Book Name:Sharah Shajra Shareef

بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے زیرِ مطالعہ رہتے ہیں ۔ حجۃُ الاسلام امام محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ  الوالی کی کتب بالخصوص ’’احیاء العلوم‘‘ کی بہت تحسین فرماتے ہیں اوراپنے مُتَوَسِّلین کوبھی پڑھنے کی تلقین فرماتے رہتے ہیں ، ان کے علاوہ دیگر اکابرین دامت فیوضہم کی کتب کا چیدہ چیدہ مطالعہ بھی آپ کے معمولات میں شامل ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

یادگارِ اسلاف

       امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ  وعشق رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جذبۂ اتباع ِقرآن وسنّت ، جذبہ احیائِ سنّت، زہدوتقویٰ، عفو ودرگزر، صبروشکر، عاجزی وانکساری، سادگی ، اخلاص، حسنِ اخلاق، جود وسخا، دنیاسے بے رغبتی، حفاظتِ ایمان کی فکر ، فروغ ِعلم دین ، خیر خواہیٔ مسلمین جیسی صفات میں یادگارِ اسلاف ہیں ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عشقِ رسول صلی اللہ   تَعَالٰیعلیہ واٰلہ وسلم

                        سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بھرپور محبت کا نتیجہ ہے کہ امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زندگی  سنّتِ مصطفٰے صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عاشقِ رسول ہونا ہر خاص وعام پر اتنا ظاہر وباہِر ہے کہ آپ کو عاشقِ مدینہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو بار ہا یادِ مصطفٰیصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور فراق طیبہ میں آنسوبہاتے دیکھا گیا ہے۔ اجتماع ِ ذکرونعت میں تو آپ کی رقّت کا بیان کرنے سے قلم قاصر ہے۔ کبھی کبھی آپ یادِ مصطفٰے صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اس قدردیوانہ وار تڑپتے اور روتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو رحم آنے لگتا ہے اور وہ بھی رونے لگتے ہیں ۔

سرکارکے قدموں کے نشاں ڈھونڈرہا ہے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

جو اشک مری آنکھ کی پُتلی سے گِرا ہے

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عقیدتِ اعلٰی حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ

        امیرِ ا َہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِمیں تَحریر فرماتے ہیں : ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ   میں بچپن ہی سے امامِ اَہلسنّت، عظیم ُالبَرَکت، پروانۂ شمعِ رسالت ، مجدّد دین و ملت مولیٰنا شا ہ اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے متعارف ہوچکا تھا ۔پھر جُوں جُوں شُعور آتا گیا اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔میں بِلاَ خوفِ تردید ، کہتا ہوں کہ ربُّ العُلیٰ کی پہچان، میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ذریعے ہوئی ۔ تو مجھے میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پہچان امام اَحمد رضا علیہ رحمۃ الرحمن کے سبب نصیب ہوئی ۔‘‘   

اعلیٰ حضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہمیں تو پیار ہے

ان شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنا بیڑا پارہے

        اسی عقیدت کا صدقہ ہے کہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی زندگی کا پہلا مدنی رسالہ بھی اعلی حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے متعلق لکھا جس کا نام ’’تذکرۂ امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ‘‘ ہے ۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہی کا شعر ہے :

تُونے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمد رضا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بیعت وارادت

        امامِ اہلِسنّت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن سے بے حد عقیدت کی بنا پر امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کوآپ علیہ رحمۃ الرحمن کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا ۔جیسا کہ امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہخود لکھتے ہیں : ’’(مرید ہونے کے لئے) ایک ہی ’’ہستی‘‘ مرکز توجہ بنی ، گومشائخِ اہل ِسنت کی کمی تھی نہ ہے مگر   

      ؎  پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا

        اس مقدس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت ہوجاتی تھی اور اس ’’ہستی‘‘ میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ براہِ راست گنبدِ خضرا کا سایہ اُس پر پڑ رہا تھا۔اس ’’مقدس ہستی‘‘ سے میری مراد حضرت شَیخُ الفضیلت آفتابِ رَضَویت ضیائُ الْمِلَّت، مُقْتَدائے اَہلسنّت، مُرید و خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت، پیرِ طریقت، رَہبرِ شَرِیْعَت ، شَیخُ العَرَب و العَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قطبِ مدینہ ، حضرت علامہ مولٰینا ضیاء الدین اَحمد مَدَنی قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی ذات گرامی (ہے) ۔

ضیاء پیر ومرشد مِرے رہنما ہیں  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ

سُرورِ دل وجاں مِرے دل رُبا ہیں

مُنوَّر کریں قلبِ عطّارؔ کو بھی

 



Total Pages: 64

Go To