Book Name:Sharah Shajra Shareef

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

وضاحت :     جن چھ چیزوں کا سُوال کیا گیا ہے ان کی خوبی یہ ہے کہ ہر لفظ کا پہلا حرف  ’’عین ‘‘ہے ۔   

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

(تیسرا باب)

دُرُود شریف کی فضیلت

      دو جہاں کے سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ  وصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفِرت نِشان ہے، مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا پُلْ صِراط پر نور ہے جو روزِ جُمُعہ مجھ پر اَسّی بار دُرُودِپاک پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ مُعاف ہو جائیں گے۔  (جامِعِ صَغیرص۳۲۰ حدیث ۵۱۹۱دار الکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے دُعائیہ اشعار کی برکتیں ‘‘کے سینتالیس حروف کی نسبت سے عطّاریوں کی 47مَدَنی بہاریں

(1) سرکار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی آمد مرحبا

        پنجاب(پاکستان ) کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّمیں تقریباً 8سال سے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوں اور مجھے عطاری نسبت بھی حاصل ہے۔ امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘ سے شجرۂ عالیہ اور منتخب اوراد ووَظائف بعدِ فجر پڑھنے کا معمول ہے ۔ایک روز میں نے شجرۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ اور اورادووَظائف پڑھنے کے بعد اشراق وچاشت کے نوافل ادا کئے اور آرام کے لئے لیٹ گیا ۔جلد ہی میں نیند کی آغوش میں پہنچ گیا ۔میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک کمرے میں پایا ۔میں نے دیکھا کہ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی وہاں موجود ہیں اور مجھ سے فرما رہے ہیں :  کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج اس شہر میں سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ ، صاحبِ معطّر پسینہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لانے والے ہیں ۔ میں یہ سُن کر خوشی سے جھوم اٹھا اور اپنے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا، دوعالم کے داتا  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے استقبال کے لئے باہر کی طرف لپکا۔جونہی میں دروازے کے قریب پہنچا تواسے بند پایا ۔میں نے پریشان ہوکر ادھر ادھر دیکھا کہ باہر نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ مل سکے مگر اس کمرے سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا جو بند تھا ۔پھر اچانک دروازہ خودبخود کھل گیا ۔میں فوراً باہر نکلا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتو تشریف لے جاچکے ہیں ۔ زیارت سے محرومی کے صدمے نے مجھے غمگین کردیااور میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ۔پھرمیں نے (خواب ہی میں ) اپنے آپ کو حضرت بہاؤالدین زکریا(ملتانی) رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے مزار کے قریب پایا ۔ سامنے سے چند گھڑسوا رآتے ہوئے دکھائی دئیے ۔ جب وہ میرے قریب سے گزرے تو میں نے دیکھا کہ ایک گھوڑے پر میرے آقا  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسوار ہیں ، آپ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سراَنور پر عمامہ شریف تھا اور سفید لباس آپ صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے وجود مسعود کی برکتیں لوٹ رہا تھا ۔آپ کا چہرہ مبارک انتہائی نُورانی اور لب ہائے مبارکہ پر تبسم تھا ۔بقیہ گھوڑوں پر صحابہ کرام رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمسوار تھے ۔میں خوشی کے عالم میں ’’آقا کی آمد مرحبا‘‘کا استقبالی نعرہ لگانے لگا ۔پھر میں مسجد میں داخل ہوگیا اور میٹھے میٹھے آقا  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آمد کا اعلان کیا ۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی ۔

اس نُورِ مجسم کا سراپا نظر آئے

ہوں جس کی غلامی میں وہ آقا نظر آئے

        اِنہی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اسی طرح ایک مرتبہ میں شجرہ عالیہ قادریہ رضویہ کے دعائیہ اشعار پڑھ کر سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنتُ البقیع میں حاضر ہوں ۔ میں نے وہاں پر مدفون نفوسِ قدسیہ کو سلام عرض کیا تو انہوں نے بیک زبان میرے سلام کا جواب ارشاد فرمایا ۔پھر میں نے خود کو ایک کمرے میں پایا جہاں ہمارے مَدَنی آقا  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں اور حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبھی خدمتِ اقدس میں حاضر ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(2) نزع کی سختیاں آسان ہوگئیں

            بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک اسلامی بہن کا حلفیہ بیان کچھ یوں ہے کہ ہمارے علاقے کی ایک اسلامی بہن (جو کافی عرصے سے شدیدبیمار تھیں )پر نزع کاعالم طاری تھا ۔وہ بیچاری روح نکلنے کے معاملے میں کافی تکلیف میں تھیں ۔ارد گرد موجود اسلامی بہنوں سے ان کی حالت دیکھی نہ گئی ۔ چُنانچہ کسی نے فوراً امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطاکردہ رسالے’’ شجرہ قادریہ رضویہ ضیائیہ عطّاریہ ‘‘سے شجرہ ٔ عالیہ پڑھا اور پانی پر دم کرکے ان کے منہ میں ٹپکایا ۔ جُونہی تھوڑا سا پانی ان کے منہ میں داخل ہوا ، ان پر نزع کی سختیاں آسان ہوگئیں اور ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی ۔(اللّٰہ  تَعَالٰیان کی مغفرت فرمائے ۔)

نزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا

یہ کرم کر دے تو میں شاد مروں گا یا ربّ

 



Total Pages: 64

Go To