Book Name:Sharah Shajra Shareef

قُبُور سے گفتگو فرمالیا کرتے تھے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(3)حضرتِ سیِّدُنا امام حُسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ

        نواسۂ رسول ، جگرگوشۂ بتول امامِ عالی مقام حضرتِ سیِّدُناحسین بن علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی پیدائش ۵ شعبان المعظم ۴ھمیں  مدینۂ منورہ میں ہوئی ۔ نانائے حَسَنَین، رحمتِ دارین، تاجدارِ حَرَمَین، سرورِ کَونَین صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے داہنے کان میں اذان دی اور بائیں میں تکبیر پڑھی اور اپنے دہن مبارک سے تحنیک فرمائی اور دعاؤں سے نوازا۔ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور ایک بکری سے عقیقہ کیا اور آپ کی والدۂ محترمہ خاتونِ جنت حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ارشاد فرمایا :  حسنرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ(یعنی حضرتِ علی رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے بڑے بیٹے)کی طرح اس کا سرمنڈا کر بالوں کے برابر چاندی خیرات کرو۔‘‘امامِ حسینرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی کنیت ابوعبداللہ  اور مشہور القابات سیدالشہدائ، شہیدِ کربلا، ذکی ، مبارک ، سبطِ رسول ، ریحانۃ الرّسول ہیں ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے آغوشِ رسالت میں تربیت پائی ۔آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے نانا جان حضور پُرنُور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ سے بہت محبت فرماتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : ’’حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُمجھ سے ہے اورمیں حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے ہوں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  دوست رکھے اسے جوحسینرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکودوست رکھے، حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسبط ہے اسباط سے ۔‘‘ (سنن الترمذی، کتاب المناقب، الحدیث۳۸۰۰، ج۵، ص۴۲۹)

جدائی گوارا نہ فرمائی

        ایک روزنبی کریم رء وف رحیم صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے داہنے زانوپرامامِ حسینرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاوربائیں پر حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صاحبزادے حضرتِ ابراہیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُبیٹھے تھے ، حضرت جبریلعلیہ السلام نے حاضرہوکر عرض کی کہ’’ان دونوں کوخدا حضورصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس نہ رکھے گاایک کواختیارفرمالیجئے۔ حضور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے امامِ حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی جدائی گوارا نہ فرمائی ، تین دن کے بعد حضرت ابراہیم رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکا انتقال ہو گیا ۔اس واقعہ کے بعد جب حضرت حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُحاضر ہوتے، آپصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بوسے لیتے اور فرماتے :   ’’ ایسے کومرحباجس پر میں نے اپنا بیٹاقربان کیا۔ ‘‘  (تاریخ بغداد، ج۲، ص۲۰۰)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

غلام کو آزاد کر دیا

        آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنہایت رحم دل ، سخی ، عبادت گزار ، تقویٰ شعار اور عفوودرگزر کا پیکر تھے ۔ایک دن آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُچند مہمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے ، غلام گرم گرم شوربے کا پیالہ دستر خوان پر لاتے ہوئے رُعب سے کانپا جس کی وجہ سے شوربے کا پیالہ گر کر ٹوٹ گیا اور شوربہ آپ کے رخسار مبارک پر پڑ گیا۔ آپ نے اس کی طرف نگاہ اٹھائی تو اس نے نہایت عجز وادب سے عرض کیا :  ’’وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ‘‘(یعنی غصہ پینے والے(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ہیں ) ) آپ نے فرمایا :  ’’کَظَمْتُ غَیْظِی یعنی میں نے اپنا غصہ پی لیا ۔ ‘‘غلام نے پھر کہا :  ’’وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ‘‘(یعنی لوگوں سے درگزر کرنے والے(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے محبوب ہیں ))‘‘ آپ نے فرمایا ’’قَدْ عَفَوْتُ عَنْکَ یعنی میں نے تم کو معاف کر دیا ۔‘‘ غلام نے کہا :  ’’وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘(یعنی نیک لوگ اللہ  کے محبوب ہیں ) ‘‘آپ نے فرمایا :   ’’اَنْتَ حُرٌّ لِوَجْہِ اللّٰہ یعنی میں نے تجھے اللّٰہ  تَعَالٰیکی رضا و خوشنودی کے لئے آزاد کر دیا ۔ ( روح البیان ، ج۲ ، ص ۹۵، تحت الاٰیۃ۱۳۴ ، اٰل عمران)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد   

شہیدِ کربلا

        صحابی ٔ رسول حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے بعد  ۶۰؁ھ میں یزید پلید تختِ سلطنت کو اپنے ناپاک قدموں سے روندتے ہوئے خُود ساختہ بادشاہ بن بیٹھا ۔اس نے تمام گورنروں کو اپنی بیعت کے لئے خطوط روانہ کئے اور عاملِ مدینہ ولید بن عقبہ کو لکھا کہ وہ حضرت ِ امام حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے بھی بیعت لے ۔ ولید بن عقبہ نے رات کے اندھیرے میں آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُسے فوری بیعت کا مطالبہ کیا تو آپ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُنے صاف انکار کردیا جس کی وجہ صاف ظاہر تھی کہ یزید ایک شرابی ، ظالم اور فاسق وفاجر شخص تھا ۔ماہِ شعبان ۶۰ ؁ھ کی اِسی رات امامِ حسین رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُاپنے نانا جان صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں آخری سلام عرض کرنے کے بعد مع اہل وعیال مکۃ المکرمہ

Total Pages: 64

Go To