Book Name:Sharah Shajra Shareef

کردیا ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اگرچہ دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ دامت فیوضھم سے خلافت حاصل ہے، مثلاًشارِح بخاری، فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ  الولی ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی اورجانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی علیہ رحمۃ اللہ  الولی نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اَسانید و اِجازات سے نوازا ہے۔مگر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے چونکہ حضرت سیِّدُناعبدالسلام قادری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کی دی ہوئی خلافت کے ذریعے بیعت کرنے کا سلسلہ شروع فرمایا تھا اس لئے شجرہ کے اشعار کے اُسلوب (یعنی پہلے شعر میں اُن کا ذکر ہے جس نے خلافت دی اور دوسرے میں اُن کا جسے خلافت ملی ) کو سامنے رکھتے ہوئے اس شعر کو شجرہ میں شامل رکھا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(22) عشقِ اَحمد میں عطا کر چشمِ تَر سوزِ جِگَر

یاخدا! اِلیاس کو اَحمد رضا کے واسِطے

 دُعائیہ شعر کا مفہوم :  

          اِس شعر میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلسنّت، با نیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بارگاہِ الہٰی   عَزَّوَجَلَّ  میں عرض کرتے ہیں :    یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّتجھے عاشقانِ رسول کے امام ، اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا واسطہ مجھے عشقِ رسول میں  ’’چشمِ تَر‘‘ یعنی رونے والی آنکھیں اور ’’سوزِ جِگَر‘‘یعنیانکی یاد میں تڑپنے والادل عطا فرما۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے اکتالیسویں شیخِ طریقت یعنیحضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد ا لیاس عطارقادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ذکر ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

   

(41)امیرِاہلسنّت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ

        شیخ طریقت، اَمیراَہلسنّت ، بانی ٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ولادت مبارکہ ۲۶ رَمَضانُ المبارَک ۱۳۶۹ھ بمطابق ۱۹۵۰ء میں پاکستان کے مشہور شہر باب المدینہ کراچی میں ہوئی۔

والدِ بزرگوار

        امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے والدِبُزُرگوارحاجی عبدالرَحمن قادِری علیہ رحمۃ اللہ  الھادی باشرع اور پرہیز گارشخص تھے اور سلسلۂ عالیہ قادِریہ  میں بیعت تھے۔ امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عالَمِ شِیْر خوارگی ہی میں تھے کہ آپ کے والد ِ محترم ۱۳۷۰؁ھ میں سفرِ حج پر روانہ ہوئے ۔ایامِ حج میں منٰی میں سخت لُو چلی جس کی وجہ سے کئی حجاج کرام فوت ہوگئے، ان میں حاجی عبدالرحمن علیہ رحمۃ المنّان بھی شامل تھے جو مختصر علالت کے بعد ۱۴ذوالْحِجَّۃ  الحرام ۱۳۷۰ھ  کواس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اِنَّا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایمان افروز خواب

        امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بڑی ہمشیرہ کا بیان ہے کہ اباجا ن علیہ رحمۃ المنان کے وِصال کے بعد میں نے ایک مرتبہ یہ ایمان افروز خواب دیکھا کہ ’’اباجان علیہ رحمۃ المنان ایک انتہائی نورانی چہرے والے بزرگ کیساتھ تشریف لائے ، میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے ، بیٹی! تم ان کو پہچانتی ہو؟ یہ ہمارے مدنی آقامیٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں ، پھر شہنشاہ رسالت صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک لبوں سے رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے :  تم بہت نصیب دار ہو۔

سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں

                میرے گھر میں بھی ہوجائے چراغاں یارسول اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

حصولِ علمِ دین

        امیرِ اَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہدورِ شباب ہی میں علومِ دینیہ کے زیور سے آراستہ ہوچکے تھے۔آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے حصولِ علم کے ذرائع میں سے کتب بینی اورصحبت ِعلماء کو اختیار کیا ۔اس سلسلے میں آپ نے سب سے زیادہ استفادہ مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقارالدین قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ  القوی سے کیااورمسلسل ۲۲ سال آپ علیہ رحمۃ اللہ  الوالی کی صحبت بابَرَکت سے مستفیض ہوتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے قبلہ امیرِاَہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اپنی خلافت واجازت سے بھی نوازا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّوَجَلَّ  ! کثرتِ مطالعہ ، بحث وتمحیص اوراَکابر علَماء ِکرام سے تَحْقِیق وتَدْقِیق کی وجہ سے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکو مسائلِ شَرْعیہ اورتصوّف واَخلاق پر دسترس ہے ۔ صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی شہرۂ آفاق تالیف ’’بہارِ شریعت‘اورامامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کے فتاویٰ کا عظیم الشان مجموعہ ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ عموماً آپ دَامَتْ



Total Pages: 64

Go To