Book Name:Sharah Shajra Shareef

شہا! آپ دین مبیں کی ضِیا ہیں

امیرِ اہلِسنّت مد ظلہ العالی کا تاریخی کارنامہ

(تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا قیام )

        اس پُر فِتن دور میں کہ جب دنیا بھر میں گناہوں کی یلغار، ذرائع ابلاغ میں فحاشی کی بھر مار اور فیشن پرستی کی پھٹکار مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بناچکی تھی۔قبلہ شیخِ طریقت ، امیر اہلسنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی ، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری مَحسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کویہ ذہن دینا شروع کیا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ‘‘یہاں تک کہ آپ نے  ۱۴۰۱ ھ میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے مَدَنی کام کا آغاز فرما دیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر)دنیا کے66 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں ، مختلف ممالک میں کُفار بھیمُبَلِّغینِ دعوت ِ اسلامی کے ہاتھوں مُشَرَّف بہ اسلام ہوتے رَہتے ہیں ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی جہدِمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز سبز عمامے کے تاج اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں ۔

        امیرِ اہلِسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے منفرد اور تاریخی کام کا بیّن ثُبوت یہ ہے کہ امتِ محبوب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جنشعبوں کی حاجت تھی ، آپ ان شعبوں کو قائم کرنے میں مصروف ہو گئے اور آج اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   ان میں سے کئی شعبہ جات میں کام شروع ہوچکا ہے، مَثَلاًمساجد کی تعمیرات کے لئے’خدام ُالمساجد‘‘ ، حفظ و ناظرہ کے لئے’’مدرَسۃ المدینہ‘‘ بالِغان کی تعلیمِ قرآن کے لئے ، ’’مدرَسۃُ المدینہ برائے بالِغان‘‘، شرعی مسائل میں رَہنمائی کے لئے ’’ دار ُالاِفتائ‘‘ ، علماء کی تیاری کے لئے ’’جامعۃُ المدینہ، تربیت ِ اِفتاء کے لئے’’ تَخَصُّصْ ِفی الفِقہ‘‘ اور امّت کو درپیش جدید مسائل کے حل کے لئے’ مجلسِ تحقیقاتِ شرعیہ ‘‘پیغامِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ ربِّ الْعِزَّتکو عام کرنے کے لئے ’’مجلسِ المدینۃُ العِلْمِیّۃ‘‘ ، تصنیفات وتالیفات کو شرعِی اَغلاط وغیرہ سے مَحفوظ رکھنے کے لئے’’مجلسِ تفتیشِ کتب و رَسائل ‘‘، روحانی علاج کے لئے’ مجلسِ مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ‘‘، اسلامی بہنوں کو باحیا بنانے کے لئے ان کے ’’ہفتہ وار اجتماعات و دیگر مَدَنی کام‘‘ ، مسلمانوں کو باعمل بنانے کے لئے ’’مَدَنی انعامات کا تحفہ‘‘ اور دنیا بھر کے لوگوں کی اصلاح کی کو شش کے لئے دنیا کے کئی ممالک میں ’’مَدَنی قافلوں اور ہفتہ وار اجتماعات ‘کا مَدَنی جال بچھادیا ، ’’گونگے بہرے، نابینا اور جیلوں میں قیداسلامی بھائیوں کی اصلاح‘‘ کے لئے مجالس قائم کر دیں ، ’’مختلف سطح کی مشاورتیں ‘‘ اور اس طرح سنتوں کی خدمت کے کم و بیش 30شعبہ جات قائم فرما نے کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے سارا نظام ’’مرکزی مجلسِ شوریٰ ‘‘ کے سِپُردکر دیااور اب ان کی کارکردگی پر بھی نظر رکھتے   اور ضَرورتاً اصلاح کے مَدَنی پھولوں سے بھی نوازتے رہتے ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

آپ کے مرید ین

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّوَجَلَّآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کردارِ سنّت شعار سے متأثر ہوکر کروڑوں مسلمان آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھوں بیْعَتْ ہوکر حضور سیدنا غوثِ اعظم دستگیر ، پیرانِ پیر ، قطبِ ربّانی شَیخ عبد القادرجیلانی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی  کے دامنِ کرم سے وابستہ ہوچکے ہیں ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تخلص عطّار کی نسبت سے آپ کے مُریدین اپنے نام کے ساتھ عطّاری لکھتے اور بولتے ہیں ۔

ہیں شَرِیْعَت اور طریقت کی حسیں تصویر جو

زُہد و تقویٰ کے نظّارے حضرتِ عطار ہیں

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

علمائے اہلسنّت سے محبت

       اَمیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عُلَمائے اہلسنّت دامت فیوضہمسے بے حد عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور نہ صرف خود انکی تعظیم کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے سامنے عُلَمائے اَہلسنّت دامت فیوضہم کے بارے میں کوئی نازیبا کلِمہ کہہ دے تو اس پَرسخت ناراض ہوتے ہیں ۔ ایک جگہ تَحریرفرماتے ہیں کہ’’ اسلام میں عُلَمائِ حق کی بَہُت زیادہ اَہمِیَّت ہے اور وہ علْمِ دین کے باعِث عوام سے افضل ہوتے ہیں ۔ غیر عالم کے مقابلے میں ان کو عبادت کا ثواب بھی زیادہ ملتا ہے۔‘‘ چُنانچِہ حضرتِ محمد بن علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مَروی ہے :  ’’عالم کی دو رَکْعَت غیرِ عالم کی ستّر رَکْعَتْ سے افضل ہے۔‘‘(کنزالعُمّال، ج ۱۰ ص ۶۷ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت)لہٰذا دعوتِ اسلامی کے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لئے ضَروری ہے کہ وہ عُلَمائے اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں ، ان کے ادب و احِترام میں کوتاہی نہ کریں ، عُلَمائے اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطْعاً گُرَیز کریں ، بِلا اجازتِ شرعی ان کے کردار اور عمل پر تنقید کرکے غیبت کا گناہِ کبیرہ، حرام اور جھنَّم میں لے جانے والاکام نہ کریں ، حضرتِ سیِّدُنا ابوالحَفص الکبیر علیہ رحمۃُ القدیر فرماتے ہیں : ’’جس نے کسی عالِم کی غیبت کی تو قِیامت کے روز اُس کے چہرے پر لکھا ہوگا، یہ اللہ  کی رَحْمت سے مایوس ہے۔‘‘

(مُکاشَفَۃُ الْقُلُوْب ، ص ۷۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت)

 



Total Pages: 64

Go To