Book Name:Ganon Kay 35 Kufriya Ashaar

ایمان برباد ہوگیا

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یاد رکھئے ! قطعی کفر پر مبنی ایک بھی شعر جس نے دلچسپی کے ساتھ پڑھا ، سنا یا گایا وہ کفر میں   جا پڑا اور اسلام سے خارج ہو کر کافرو مُرتد ہو گیا ، اس کے تمام نیک اعمال اَکارت ہو گئے یعنی پچھلی ساری نَمازیں   ، روزے ، حج وغیرہ تمام نیکیاں   ضائع ہو گئیں   ۔ شادی شُد ہ تھا تو نکاح بھی ٹوٹ گیا اگر کسی کامُرید تھا تو بیعت (بَے  ۔ عَت)بھی ختم ہو گئی ۔ اس پر فرض ہے کہ اس شِعر میں   جو کفر ہے اُس سے فورًا توبہ کر ے اور کلمہ پڑھ کر نئے سرے سے مسلمان ہو ۔ مُرید ہونا چاہے تو اب نئے سرے سے کسی بھی جامِعِ شرائط پیر کا مُرید ہو اگر سابِقہ بیوی کو رکھنا چاہے تودوبارہ نئے مہر کے ساتھ اُس سے نکاح کرے  ۔

     جس کو یہ شک ہو کہ آیامیں   نے اس طرح کا شعر دلچسپی کے ساتھ گایا ، سنایا   پڑھا ہے یا نہیں   مجھے تو بس یوں   ہی فِلمی گانے سننے اور گنگنانے کی عادت ہے توایساشخص بھی اِحتیاطًا توبہ کر کے نئے سرے سے مسلمان ہو جائے ، نیز تجدیدِ بیعتاور تجدیدِ نکاح کر لے کہ اسی میں   دونوں  جہاں   کی بھلائی ہے ۔

تجد ید ایمان کا طریقہ

            اب میں   آپ کی خدمت میں   نئے سرے سے ایمان لانے کا طریقہ عرض کرتا ہوں   ، دیکھئے ! توبہ دل کی تصدیق کے ساتھ ہونی ضَروری ہے صِرف زَبانی توبہ کافی نہیں   ۔ مَثَلاًکسی ایک نے کفر بک دیا اُس کودوسرے نے اس طرح توبہ کروادی کہ اُس کو معلوم تک نہیں   ہوا کہ میں   نے فُلاں  کفر کیا ہے جس سے میں   اب توبہ کر رہا ہوں   ۔ اس طرح توبہ نہیں  ہوسکتی ۔  بَہَرحال جس کفر سے توبہ مقصودہے وہ اُسی وقت مقبول ہوگی جبکہ وہ اس کفر کو کفر تسلیم کرتا ہو، دل میں  اُس کفر سے نفرت و بیزاری بھی ہو ۔  جو کفر سرزد ہوا توبہ میں   اُس کا تذکِرہ بھی ہو ۔ مَثَلًا گانے کے اِس کفریہ مصرعے ’’ خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانے ‘‘ سے توبہ کرنا چاہتاہے تو اس طرح کہے : یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ میں   نے یہ کفر بک دیا کہ ’’ خدا بھی نہ جانے ‘‘ میں   اس سے بیزار ہوں  اوراس کفر سے توبہ کرتا ہوں   ۔ لااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ محمّدٌ رّسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔ اللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ ) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں   محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاللّٰہ(عَزَّوَجَلَّ ) کے رسول ہیں   ۔ اس طرح مخصوص کفر سے توبہ بھی ہو گئی اور تجدیدِ ایمان بھی ۔ اگرمَعَاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کئی کُفرِیّات بکے ہوں   اور یاد نہ ہو کہ کیا کیا بکا ہے تویوں   کہے : ’’ یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ ! مجھ سے جو جو کُفرِیّات صادِر ہوئے ہیں   میں   ان سے توبہ کرتا ہوں  ۔ ‘‘  پھر کلمہ پڑھ لے ۔ (اگر کلمہ شریف کا ترجَمہ معلوم ہے تو زَبان سے ترجَمہ دُہرانے کی حاجت نہیں   ) اگریہ معلوم ہی نہیں  کہ کفر بکا بھی ہے یا نہیں   تب بھی اگراحتیاطاً توبہ کرناچاہے تواسطرح کہے : ’’یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ  مجھ سے اگر کوئی کفرہوگیاہو تومیں   اس سے توبہ کرتاہوں  ‘‘یہ کہنے کے بعدکلمہ پڑھ لیجئے ۔

