Book Name:Sharah Shajra Shareef

۲۱واں شعر ’’ اَحْیِنَا فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا الخ ‘‘کے بارے میں حتمی طور پرمعلوم نہ ہوسکا کہ کس کا ہے ۔واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دعائیہ اشعار کی ایک خوبی

         اِن دعائیہ اشعار کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ مصرع میں جہاں کسی بُزُرگ کے نامِ مبارَک یا ان کے مشہور وَصف کو ذکر کرتے ہوئے وسیلہ بنا کر بارگاہِ الٰہی میں دعا مانگی گئی ہے وہیں اس نام کے الفاظ کی مناسبت سے   اﷲ عَزَّوَجَلَّ  سے نعمت طلب کی گئی ہے اور کہیں نام مبارَک کے معنی کے اعتبار سے مراد مانگی گئی ہے جیسے مشکلیں حل کر ’’ شہ مُشکل کُشا ‘‘ کے واسِطے ۔ اس مصرع میں مولا علی کرم اللہ   تَعَالٰیوجہہ الکریم کے مشہور و معروف وَصف ’’ مُشکل کُشا ‘‘ کو ذکر کرکے اللہ   تَعَالٰیسے مشکلیں آسان ہونے کی دعا کی گئی اور ساتھ ساتھ ’’ مُشکل کُشا ‘‘اور ’’مشکلیں ‘‘ کے الفاظ میں استعمال ہونے والے حُروف (ش ، ک ، ل ) میں یہ مناسبت ہے کہ ان کے معنی ایک ہیں اور کبھی صرف الفاظ کے لحاظ سے مناسبت یوں پائی گئی جیسے ’’کربلائیں رَدّ ‘‘شہیدِ کربلا کے واسِطے ‘‘ اس مصرعہ میں ’’کربَلائیں رَدّ‘‘کا معنی کچھ ، اور’’کربَلا‘‘ کا کچھ اور ہے، یہاں شہید کربلا کا واسطہ دے کر بلاؤں سے حفاظت طلب کرنے میں معنوی مناسبت نہیں بلکہ لفظی مناسبت اس لطیف اندا ز میں ہے کہ دونوں کلموں میں ’’کربَلا‘‘ کی شکل بن گئی ہے حالانکہ دونوں کے معنی مختلف ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

وسیلہ ڈھونڈو

        شجرہ عالیہ کے ہرشعر میں کسی نہ کسی بزرگ کا وسیلہ پیش کیا گیا ہے اور وسیلہ اختیار کرنے کا حکم خُود ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ  نے دیا ہے چنانچہ  سورۃُ المآئدہ کی آیت نمبر35 میں ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ   (پ۶، المائدہ :  ۳۵)

ترجَمۂ کنز الایمان :  اے ایمان والو اللہ  سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔

        مُتَعَدَّد احادیثِ مبارَکہ میں اس بات کا واضح ثُبوت موجود ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں اَنبیاء اَولیاء کا وسیلہ پیش کرنادعاؤں کی قَبولیت کا آسان ذریعہ ہے۔

بینائی واپس آگئی

         حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حُنیف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور اپنی نابینائی کی شکایت عرض کی ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’صبر کرو۔‘‘ عرض کی : ’’مجھے ہاتھ پکڑ کر چلانے والا کوئی نہیں ہے ، جس کی وجہ سے مجھے مشقت کا سامنا ہے ۔‘‘ارشاد فرمایا : ’’جاکر وُضو کرو اور دو رَکْعَت نمازپڑھ کر یہ دعا کرو :

اللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ وَأََتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا مُحَمََََّدٍ  نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ یَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ اَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ فَتُقْضٰی لِيْ حَاجَتِي

یعنی اے    اﷲ عَزَّوَجَلَّ! میں اپنے نبی ٔ رحمت محمد مصطفی  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وسیلۂ جلیلہ سے تجھ سے مانگتا اورتیری طرف توجہ کرتاہوں ۔یارسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!میں آپ کے وسیلہ سے اپنے ربّ( عَزَّوَجَلَّ) کی طرف اپنی اس حاجت کے بارے میں متوجہ ہوں تاکہ وہ پوری ہوجائے ۔   

راوی (یعنی سیِّدُنا عثمان بن حُنیف رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ)فرماتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی قسم !ہم وہاں سے اٹھنے بھی نہ پائے تھے کہ وہی صاحب دوبارہ وہاں آئے تو اُن کی بینائی اس طرح بحال ہوچکی تھی کہ گویا وہ کبھی نابینا ہی نہ تھے ۔(المعجم الکبیر للطبرانی ، ج۹، ص۳۰،  الحدیث۸۳۱۱)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حضرت سیدنا عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے وسیلے سے بارش کی دُعا

         حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ(کے زمانۂ خلافت میں )لوگ قحط میں مبتلا ہوئے تو حضرت عباس رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے وسیلے سے بارش کے لیے یوں دعا کی : ’’اَللّٰھُمَّ إنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا فَتَسْقِیْنَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَیْکَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاَ سْقِنَا (ترجمہ :  ) اے ہمارے اللہ  !ہم تجھ سے اپنے نبی  ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے توتُو ہمیں بارش عطا فرماتا تھا، اب ہم اپنے نبی  ( صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کے چچا (حضرت عباس رضی اللہ  عنہ)کے وسیلے سے دعا کرتے ہیں ہمیں بارش عطا فرمادے ۔‘‘ راوی فرماتے ہیں :  پھر اس دعا کی بَرَکت سے انہیں بارش دی جاتی ۔ (صحیح البخاری، کتاب الاستسقائ، الحدیث (۱۰۱۰، ج۱۳۴۶)  

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِمام مُوسیٰ کا ظِم رضی اللہ  عنہ کا وسیلہ

         اپنے زمانے میں حنابلہ (یعنی فقہ حنبلی کے پیروکاروں )کے شیخ امام خلّال رحمۃ اللہ  علیہ فرماتے ہیں :   مجھے جب بھی کوئی معاملہ درپیش ہوتاہے ، میں امام موسیٰ کاظم بن جعفر صادق (رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَا)کے مزار پر حاضر ہوکر آپ کا وسیلہ پیش کرتاہوں ۔ اللہ   تَعَالٰیمیری مشکل کو آسان کر کے میری مرادمجھے عطا فرمادیتاہے ۔

 (تاریخ بغداد، باب ماذکر فی مقابر بغداد الخصوصۃ بالعلماء والزھاد، ج ۱ ص ۱۳۳)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 64

Go To