Book Name:Sharah Shajra Shareef

        عبدالواحد کا معنی ہے ایک خداکا بندہ ، چُنانچہ عبدالواحد (یہ بزرگ کا نام ہے)کے ساتھ’’ ایک کا رکھ‘‘ دعا مانگنے میں یہ مناسبت ہے کہ دونوں کلمات میں ’’ایک‘‘ کا معنی ہے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 تذکرہ :

        اس شعر میں سلسلہ ٔ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ کے بارہویں اورتیرہویں  شیخِ طریقت یعنیحضرتِ سیدنا ابو بکر شبلی علیہ رحمۃ اللہ  الولی اور حضرت ِ سیِّدُنا عبدالواحدعلیہ رحمۃ اللہ  الواحد  کے وسیلے سے دُعا کی گئی ہے ۔ ان دونوں بُزُرگوں رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مختصر حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں :

(12) حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر شبلی علیہ رحمۃ اللہ  الولی

        حضرتِسیِّدُناشیخ ابوبکر شبلی علیہ رحمۃ اللہ  القوی کی پیدائش بغداد کے نواحی علاقے سامرہ میں ۲۴۷؁ھ میں ہوئی ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا نام جعفر اور کنیت ابوبکر ہے۔ آپ کو شبلی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ آپ موضع شبلہ یا شبیلہ میں رہنے والے تھے۔

        آپ نے حضرت جنیدِ بَغدادی  علیہ رحمۃ اللہ  الھادی کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کی اور خلافت سے نوازے گئے ۔آپ نے شیخ کی خدمت میں رہ کر بہت ہی ریاضت و عبادت کی۔ حدیث کی مشہور کتاب مؤطا امام مالک آپ کو زبانی یاد تھی۔

        آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکا وصال ۲۷ ذوالحجۃ الحرام ۳۳۴ھ کو 88برس کی عمر میں ہوا۔آپ کا مزارِ پُرنُور بغداد شریف میں سامرہ کے مقام میں ہے۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عیسائی طبیب مسلمان ہو گیا

        حضرت سَیِّدُناشیخ شبلی علیہ رحمۃ اللہ  القوی ایک مرتبہ بہت بیمار ہوگئے ۔ لوگ آپ کو علاج کے لئے ایک شفاء خانے لے گئے ۔ شفاء خانے میں بغداد کے وزیر علی بن عیسیٰ نے آپ کی حالت دیکھی تو فوراًبادشاہ سے رابطہ کیا کہ کوئی تجربہ کار معالج بھیجئے۔ بادشاہ نے ایک عیسائی طبیب ِ حاذق کو بھیج دیا ۔ اس نے شیخ کے علاج کے لئے سرتوڑ کوششیں کیں لیکن آپ کو شفاء نہ ہوئی ۔ایک دن طبیب کہنے لگا ، ’’اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے پارۂ گوشت سے آپ کو شفاء مل جائے گی تو اپنے بدن کا گوشت کاٹ کر دینا بھی مجھ پر کچھ گراں نہ ہوتا ۔‘‘        یہ سن کر شیخ شبلی علیہ رحمۃ اللہ  القوی نے ارشاد فرمایا، ’’میرا علاج اس سے بھی کم میں ہوسکتا ہے ۔‘‘ طبیب نے دریافت کیا ، ’’وہ کیا؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’زُنّار(کمر میں باندھا جانے والا دھاگہ جو کہ عیسائیوں کی مذہبی علامت ہے) توڑ دے اور مسلمان ہوجا۔‘‘ یہ سن کر اس نے عیسائیت سے توبہ کرلی اور مسلمان ہوگیا اور اس کے مسلمان ہونے پر شیخ شبلی علیہ رحمۃ اللہ  القوی بھی تندرست ہو گئے ۔(روض الریاحین ، الحکایۃ الرابعۃ والثلاثون بعد المئۃ، ص۲۱۲)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

(13)حضرتِ سیِّدُناشیخ عبدالواحد تمیمی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی

        حضرتِسیِّدُناشیخ  ابوالفضل عبد الواحد تمیمی علیہ رحمۃ اللہ  الغنی کو تمیمی اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ عرب کے قبیلے بنوتمیم سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ حضرت شیخ عبدالعزیز تمیمی علیہ رحمۃ اللہ  الغنیکے جگر گوشہ ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے زمانہ کے ممتاز ترین مشائخ میں سے ایک ہیں ۔عبادت و ریاضت و تقویٰ اور عبادت میں یگانہ روزگار تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے حضرت ابو بکر شبلی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِسے بیعت کی اور انہی کی صحبت میں رہ کر راہِ سلوک کی منازل طے کیں اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔آپ عادات و خصائل میں اپنے پیرومُرشد حضرت ابو بکر شبلی رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے آئینہ دار تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحضرت امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکے مُقَلِّد تھے ۔ آپ نے ۲۶ جمادی الثانی  ۴۱۰ھ کو داعیٔ اجل کو لبیک کہا ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مزارِ پُر انوار بغداد شریف میں ہے ۔

اللّٰہ  عَزّوَجَلَّ  کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7)بُو الْفَرَح   کا صدْقہ کر غم کو فَرَح ، دے حُسن وسَعد (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ)

بُوالْحَسَن   اور بُو سَعیدِ  سَعْدزا کے واسِطے  (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِما)

  مشکل الفاظ کے معانی :

بوالفرح : خوشی والا

فرح : خوشی

 حُسن : اچھائی وبھلائی

 سعد : خوش بختی

 



Total Pages: 64

Go To