$header_html

Book Name:Imam Malik Ka ishq-e-Madina

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

امام مالک کا عشقِ مدینہ

دُعائے عطار : یارَبَّ المصطفٰے : جو کوئی 17صفحات کا رسالہ’’امام مالک کا عشقِ مدینہ ‘‘پڑھ یا سُن لے ، اُسے حضرت امام مالک   رحمۃُ اللہِ علیہ   کے صدقے عشقِ مدینہ سے مالا مال فرما ، اُسےبار بار مدینۂ پاک کی بااَدب حاضِری نصیب فرمااوراُس کو بے حساب بخش دے۔       اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

                             فرمانِ آخری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : جس نے یہ دُرُود شریف پڑھا “ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِهٖ وَسَلِّمْ “ اگر کھڑا تھاتو بیٹھنے سے پہلے اوربیٹھا تھا تو کھڑے ہونے پہلے اُس کی مَغْفِرت کردی جائے گی۔ (سعادۃالدارین ، ص244)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب                                                                                                        صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

امام مالک رحمۃُ اللہِ علیہ  کا تعارُف

کروڑوں مالکیوں کے عظیم پیشوا ، حضرت امام مالک بن اَنَس  رحمۃُ اللہِ علیہ    کا نام  “ مالک “   اور کنیت “ ابو عبد اللہ “ ہے ۔ آپ چار مجتہد اماموں میں سے ایک مشہور امام اور تبع  تابعی([1])  ہیں۔ آپ کی ولادت مشہور قول کے مطابق 93 ھ میں مدینہ شریف میں ہوئی اور مدینۂ پاک میں ہی آپ کاانتقال شریف ہوا۔ (تہذیب الاسماءواللغات ، 2 / 386۔ سیر اعلام النبلاء ، 7 / 382 ، رقم : 1180۔ الاعلام للزرکلی ، 5 / 257ملتقطا) 

حصولِ علم

امام مالک  رحمۃُ اللہِ علیہ  نے جب علمِ دین حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو اِس خواہش کا اظہار  اپنی امی جان سے کیا  اور اُن سے علم حاصل کرنے کے لیے جانے کی اجازت مانگی۔  والدہ نے انہیں کپڑے پہنا کر تیار کیا ، سر پر ٹوپی رکھی  اور اس پر عمامہ باندھا ۔  پھر فرمایا : اَب جاؤ اور علم سیکھو  ۔ (ترتیب المدارک ، 1 / 150 ملخصاً )

آپ  رحمۃُ اللہِ علیہ   کے اساتذہ میں زیادہ تر مدینہ شریف کے بزرگانِ دین شامل تھے ،  علامہ زُرقانی  رحمۃُ اللہِ علیہ  لکھتے ہیں : آپ نے نو سو (900)سے زیادہ مشائخ سے علم حاصل کیا ۔ (شرح الزرقانی علی الموطا ،  1 / 35) امام مالک  رحمۃُ اللہِ علیہ  کا حافظہ (Memory) بہت اعلیٰ درجے کا تھا ، آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس چیز کو میں نے یاد   کرلیا پھر اسے کبھی نہیں بُھولا۔ (بستان المحدثین ، ص 16)

عالِمِ مدینہ کون ہيں؟

امام مالک  رحمۃُ اللہِ علیہ  وہ عالِم ہیں جن کی خوشخبری اللہ پاک کےپیارے پیارے آخری نبی ، مکی مَدَنی ، محمدِ عربی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشادفرمائی تھی۔ چنانچہ حضرت امام محمد بن عیسیٰ ترمذی  رحمۃُ اللہِ علیہ  اپنی کتاب “ جَامِع تِرْمِذِی “ میں حدیث شریف روایت  فرماتے ہیں : عنقریب لوگ علم کی تلاش میں تیز رفتاری سے سفر کریں گے لیکن وہ مدینہ کے عالم سے زیادہ علم والا کسی کو نہیں  کو پائیں گے۔ ( ترمذی ، 4 / 311 ، حدیث : 2689مفہوما)

دوسری حدیث ِ پاک میں ہے : دُنیامیں اُس (عالِمِ مدینہ) سے بڑھ کر کوئی عالم نہ ہو گا ، لوگ اس کی طرف سفر کر کے آئیں گے۔  (ترتیب المدارک وتقریب المسالک ، 1 / 69 ، 68)

حضرتِ سفیان بن عُیَیْنَہ  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے پوچھا گیا کہ “ عالمِ مدینہ “ کون ہیں؟ تو انہوں

نے فرمایا : بے شک وہ حضرت امام  مالک بن انس  رحمۃُ اللہِ علیہ ہیں۔ حضرت عبد الرزّاق  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : (عالمِ مدینہ سے مراد) حضرت امام مالک بن انس  رحمۃُ اللہِ علیہ   ہیں۔

    ( ترمذی ، 4 / 311 ، حدیث : 2689)

بادشاہ کا دَروازہ

امام مالک  رحمۃُ اللہِ علیہ   سے علمِ دین حاصل کرنے والے خوش نصیب لوگ دور دور سے سفر کرکے آپ کے پاس حاضر ہوتے تھے ۔ آپ کے دروازے پر حدیث اور فِقہ سیکھنے والوں کا یوں رَش (Crowd) ہوتا تھا جیسے کسی بادشاہ کے دروازے پر ہوتا ہے ۔     (سیر اعلام النبلاء ، 7 / 387 ، شرح الزرقانی علی الموطا ،  1 / 35 )

علمی شان وشوکت

حضرت یحییٰ بن سعید قطّان  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں سِن 144 ہجری میں حاضر ہوا۔ اُس وقت حضرت امام مالک  رحمۃُ اللہِ علیہ  کی داڑھی شریف اورسر مبارک کے بال کالےتھے۔ لوگ آپ  کے گِرد خاموش بیٹھے تھے۔ آپ کے رُعب کی وجہ سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ تھی۔ مسجد ِ نبوی شریف  میں آپ کے علاوہ کوئی فتویٰ نہ دیتاتھا۔ میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا اور ایک سوال کیا توآپ نے مجھے حدیثِ پاک سے جواب دیا۔ میں نے پھر سوال کیا تو آپ نے پھر جواب ارشاد فرمایا۔ پھرآپ کے دوستوں نے مجھے جھنجھوڑا تو میں خاموش ہو گیا۔  (ترتیب المدارک وتقریب المسالک ، 2 / 29)

 



[1]تابعی سے مراد وہ شخص ہے جس نے صحابی سے بحالتِ ایمان ملاقات کی اور اس کا خاتمہ بھی ایمان پر ہوا اور تبع تابعی سے مراد وہ شخص ہے جس نے تابعی سے بحالتِ ایمان ملاقات کی اور اس کا خاتمہ بھی ایمان پر ہوا ۔ (لغۃ الفقہا،  ص 117)



Total Pages: 6

Go To
$footer_html