسے اُٹھایا اورنِگل لیا ۔ (پھر پانی میں گر گیا اور دم نکل گیا ۔ )جب قَبْرمیں پہنچا تو مُنْکَرنکَیرکے سُوالات پرمیں نے عرض کیا : آپ مُجھ سے سُوالات فر ما رہے ہیں ، حالانکہ میرے پیارے پَروَرْدگار عَزَّوَجَلَّ کاپاک نام میرے پیٹ میں موجودہے ۔ کسی نِدادینے والے نے نِدا دی :  صَدَق عَبْدِی قَدْغَفَرْتُ لَہٗ یعنی میرابندہ سچ کہتاہے بے شک مَیں نے اِسے بَخش دیا ۔ ‘‘(نُزْہَۃُالْمَجَالِسج۱ص۴۱دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّدعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بَھرے مَدَنی ماحول کی بھی کیاخُوب مَدَنی بہاریں ہیں کہ اس مَہکے مَہکے مَدَنی ماحول میں عاشقانِ رسُول کی صُحبت اِختِیار کرنے والا بھی اللّٰہُرَحْمٰنعَزَّوَجَلَّ کی رَحمت و مَغْفِرت سے مَحروم نہیں رہتا، ([1])چُنانچہ

باغ کاجُھولا

 



[1]    تبلیغِ قُراٰن وسُنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول میں سُنَّتوں کی تربِیَّت کیلئے راہِ خُدا عزوجل میں گاؤں بہ گاؤں ، شہر بہ شہر اور مُلک بہ ملک مَدَنی قافلوں میں سفر کر کے نیکی کی دعوت کی دُھوم مچانے والے اِسلامی بھائیوں کو عاشِقانِ رسُول کہتے ہیں  ۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے 12ماہ، 30دن اور 3دن کے مَدَنی قافلوں میں سُنَّتوں بھرا سفراِختیار فرماکر اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں  ۔  



Total Pages: 12

Go To