 مَدَ نی مشورہ :  روزانہ ہی سونے سے قبل احتیاطی توبہ وتجدیدایما ن کرلیناچاہیئے ۔  یاد رکھئے ! مَعاذَاللّٰہعَزَّوَجَلَّجس کا کفر پر خاتِمہ ہوا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنَّم کی آگ میں   جلتا اور عذاب پاتا رہے گا  ۔

تجدِ ید نِکاح کا طریقہ

            تَجدیدِ نِکاح کا معنیٰ ہے : ’’نئے مَہر سے نیا نِکاح کرنا‘‘ ۔   اِس کیلئے لوگوں   کو اِکٹھّا کرنا ضَروری نہیں    ۔ نِکاح نام ہے اِیجاب و قَبول کا ۔ ہاں   بوقتِ نِکا ح بطورِ گواہ کم ازکم دو مَرد مسلمان یا ایک مَرد مسلمان اور دو مسلمان عورَتوں   کا حاضِرہونا لازِمی ہے  ۔ خُطبۂ نِکاح شرط نہیں   بلکہ مُسْتَحَبہے ۔ خُطبہ یاد نہ ہوتو اَعُوْذُ بِاﷲ اور بِسمِ اﷲشریف کے بعد سورۂ فاتِحہ بھی پڑھ سکتے ہیں    ۔ کم ازکم دس درہم یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی  یا اُس کی رقم مہَر واجِب ہے ۔ مَثَلاً آپ نے پاکستانی 786 روپے اُدھار مہَر کی نیّت کر لی ہے (مگر یہ دیکھ لیجئے کہ مذکورہ چاندی کی قیمت پاکستانی 786 روپے سے زائد تو نہیں  ) تو ا ب مذکورہ گواہوں   کی موجودَگی میں   آپ ’’اِیجاب‘‘ کیجئے یعنی عورت سے کہیے  : ’’ میں   نے پاکستانی 786 روپے مہَر کے بدلے آپ سے نکاح کیا  ۔ ‘‘ عورَت کہے  : ’’ میں   نے قَبول کیا  ۔ ‘‘ نکاح ہو گیا ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت ہی خُطبہ یا سورۂ فاتِحہ  پڑھ کر’’اِیجاب‘‘ کرے اور مَرد کہے :  ’’میں   نے قَبول کیا ‘‘ ، نِکاح ہو گیا ۔ بعدِ نکاح اگر عورت چاہے تو مَہرمُعاف بھی کر سکتی ہے ۔ مگر مَرد بِلاحاجتِ شرعی عورت سے مَہر مُعاف کرنے کا سُوال نہ کرے ۔

حالتِ اِرتدِاد میں   ہونے والے نِکاح کا مسئلہ

            مُرتد ہو جانے کے بعد کوئی شخص اگر چِہ بظاہِر نیک راستے پر آگیا ،  داڑھی ، زلفوں   ، عمامے اور سنّتوں   بھرے لباس سے بھی آراستہ ہو گیا مگر اُس نے اپنے اُس کفر سے توبہ و تجدیدِ ایمان نہ کیا تو بدستور مُرتد ہے ، توبہ و تجدیدِ ایمان سے پہلے جو بھی نیک عمل کیا وہ مقبول نہیں  ، بیعت کی تونہ ہوئی، یہاں   تک کہ اگر نِکاح بھی کیا تو نہ ہوا ۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 11صَفْحَہ153 پر فرماتے ہیں : ’’مَعاذَاللّٰہ اگر مرد یا عورت نے پیش از نکاح( یعنی نکاح سے قبل) کُفرِصریح کا ارتِکاب کیا تھا اور بے توبہ و( نئے سرے سے قبولِ) اسلام اُن کا نِکاح کیا گیا تو قَطعاً نکاح باطِل ، اور اس سے جو اولاد ہوگی وَلَدُالزِّنا، اسی طرح اگر بعدِ نکاح اُن میں   کوئی مَعاذَاللّٰہ مُرتد ہو گیا اور اس کے بعد کے جِماع سے اولاد ہوئی تو وُہ بھی حرامی ہوگی ۔ ‘‘لہٰذا کسی نے اِرتدِاد کے بعد اگر نِکاح کیا ہو اورنِکاح کے بعد اگر چِہ توبہ و تجدید ِ ایمان کر چکا ہو توبھی اب نئے سِرے سے نِکاح کرنا ہوگا ۔ اِس کیلئے دھوم دھام شرط نہیں  ، گھر کی چار دیواری میں   بھی نکاح ہو سکتا ہے ۔ اِسکا طریقہ آگے گزر چکا ہے ۔ ہاں   اگر لوگوں   کے سامنے مُرتَد ہوا تھا اور پھر اِسی حال



Total Pages: 9

Go To