Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

ولاد تِ باسعادت :

           آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یکم رجب ۸۴۹ہجری  مصر کے شہر قاہرہ میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے آباواجداد کا تعلق چونکہ مصر کے قدیم قصبہ سیوط سے ہے ، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتاہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ابھی پانچ برس کے تھے کہ والدِگرامی قدس سرہ السامی انتقال فرماگئے  ۔

 تعلیم وتربیت :

             امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   صرف نامور مصنف ، بلند پایہ مفسر ، محد ث ، فَقیہ، ادیب، شاعر، مؤرّخ اورماہر لغت ہی نہ تھے بلکہ اپنے زمانے کے مجدِّدبھی تھے  ۔ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا حافظہ نہایت قوی تھا، آٹھ برس کی عمرمیں قرآن مجیدحفظ کرلیاپھردیگر علوم وفنون کے حصول میں مصروف ہوگئے ، علمِ حدیث میں علم حدیث میں امام شیخ تقی الدین شبلی حنفی علیہ رحمۃ اللہ الغنی، شیخ الاسلام صالح بن عمر بُلقینی علیہ رحمۃ اللہ القوی اور دیگرجلیل القدر محدثین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی سے استفادہ کیا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے تصوف اور سلوک کی منازل مشہور صوفی بزرگ شیخ کمال الدین محمد بن محمد مصری شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَافِی کے زیر سایہ طے کیں اورانہی کے دستِ مبارک سے خرقۂ تصوف پہنا او ر خَلقِ خدا کو فیض یاب کیا ۔

            آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو۸۷۱ہـ میں جَامِعَہ شَیْخُوْنِیَہ میں شیخ الحدیث کا منصب ملا ، اسی جامعہ میں درس وتدریس کے دوران قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی کتاب ’’اَلشِّفَاءُ بِتَعْرِیْفِ حُقُوْقِ الْمُصْطَفٰی‘‘آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حلقہ درس میں مکمل ختم ہوئی ۔

تقویٰ وپرہیزگاری :

             آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  تقویٰ وتزکیہ کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے ، اکثر اوقات یا د الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں مستغرق رہتے ، نمازِ تہجد با قاعدگی سے ادا فرمایا کرتے تھے ، اگرکبھی رہ جاتی تو اتنے پر یشان ہوتے کہ بیمار پڑجاتے  ۔

حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے لقب عطافرما یا :

          علوم حدیث میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی ذات سے مسلمانانِ عالم نے بڑا فیض حاصل کیا، علمِ حدیث میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے شیخ الحدیث کا لقب عطا ہوا  ۔ چنانچہ،

            آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   خود فرماتے ہیں کہ ربیع الاول ۹۰۴ھ جمعرات کی شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میں دربارِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں حاضر ہو ں ، میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حدیث پاک کے بارے میں اپنی ایک تالیف کاتذکرہ کرتے ہوئے عرض کی : ’’اگراجازت مرحمت فرمائیں تواس میں سے کچھ پڑھ کرسناؤں ؟‘‘حضورِ اَکرم، رسولِ محتشَم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’سناؤشیخ الحدیث!‘‘مجھے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا شیخ الحدیث کے الفاظ سے یادفرمانادنیاومافیہاسے اچھا معلوم ہوا ۔ ‘‘(جامع الاحادیث، ج۱، ص۱۲)

75مرتبہ دیدارِمصطفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم :  

            آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   بہت بڑے عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تھے ، اوراس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو 75مرتبہ حالتِ بیداری میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی ۔

تصانیف :

            آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کو اپنی ذہانت کی بنا پر دولاکھ احادیث یادتھیں ۔ علمِ حدیث میں دو سوسے زائد کتابیں تصنیف کیں ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  جلیل القدر مفسِّر بھی تھے ۔ تفسیربالماثور میں ’’الدرالمنثور‘‘ اور بیانِ لغت میں ’’جلالین‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی قرآن فہمی کا واضح ثبوت ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   تصنیف وتالیف کے میدان میں اپنی مثال آپ تھے ، کثرتِ تالیفات میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو نہایت بلند مقام حاصل ہے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی تصانیف وتالیفات پانچ سو سے زائد ہیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی چند مشہور کتابوں کے نام یہ ہیں  :

 



Total Pages: 67

Go To