Book Name:Sharah Shajra Shareef

الغنی آپ ہی کے خلیفہ ہیں ۔حضرت ابوسعید مخزومی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی خود فرماتے ہیں :  شیخ عبدالقادرعلیہ رحمۃ اللہ  القادر نے خرقہ مجھ سے پہنا اور میں نے ان سے اور ہر ایک نے دوسرے سے تبرک لیا (یعنی برکت حاصل کی )۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال شریف ۷ شعبان المعظم    ۵۱۳ھ کو بَغداد شریف میں ہوا۔مزارِ مبارَک مدرَسہ بابُ الازج بَغداد میں ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(8)قادِری کر، قادِری رکھ ، قادِریوں میں اُٹھا

 قَدْرِ  عبدُ القادِرِ  قُدرَت نُما کے واسِطے

   مشکل الفاظ کے معانی :

قدر : عزت ومنزلت

قُدرت نُما : قدرت کا مظہر

دُعائیہ شعر کا مفہوم :

        یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  تجھے حضر ت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی جوقُدْرَت نُما یعنی تیری قُدْرَت کے مظہر ہیں ، اُن کی قدر و منزلت اور عظیم رُتبے کا واسطہ مجھے قادِری بنا قادِری ہونے پر استقامت دے اور بروز قیامت ان کے غلاموں میں اٹھا ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   

وضاحت :

         غوث ِاعظم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے نامِ پاک ’’عبدالقادِر ‘‘ کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ لفظی مناسبت ہوجائے۔ اگر یہاں لفظِ قادِری کے ساتھ آپ کا لقب غوث اعظم ذکر کیا جاتا تو لفظ مختلف ہوجاتا ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے سترہویں شیخِ طریقت یعنی حضور ِ سیِّدُناغوثِ اعظم  شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی  کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے۔ ان کے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(17)غوثُ الاعظم سیِّدُنا عبدالقادر جیلانی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی

        حضرتِسیِّدُنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی کی ولادتِ باسعادت یکم رمضان ۴۷۰ھ جمعۃ المبارک کو گیلان میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی کنیت ابومحمد اور محی الدین ، محبوبِ سبحانی، غوثِ اعظم ، غوث ثقلین وغیرہ القابات ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے والدِ بزرگوار کانام حضرت سیدنا ابوصالح موسیٰ جنگی دوست اور والدۂ محترمہ کا نام اُمّ الخیر فاطمہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِوالد کی طرف سے حَسَنی اور والدہ کی طرف سے حُسینی سید ہیں ۔امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :     

تُوحسینی حَسَنی کیوں نہ محی الدین ہو

اے خضر مجمع بحریں ہے دیار تیرا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

18پارے زبانی سُنا دئیے

        جب آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی عمر 4سال کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد سیدنا ابوصالح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کو مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاستاذ کے سامنے آپ دوزانو ہو کر بیٹھ گئے ۔استاذنے کہا پڑھو :  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط!تو آپ نے بسم اللہ  شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الٓم سے لیکر مکمل 18 پارے استاذ کو زبانی سنا دئیے۔ استاذ نے حیرت سے دریافت کیا کہ : ’’ یہ کب پڑھا اور کیسے یاد کیا ؟‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے جواب دیا : ’’ میری والدہ ماجدہ 18 سپارے کی حافظہ ہیں ، جب میں شکم مادر میں تھاتووہ اکثر ان کو پڑھا کرتی تھیں لہٰذا یہ  سپارے سنتے سنتے یاد ہوگئے۔‘‘

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم کیلئے۴۸۸ھ میں بغداد تشریف لائے اور اپنے زمانہ کے معروف اساتذہ اور آئمہ فن سے اکتسابِ فیض کیا ۔ آپ کے اَساتذہ میں ابوالوفاعلی بن عقیل حنبلی، ابو زکریا یحیٰی بن علی تبریزی، ابوالغالب محمد بن حسن باقلائی اور ابو سعید محمد بن عبدالکریم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم جیسے نہایت نامور اور معروف بزرگ ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِنے علومِ قرآن کو روایت و درایت اور تجوید و قرأت کے اسرار و رموز کے ساتھ حاصل کیا اورزمانے کے بڑے محدثین اور اہل فضل و کمال و مستند علماء کرام سے سماع حدیث فرماکر علوم کی اس شاندار طریقے سے تحصیل و تکمیل فرمائی کہ اپنے ہم عصر علماء میں نمایاں مقام پالیا اور ان کے بھی مرجع بن گئے ۔

 



Total Pages: 64

Go To