Book Name:Saya e Arsh Kis Kis ko Milay ga?

          مکارم الاخلاق میں حضرت سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اسی سند کے ساتھ مرفوعاً روایت ہے کہ’’ جس نے بھوکے کو کھانا کھلایا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا ۔ ‘‘(مکارم الاخلاق ، باب فضل اطعام الطعام ، الحدیث ۱۶۴، ص ۳۷۳)

 دوسری حدیثِ پاک

          حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کافرمانِ ذیشان ہے : ’’سچاتاجر قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہوگا ۔ ‘‘(الترغیب والترھیب ، کتاب البیوع وغیرھا، الحدیث  : ۲۷۶۹، ج۲، ص ۳۷۳)

حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی مرسل احادیث :

(۱)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ایک مرسل حدیث مروی ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں  : ’’ ہم یہ حدیث بیان کیاکرتے تھے کہ سچ بولنے والا امانت دار تاجر (سایۂ عرش پانے والے )سات افرادکے ساتھ قیامت کے دن عرش کے سائے میں ہو گا ۔ ‘‘( تفسیر طبری ، سورۃ النسآء تحت الایۃ (۲۹)یأیھا الذین امنوا لاتا کلوا اموالکم بینکم الایۃ، الحدیث۹۱۴۵، ج۴، ص ۳۴)

(۲)…حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت  سیِّدُنا  سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا : ’’سچا امانتدار تاجرقیامت کے دن (سایۂ عرش پانے والے )سات افراد کے ساتھ عرش کے سائے میں ہو گا ۔ ‘‘(شعب الایمان ، باب فی مقاربۃ وموادۃ اھل الدین، الحدیث ۹۰۲۹، ج۶، ص۴۹۴)

حدیثِ پاک کے شواہد ([1])

          ’’الترغیب و الترہیب ‘‘میں اس حدیث کے شواہد موجود ہیں ۔ چنانچہ ،

(۱)…حضرت سیِّدُنا ابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ’’ سچاامانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء علیہم السلام ، صدیقین اورشہداء کے ساتھ ہوگا  ۔ ‘‘( جامع الترمذی ، ابواب البیوع ، باب ماجاء فی التجار ۔ ۔ ۔  ۔ الخ، الحدیث۱۲۰۹، ص۱۷۷۲)

(۲)…حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ’’ سچاامانت دار مسلمان تاجر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا ۔ ‘‘( سنن ابن ماجہ، ابواب التجارات، باب الحث علی المکاسب ، الحدیث ۲۱۳۹، ص ۲۶۰۵)

 تیسری حد یثِ پاک

ناسمجھ کے ساتھ تعاون کی فضیلت :

          حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناہے :  ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس شخص کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطافرمائے گا جس نے تنگدست کو مہلت دی یاکسی ناسمجھ کے ساتھ تعاون کیا ۔ ‘‘(المعجم الاوسط ، من اسمہ محمود ، الحدیث۷۹۲۰، ج۶، ص۴۰)

چوتھی حد یثِ پاک

بیوہ ویتیم کی کفالت کاثواب :

          حضرت سیِّدُناجابربن عبداللہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض



[1]    اگردوحدیثیں ایک صحابی سے مروی ہوں توپہلی کو’’مُتَابَع‘‘اور دوسری کو’’مُتَابِع‘‘کہتے ہیں ۔ اگریہ دونوں حدیثیں لفظًاومعنیً موافق ہوں تودوسری’’ مُتَابِع‘‘کو’’مِثْلُہٗ‘‘اوراگرصرف معنیً موافق ہوتو’’نَحْوُہٗ‘‘کہاجاتاہے ۔ (شَوَاہِدجمع ہے شَاہِدکی)اگریہ دو حدیثیں دوصحابیوں سے مروی ہوں تودوسری کوپہلی کا’’شَاہِد‘‘ کہتے ہیں ۔



Total Pages: 67

Go To