Book Name:Sharah Shajra Shareef

رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے سر کی آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ   تَعَالٰیعلیہ وسلم کا دیدار کیا۔ آپ تعظیماً کھڑے ہوگئے اور درود شریف کے بقیہ اعداد پورے کئے۔ درود شریف تمام ہونے تک آقا ئے دوعالم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپکے پاس تشریف فرما رہے ۔

(17)دل کو اچھا تَن کوسُتھر ا جان کو پُر نور کر

اچھے  پیارے شَمْسِ دِیں بَدْرُالْعُلیٰ کے واسِطے (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

مشکل الفاظ کے معانی :

شمس : سورج

بدرالعلیٰ : بلندیوں کا چاند

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

         یا اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ    تجھے حضرت سَیِّد شاہ آلِ اَحمد اچھے میاں مارِہروی   علیہ رحمۃ اللہ  القوی کا واسطہ جو’’شَمْسِ دِیں ‘‘ (یعنی دینِ متین کے چمکتے سورج )اور ’’بَدْرُالْعُلیٰ‘‘ (یعنیبلندیوں کے چاند) ہیں ، میرے دل کو اچھااور تن کو ستھرا بنادے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے چھتیسویں شیخِ طریقت یعنیحضرت سَیِّد شاہ آلِ اَحمد اچھے میاں مارِہروی   علیہ رحمۃ اللہ  القوی کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :     

(36)حضرتِ سیِّد آلِ احمد اچھے میاں مارہروی علیہ رحمۃ اللہ  الباری

        حضرتِ    سَیِّد شاہ آلِ اَحمد اچھے میاں مارِہروی   علیہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی کی ولادتِ باسعادت۲۸ رمضان المبارک ۱۱۶۰؁ھ میں ہوئی۔ اسمِ گرامی آلِ احمد اورلَقَب اچھے میاں ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عُلومِ ظاہری و باطنی ا ور مناز لِ سُلوک کی تکمیل اپنے و ا لدِ ماجد حضرتِسیِّد شاہ حمزہ مارہروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے فرمائی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحضرت سید شاہ حمزہ نور اللہ  مرقدہ‘ کے ہی خلیفہ و سجادہ نشین ہیں ۔ آپ کے مریدین کی تعداد ایک اندازے کے مطابق قریب دو لاکھ تھی۔آپ نے سرطان (کینسر) کی بیماری میں مبتلاء رہ کر  ۱۷ ربیع النّور ۱۲۲۵ھ کو وِصال فرمایا۔آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزارِ مقدس مارہرہ شریف میں مرجع خلائق ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

برص زدہ اچھا ہوگیا

         ایک مرتبہ ایک برص زدہ سپاہی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور دُورہی کھڑا رہا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : ’’بھائی آگے آؤ؟‘‘وہ عرض کرنے لگا : ’’ حضور !میں اس قابل نہیں ہوں ۔‘‘پھر فرمایا : ’’ آگے آؤ۔‘‘وہ شخص آگے آیا تو جس جگہ سفید داغ تھا حضرت نے اپنے دست مبارک کو رکھا اور ارشاد فرمایا کہ یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے ۔جب سپاہی نے اس جگہ دیکھا تو سفید داغ بالکل غائب تھا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

تین بیٹوں کی بشارت

        خلیفہ محمد ارادت اللہ  بدایونی نامی آپ کے ایک مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خدا وند  تَعَالٰیایک بیٹا عطافرمائے۔ایک مرتبہ حضور صاحب البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رُوبرو کھڑے تھے ۔دریائے سخاوتِ عرفانی جوش پر تھا ۔ارشاد فرمایا : ’’ارادت اللہ  کیا چاہتے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ غلام کو کوئی فاتحہ خواں (یعنی بیٹا)نہیں ہے۔‘‘حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے دعا کی : ’’یارب کریم عَزَّوَجَلَّ  ہمارے ارادت اللہ  کو فرزند دیدے۔‘‘اس کے بعد فرمایا :  خلیفہ!پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش اورتیسرے کا نام الٰہی بخش رکھنا۔خلیفہ موصوف قدموں میں گر پڑے اور عرض کرنے لگے : ’’ حضور !مجھے تو ایک کی بھی اُمید نہیں تھی ۔‘‘ توحضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنے سرمبارک کا کلاہ (ایک خاص قسم کی ٹوپی)دینے کے بعد ارشاد فرمایا : ’’ خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے۔‘‘خلیفہ ارادت اللہ  واپس ہوئے ۔جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی اوران کے ہاں بیٹا پیدا ہو ا۔ خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ۔یہاں تک کہ تین سالوں میں 3 بیٹے ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے حکم کے مطابق رکھا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(18)دو جہاں میں خاد مِ آلِ رسولُ اللہ   کر

 



Total Pages: 64

Go To