Book Name:Sharah Shajra Shareef

                                                  حُبِّ اہلِ بیت دے آلِ محمد کے لیے

کر شہید عشق، حمزہ پیشوا کے واسِطے

دِل کو اچھا تن کو ستھرا جان کو پُر نُور کر

اچھے پیارے شمسِ دیں بدرُ العُلٰی کے واسِطے

دو جہاں میں خادِم آلِ رسولُ اللہ  کر

حضرتِ آلِ رسولِ مقتدا کے واسِطے

کر عطا احمد رضائے احمد مرسل مجھے

میرے مولیٰ حضرتِ احمد رضا کے واسِطے

                                          پرضیا کر میرا چہرہ حشر میں اے کبریا

شہ ضیاء الدین پیر باصفا کے واسِطے

  اَحْیِنَا فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا سَلَامٌ  بِالسَّلَامِ [1]

قادِری عبدالسلامِ خوش ادا[2]؎ کے واسِطے

عشقِ احمد میں عطاکر چشمِ تر سوزِ جگر

یاخدا اِلیاس کو احمد رضا کے واسِطے

صدقہ اِن اَعیاں کا دے چھ عین عز، علم و عمل

عفو و عرفاں عافیت اِس بے نَوا کے واسِطے

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

(دوسرا باب)

د ُرُود شَریف کی فَضیلت

     شَیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت با نی دعوتِ اسلامی، حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطَّارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے ’’ضیائے دُرُ و د و سلام‘‘ میں فرمانِ مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنقْل فرماتے ہیں :  ’’مجھ پر درود پاک کی کثرت کرو بے شک یہ تمہارے لیے طہارت ہے ۔‘‘ (مسند ابی یعلی، ج۵، ص۴۵۸ ، رقم الحدیث ۶۳۸۳، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شَجَرۂ عالِیہ مَنْظُومہ قادِریہ رَضَویہ عَطّارِیہ

(1)

یا الہٰی رَحم فرما مصطفی   کے واسِطے(عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

یا رسولَ اللہ    کرم کیجیے خدا کے واسِطے(عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)

دُعائیہ شعر کا مفہوم :        

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ہم تجھ سے اپنے آقا ومولامحمد مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیلہ سے کرم اور بخشش کے سوالی ہیں اوریا رسولَ اللہ  !صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رِضا کے لیے ہم پرکرم فرما دیجئے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   

ضروری وضاحت :

        اس شعر کے دونوں مصرعوں میں لفظ’’واسِطے‘‘ لایا گیا ہے لیکن دونوں جگہ اس کے معنیٰ الگ الگ ہیں ۔چُنانچہ پہلے مصرعے میں اس کا معنی ہیں وسیلہ اور دوسرے مصرعے میں اِسے (یعنی لفظ ’’واسِطے‘‘کو)مُحاورۃً لایا گیا ہے ۔ جیسے کوئی منگتا کسی سخی داتا سے اس طرح کہتا ہے :  ’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّکے واسِطے مجھ پر کرم کرو یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی رِضا کے لیے میرا کام کردو ۔‘‘اس کی مُراد یہ نہیں ہوتی ہے کہ (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ) میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کو وسیلہ بنا کر تم سے سوال کرتا ہوں کیونکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  وسیلہ بننے سے پاک ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمنفتاوٰی رضویہ جلد 21صفحہ 304 پر لکھتے ہیں :  ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  وسیلہ و توسّل بننے سے پاک ہے ، اس سے اوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اس (یعنی اللہ  عَزَّوَجَلَّ) کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا ؟‘‘(فتاو ٰی رضویہ ج ۲۱ ص ۳۰۴)

 



      یعنی ہمیں دین ودُنیا میں سلامتی عطا فرما۔    [1]

   قبل ازیں مطبوعہ شجرے کے شعرکے اندر ’’عبد السلام عبد رضا‘‘میں چونکہ فنّی اعتبار سے ’’م‘‘گر رہا تھا لہٰذاترمیم کی گئی ہے۔  [2]



Total Pages: 64

Go To