Book Name:Sharah Shajra Shareef

برسوں تک کام نہیں ہوتا۔ کام ہو یا نہ ہو’’ یک در گِیرو مُحکَم گیر ‘‘ یعنی ایک دروازہ پکڑ اور مضبوطی کے ساتھ پکڑ‘‘ کے مِصداق پڑے رَہنا چاہئے۔      ؎

کوئی آیا پا کے چلا گیا کوئی عُمربھر بھی نہ پا سکا

مِرے مولیٰ تجھ سے گِلہ نہیں یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آپ بھی مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوجائیے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ بھی تبلیغ ِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت ِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  !   

 مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے اعلیٰ اَخلاقی اوصاف غیرمحسوس طور پر آپ کے کِردار کا حصہ بنتے چلے جائیں گے ۔ اپنے شہر میں ہونے والے دعوت ِ اِسلامی کے ہفتہ وارسنتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں سفر کرنے والے عاشقان ِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں سفر کیجئے ۔ اِن مَدَنی قافلوں میں سفر کی بَرَکت سے اپنے سابِقہ طرزِزندگی پر غوروفکر کا موقع ملے گا اور دِل حُسن ِ عاقبت کے لئے بے چین ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ارتکاب ِ گناہ کی کثرت پر نَدَامت محسوس ہوگی اور توبہ کی توفیق ملے گی۔ عاشقان ِ رسول کے مَدَنی قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کے نتیجے میں زبان پر فحش کلامی اور فضول گوئی کی جگہ دُرُود ِ پاک جاری ہوجائے گا ، یہ تلاوت قراٰن ، حمد ِ الٰہی اور نعت ِرسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عادی بن جائے گی ، غصیلہ پن رخصت ہوجائے گا اور اس کی جگہ نرمی لے لے گی ، بے صبری کی عادت ترک کرکے صابِروشاکِر رہنا نصیب ہوگا ، بدگُمانی کی عادتِ بد نکل جائے گی اور حسنِ ظن کی عادت بنے گی ، تَکَبُّر سے جان چھوٹ جائے گی اوراِحترامِ مسلم کا جذبہ ملے گا، دُنیاوی مال ودولت کی لالچ سے پیچھا چھوٹ جائے گا اور نیکیوں کی حِرْص ملے گی، الغرض بار بار راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں سفر کرنے والے کی زندگی میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہوجائے گا۔ان شآ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ

میں فنکار تھا!

        شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مشہورِ زمانہ تالیف ’’فیضانِ سنّت ‘‘جلد اول کے صفحہ851 پر لکھتے ہیں :

         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آئیے !گناہوں کے دلدل میں دھنسے ہوئے ایک فنکار کا واقِعہ پڑھئے جسے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول نے مَدَنی رنگ چڑھا دیا۔ چُنانچِہاورنگی ٹاؤن ( بابُ المدینہ کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے :  افسوس صد کروڑ افسوس! میں ایک فنکار تھا، میوزیکل پروگرامز اور فنکشنز کرتے ہوئے زندگی کے انمول اوقات برباد ہوئے جارہے تھے، قلب ودماغ پر غفلت کے کچھ ایسے پردے پڑے ہوئے تھے کہ نہ نَماز کی توفیق تھی نہ ہی گناہوں کا احساس ۔ صحرائے مدینہ ٹُول پلازہ سُپر ہائی وے بابُ المدینہ کراچی میں بابُ الاسلام  سطح پر ہونے والے تین روزہ سنّتوں بھرے اجتِماع (۱۴۲۴ھ۔ 2003 ء) میں حاضِری کیلئے ایک ذِمّہ دار اسلامی بھائی نے انفِرادی کوشِش کر کے ترغیب دلائی۔ زہے نصیب! اُس میں شرکت کی سعادت مل گئی۔تین روزہ اجتِماع کے اختتام پر رقّت انگیز دُعا میں مجھے اپنے گناہوں پر بَہُت زیادہ نَدامت ہوئی ، میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا ، پھوٹ پھوٹ کر رویا، بس رونے نے کام دکھادیا!   اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  مجھے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول مل گیا۔اور میں نے رقص و سَرود (سَ۔رَوْ۔د) کی محفلوں سے توبہ کر لی اور مَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیا۔

        25دسمبر 2004 کو میں جب مَدَنی قافِلے میں سفر پر روانہ ہو رہا تھا کہ چھوٹی ہمشیرہ کا فون آیا، بھرّائی ہوئی آواز میں انہوں نے اپنے یہاں ہونے والی  نابینا بچّیکی ولادت کی خبر سنائی اور ساتھ ہی کہا ، ڈاکٹروں نے کہہ دیا ہے کہ اِس کی آنکھیں روشن نہیں ہوسکتیں ۔ اتناکہنے کے بعد بند ٹوٹا اور چھوٹی بہن صدمے سے بِلک بِلک کر رونے لگی ۔ میں نے یہ کہکر ڈھار س  بندھا ئی کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  مَدَنی قافِلے میں دعاء کروں گا ۔ میں نے مَدَنی قافِلے میں  خود بھی بَہُت دعائیں کیں اور مَدَنی قافِلہ والے عاشِقانِ رسول سے بھی دعائیں کروائیں ۔ جب مَدَنی قافلے سے پلٹا تو دوسرے ہی دن چھوٹی بہن کا مُسکراتا ہوا فون آیا اور انہوں نے خوشی خوشی یہ خبرِ فرحت اثرسنائی کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ   میری نابینا بیٹی مہک کی آنکھیں روشن ہو گئی ہیں اور ڈاکٹرزتَعَجُّب کر رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا ! کیوں کہ ہماری ڈاکٹری میں اس کا کوئی علاج ہی نہیں تھا۔یہ بیان دیتے وقت اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   مجھے بابُ المدینہ کراچی میں عَلاقائی مُشاوَرت کے ایک رُکن کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لئے کوشِشیں کرنے کی سعادتیں حاصِل ہیں ۔

آفتوں سے نہ ڈر، رکھ کرم پر نظر

آپ کو ڈاکٹر ، نے گو مایوس کر

روشن آنکھیں ملیں ، قافِلے میں چلو

بھی دیا مت ڈریں ، قافِلے میں چلو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(فیضانِ سنت، باب فیضان رمضان، ج۱، ص۸۵۱)

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  !سنّتوں بھری زندگی گزارنے کیلئے عبادات و اخلاقیات کے تعلُّق سے امیراہل ِ سنت ، شیخِ طریقت، بانیِٔ دعوتِ اِسلامی حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے اِسلامی بھائیوں کیلئے 72، اِسلامی بہنوں کیلئے 63اور طَلَبۂ علمِ دین کیلئے 92 ، دینی طالِبات کیلئے 83اور مَدَنی مُنّوں اور مُنّیوں کیلئے40 مَدَنی اِنعامات سُوالات کی صورت میں مُرتَّب کئے ہیں ۔ مَدَنی انعامات کا کارڈ مکتبۃُ المدینہسے مل سکتا ہے۔ روزانہ  فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے اُس کو پُر کر کے مَدَنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے یہاں کے



Total Pages: 64

Go To