Book Name:Sharah Shajra Shareef

تمہیں اور تمام تربیتی کورس والوں کو ماردوں گی۔‘‘یہ سن کر میں خوف کے مارے زور زور سے چیخیں مارنے لگا۔

        اسلامی بھائیوں نے میری حالت دیکھ کر شجرہ عالیہ قادریہ رَضَویہ عطاریہ کے دعائیہ اشعارپڑھنا شروع کئے ۔جب تک وہ شجرہ شریف پڑھتے رہتے تو طبیعت سنبھل جاتی مگر جب رک جاتے تو پھر ویسی حالت ہوجاتی۔نمازِ عشاء کے بعد طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تو سب نے مل کر اپنے پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرنا شروع کردیا، ’’یا عطار پیر ہر بلا چیر‘‘ تو اچانک اسلامی بھائیوں نے دیکھا کہ کمرے کی کھڑکیاں ہوا کے زور سے کھل گئیں اور دیوار گیر گھڑی زور زور سے ہلنے لگی۔ ہم گھبرا گئے کہ نہ جانے یہ جنّات اب ہمارا کیا حشر کریں گے ۔ یکایک دروازے سے قبلہ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مسکراتے ہوئے تشریف لے آئے۔ وہ چڑیل روہانسی ہو کرکہنے لگی : ’’ مجھے معاف کردو میں چلی جاؤنگی۔‘‘ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا۔میری طبیعت بھی سنبھل گئی مگر دوسرے دن کچھ اور چڑیلیں پہنچ گئیں اور دھمکی دینے لگیں : ’’تم 80طلباء ہو اگر80,000بھی ہوں توہمارا کچھ نہیں کرسکتے، تمہارے فیضان مدینہ کے کچھ عطاری جن ہیں جن کے باعث ہم مجبور ہیں ورنہ ہم تم سب کا گلا دبادیتیں ۔ ہم نے پھر سے شجرہ عالیہ پڑھنا شروع کیاتو سب چڑیلوں نے یہ کہتے ہوئے بھاگنا شروع کردیا کہ ہم صرف تمہارے کراچی والے پیر عطار سے ڈرتی ہیں ۔(قومِ جنات ، ص۲۰۹)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(20)مسئلہ حل ہوگیا

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خُلاصہ ہے کہ میرے بچوں کے ابو نے ایک جگہ ملازمت کے لئے درخواست دی مگر انہوں نے اس کے لئے نئے شناختی کارڈ کی شرط رکھ دی ۔میرے بچوں کے ابو نے نیاشناختی کارڈ بنانے کے لئے درخواست جمع کروائی مگر 2سال کا لمبا عرصہ گزرنے کے باوجود شناختی کارڈ نہیں بن سکا ۔ ہم بہت پریشان تھے کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے نوکری بھی نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے بڑی تنگ دستی تھی ۔ میں نے 21دن شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھنے کی نیت کی ۔ ابھی 17دن ہی پڑھا تھا کہ حیرت انگیز طور پر شناختی کارڈ بھی بن گیا اور انہیں نوکری بھی مل گئی ۔ یوں ہمیں  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّشجرہ عالیہ کی برکت سے تنگدستی اور پریشانی سے نجات مل گئی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(21)ھڈی ٹوٹنے سے محفوظ رہی

        بابُ المدینہ(کراچی ) کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا خلاصہ ہے کہ  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  میرا روزانہ شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ پڑھنے کا معمول ہے ۔ اس کے دعائیہ اشعار اکثر چلتے پھرتے بھی پڑھتی رہتی ہوں ۔ایک مرتبہ میں دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے مَدَنی مشورے میں جانے کے لئے تیاری کررہی تھی ۔ایک دم میرا پاؤں پھسلا اور میں دھڑام سے پُختہ فرش پر گر پڑی ۔مجھے شدید تکلیف محسوس ہورہی تھی مگر میں ہمت کر کے مَدَنی مشورے میں شرکت کے لئے پہنچ گئی اور اس شعر کی تکرار کرتی رہی :

مشکلیں حل کر شہ مُشکل کُشا  کے واسِطے  (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

      کر  بَلائیں رَد شہیدِ کربَلا   کے واسِطے           (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)

جب گھر واپس آئی تو درد کی شدت میں اضافہ ہوچکا تھا ۔جب گھر والے مجھے لیڈی ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو وہ حیران رہ گئی کہ ایسی زبردست چوٹ کے باوجود کمر کی ہڈی ٹوٹنے سے محفوظ رہی ۔بہرحال اس نے میرا علاج شروع کیا اور میں نے حسبِ معمول شجرہ عالیہ پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   شجرہ عالیہ کی برکت سے میں کچھ ہی دنوں میں مکمل طور پر صحت یاب ہوگئی ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   مجھے اور میرے گھر والوں کو شیخِ طریقتامیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی غلامی اوردعوتِ اسلامی میں استقامت نصیب فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(22)مالی طور پرخوشحال ہوگئے

        بابُ الاسلام(سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کاخُلاصہ ہے : گھر والوں نے بڑے ارمان سے میری شادی کی ۔شادی ہونے کے بعد میں شدید معاشی مسائل کا شکار ہوگیا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری خستہ حالی میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔میں شدید پریشان تھا کہ ضروریاتِ زندگی کیونکر پوری ہوں گی ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ   میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل ہوکر عطّاری بن چکا تھا اور دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے بھی وابَستہ تھا ۔توجُّہ مُرشِد سے ایک دن میری نگاہ رسالہ ’’شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطاریہ ‘‘میں دئیے گئے شجرہ عالیہ کے اس شعر پر پڑی :

اَ حْسَنَ اللّٰہ ُ  لَھُمْ رِزْْقاً سے دے رِزْقِ حَسَنْ

          بندۂ رَزَّاق  تاجُ الاَصفیاء کے واسِطے(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

میں نے اس شعر کے ذریعے بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ   میں اپنے مالی حالات کی بہتری کے لئے دُعاکو اپنا معمول بنا لیا ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّ   کچھ ہی دنوں میں میری تنگ دستی خوشحالی میں بدل گئی ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(23)کُتّے بھاگ گئے

 



Total Pages: 64

Go To